مریم نواز نےپی ٹی آئی کےاحتجاج کودہشتگردوں کاحملہ قراردیدیا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تحریک انصاف کے اسلام آباد میں احتجاج کو دہشت گردوں کا حملہ قرار دیدیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پی ٹی آئی کے احتجاج پرردعمل سامنے آگیا۔مریم نواز نے پی ٹی آئی کا احتجاج مسلح دہشتگردی کی کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ غازی بروتھا، میانوالی، ہزارہ موٹروے اور دیگر مقامات پر پولیس پوسٹوں پر فائرنگ کی گئی، ایس پی، ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوسمیت20سے زائدپولیس اہلکاروں کا حملوں میں زخمی ہونا افسوسناک ہے، پی ٹی آئی کا احتجاج، احتجاج کی بجائے مسلح دہشتگردی کی کاوش ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ مظاہرین کے پاس شارٹ مشین گن، آنسو گیس،چاقو اور ماسک وغیرہ بھی دیکھے گئے، ایسا اسلحہ استعمال ہوا جو صرف پولیس کے پاس ہوتا ہے۔پنجاب پولیس کو پہلے بھی تصادم سے بچنے کےلیےغیر مسلح رکھا گیا تھا اور اب بھی پولیس غیرمسلح ہے،ایک صوبےکی پولیس کا دوسرےصوبےپرحملہ قومی یک جہتی کو پارہ پارہ کرنےکےمترادف ہے۔
واضح رہےکہ تحریک انصاف کے کارکن قافلوں کی شکل میں اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں اورخیبر پختونخوا سےآنےوالے قافلوں کا کل رات اور آج مختلف مقامات پر پولیس سےآمنا سامنا ہوا ہے۔
پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنوں کو روکنے کیلئے اسلام آباد اور راولپنڈی میں کنٹینرز لگائے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ کوئی تجزیہ کار ہو یا صحافی نہیں کہےگا کہ بشریٰ بی بی سیاسی نہیں گھریلو خاتون ہیں۔ بشریٰ بی بی کنٹینر پر خطاب کےلیے کھڑی ہوئیں تو سامنے لوگ ہی نہیں تھے۔ بشری عدالت نامحرم کے ساتھ نہیں جاسکتیں لیکن قافلے میں لشکر کشی کےلیے آرہی ہیں۔ موکلوں کے کندھوں پر یا جنات پھاٹک پر کھڑےہیں کہ خان کو باہر نکالیں گے۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نےکہا ہےکہ پی ٹی آئی کی فائنل کال پٹ گئی، پنجاب سے صرف 80 لوگ باہر نکلے جنہیں گرفتار کر لیا گیا۔
صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کاکہنا تھاکہ کل فائنل کال اور انقلاب ڈےتھا، آپ نے پنجاب کےحالات دیکھ لیے،پنجاب اور لاہور میں لوگ کال پر لبیک کہتےباہر نظر نہیں آئے،کل آخری کال پر صرف 80 لوگ پورے پنجاب سے باہر نکلے،خیبرپختونخوا والوں کی ابھی تک آنکھ نہیں کھلی،خیبرپختونخوا والا انقلاب ابھی تک پڑا سو رہا ہے۔
