احتجاج کی فائنل کال کا نتیجہ فائنل ناکامی کی صورت میں کیوں نکلا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو تحریک احتجاج کہنا بے جا نہ ہوگا چونکہ اس نے گزشتہ 11 برس سے سڑکوں کو آباد کر رکھا ہے۔ انکا کہنا یے کہ عمران خان نے 2013 کے الیکشن کے بعد سے آج تک اپنے کارکنوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا۔ لیکن لگتا ہے کہ ان کی احتجاج کی فائنل کال واقعی فائنل ثابت ہوئی ہے اور اس کا حتمی نتیجہ 24 نومبر کو خان کے ساتھیوں کے اسلام آباد پہنچنے میں حتمی ناکامی کی صورت میں سامنے آ گیا ہے۔
مجیب شامی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ اگر ملک بھر سے چند ہزار افراد اسلام آباد میں جمع کر کے حکومتیں گرانے کا تجربہ کامیاب ہو جائے تو پاکستان میں کوئی حکومت بھی چل نہیں سکے گی۔ چھوٹی سے چھوٹی سیاسی یا مذہبی جماعت بھی ملک بھر سے چند ہزار افراد کو تو اکٹھا کر ہی سکتی ہے کیونکہ کروڑوں کی آبادی والے ملک میں چند ہزار کا مجمع لگانا امرِ محال نہیں ہو سکتا۔
انکا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں دھرنوں،احتجاج کے ذریعے حکومت گرانے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی گئی تو پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے۔
مجیب شامی کہتے ہیں کہ نواز شریف حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے لیے حضرت علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر جو دھرنا اوراحتجاج اسلام آباد میں دیا گیا تھا‘ وہ تو ہماری قومی سیاست کے ناقابلِ فراموش باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ طرزِ سیاست اب قومی شعار بن چکا ہے۔
گزشتہ کئی سال کے دوران کئی جماعتوں نے احتجاج کیلئے اسلام آباد کا رُخ کیا ہے اور دھرنوں کے ذریعے حکومت کو نشانہ بنانے یا اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کی ہے۔ حضرت مولانا فضل الرحمن کے زیر قیادت جمعیت العلمائے اسلام نے بھی اس کا مزہ چکھا اور چکھایا ہے تو حافظ نعیم الرحمن کے زیر قیادت جماعت اسلامی بھی اس بہتی گنگا میں اشنان کر چکی ہے۔
علامہ خادم حسین رضوی کی تحریک لبیک کا دھرنا تو عالمی شہرت اختیار کر گیا کہ اس نے شاہد خاقان عباسی کی حکومت کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دھرنا ٹیکنالوجی جنرل ظہیر الاسلام کی نگرانی میں ایجاد کی گئی۔ نواز شریف وزیراعظم تھے لیکن کچھ بھی ان کے بس میں نہیں تھا۔ اسلام آباد میں عمران پلس قادری دھرنا کے شرکا جو اول فول ارشاد فرماتے‘ ٹی وی چینلز پر جوں کا توں نشر ہو جاتا۔
حکومت نام کی شے کا مذاق بنا کر رکھ دیا گیا۔ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ ہم وزیراعظم کو گھسیٹ کر ایوانِ اقتدار سے نکال باہر کریں گے۔ جنرل ظہیر الاسلام نے‘ کہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ باقاعدہ پیغام بھجوایا کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائیں یا رخصت پر چلے جائیں۔ لیکن نواز شریف پہاڑ کی طرح کھڑے رہے‘ انہوں نے جھکنے یا پیچھے ہٹنے سے یکسر انکار کر دیا۔ چند روز بعد پشاور کے آرمی پبلک سکول کا سانحہ پیش آیا‘ دہشت گردوں نے بچوں کو نشانہ بنا کر پوری قوم کو ہلا ڈالا۔ منظر ایسا بدلا کہ دھرنا دینے والوں کو دھرنا سمیٹنا پڑا۔
شامی صاحب کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں چند ہزار افراد کا مجمع اکٹھا کر کے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کا ارادہ رکھنے والوں کی شدید سرکوبی ہونی چاہیے۔ ایک انتخابی حلقے کے رائے دہندگان کے چند فیصد کو یہ حق کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ کروڑوں ووٹوں سے قائم ہونے والی حکومت کو چلتا کر دیں۔ الحمد للہ اس وقت بھی دھرنا سازش ناکام ہوئی اور بعد میں بھی اسے کامیابی نہیں مل سکی۔
جب عمران خان وزیراعظم بنے اور انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی‘ تب بھی میں نے دھرنا رجحان کی شدت سے مخالفت کی اور اسے پاکستان کی سیاست ہی نہیں سالمیت کے لیے بھی تباہ کن قرار دیا۔ عمران کا اقتدار قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ختم کیا گیا۔ اس کی پس پردہ وجوہ کچھ بھی ہوں‘ سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ انہیں لانے والوں نے ہی ان کی رخصتی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ عمران خان کو تنِ تنہا قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ تحریک انصاف نے مختلف چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر اکثریت بنائی تھی‘ ان کی حمایت کرنے والی چھوٹی جماعتیں اس سے دستبردار ہو گئیں تو ان کے اقتدار کا جواز ختم ہو گیا۔
مجیب الرحمان شامی یاد لاتے ہیں کہ عمران خان پاکستان کے پہلے ایسے وزیراعظم قرار پائے جنہیں باقاعدہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ایوانِ اقتدار سے رخصت کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وزرائے اعظم فوجی طاقت سے نکالے گئے یا صدارتی اختیار کا نشانہ بنائے گئے جب صدر کے پاس قومی اسمبلی کی تحلیل کا آئینی اختیار تھا۔ صدر کا یہ صوابدیدی اختیار ختم کیا گیا تو عسکری حلقوں نے ایک اور راستہ نکال لیا۔
اب سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کر کے وزرائے اعظم کی درگت بنائی جانے لگی۔ یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف دونوں اسی طرح رخصت کیے گئے۔ عمران پہلے وزیراعظم تھے جنہیں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے محروم کیا گیا۔ لیکن انہوں نے ایک جمہوری پارلیمانی لیڈر کے طور پر ٹھنڈا پانی پی کر آگے بڑھنے کے بجائے اسے دل کا روگ بنا لیا۔ وہ فوجی قیات کے پیچھے پڑ گے، امریکہ پر بھی گرجے برسے‘ اور اسے ہدف بنا لیا۔ پاکستانی سفیر کے بھیجے گئے ایک سائفر کو لہرا لہرا کر دکھانے اور خود کو امریکی سازش کا نشانہ قرار دے کر لوگوں کے جذبات اُبھارنے لگے۔ پھر انہوں نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیا‘ اور بعد ازاں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں بھی اپنے نامزدہ کردہ وزرائے اعلیٰ سے تحلیل کرا دیں اور سڑکوں پر مارچ کرتے چلے لگے۔
عمران خان کےجو منہ میں آیا کہہ ڈالا‘ جس کو چاہا نشانہ بنا ڈالا‘ نتیجتاً نو مئی کا سانحہ رونما ہوا‘ جب ان کے حامیوں نے فوجی تنصیبات پر چڑھائی کر دی۔ نتیجتاً تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی‘ خان صاحب حوالہ ٔ زنداں ہوئے‘ ان کے کئی پُرجوش حامی انڈرگراؤنڈ چلے گئے تو کئی جیل کی ہوا کھانے پر مجبور کر دیے گئے۔
الیکشن 2024 میں وہ اکثریت کی حمایت حاصل نہ کر سکے لیکن ان کی جماعت قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری۔ خیبر پختونخوا کی حکومت ان کے حصے میں آ گئی لیکن پنجاب میں حزبِ اختلاف کی قیادت ہی مل سکی۔ خان صاحب پر درجنوں مقدمات قائم ہوئے‘ کئی ایک میں ان کی ضمانت ہو چکی لیکن ان کا پیمانۂ صبر لیربز ہے‘ وہ اپنی اور اپنے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ لے کر میدان میں اُتر آئے ہیں۔
مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ عمران خان گزشتہ انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے کر انہیں کالعدم کرانا چاہتے ہیں‘ اب ان کی بیگم بشریٰ بی بی بھی سیاسی طور پر سرگرم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے الزام لگا دیا ہے کہ جب خان صاحب نے ننگے پاؤں مدینہ کی مقدس سرزمین پر قدم رکھا تھا‘ سعودی ان کے مخالف ہو گئے تھے‘ گویا ان کی سیاست نے سعودی عرب کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ان کے مخالف تو کیا بہت سے حامی بھی اس پر انگشت بدنداں ہیں۔ خان صاحب کا احتجاج کیا نتیجہ لائے گا‘ اس سے قطع نظر ان سے یہ عرض کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ وہ احتجاج کے بجائے مذاکراتی سیاست کا رُخ کریں تو کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ اہلِ اقتدار ان کے احتجاج کا راستہ روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں‘ پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد تک جتھے نہ پہنچ سکیں۔ کوئی فریق کوئی بھی دعویٰ کرے‘ حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں ایک دوسرے کو ڈرانے کی صلاحیت وافر مقدار میں موجود ہے۔ دونوں اس کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
مجیب شامی کہتے ہیں کہ دونوں فریقین کے حق میں یہی بہتر ہے کہ وہ ایک دوسرے کو تسلیم کر لیں‘ ایک دوسرے کی طاقت کا اعتراف کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کی شکایات سنیں اور ان کا ازالہ کرنے کی کوشش بھی کریں۔ دونوں کے لیے سلامتی کا راستہ یہی ہے۔
