گلگت بلتستان الیکشن : نوازشریف کا انتخابی جلسے سے خطاب

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے گلگت میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹ ملے یا نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔انہوں نے کہا میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا،ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف کا کہنا تھا کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار سکردو اور گلگت گیا تھا،جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟میں چاہتا تھاکہ گلگت میں بہت ترقی ہو،گلگت میں سڑکوں پر گڑھے دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔
نوازشریف نےکہا کہ شاید لوگ انہیں بھول گئے ہوں،تاہم وہ آج اپنی پرانی یادیں تازہ کرنے اور عوام سے تجدید تعلق کےلیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزارتِ عظمیٰ سے قبل بھی وہ گلگت بلتستان آتےرہے ہیں اور اس خطے کے پہاڑوں،وادیوں اور عوام سے انہیں خصوصی لگاؤ ہے۔انہوں نے جذباتی انداز میں کہا ’آپ لوگ میرے دل میں بستے ہیں۔‘
مسلم لیگ (ن) کے قائد نے ایئرپورٹ سے جلسہ گاہ تک سفر کے دوران سڑکوں کی خستہ حالی پر افسوس کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ موجودہ صورت حال دیکھ کر انہیں شدید دکھ اور تکلیف ہوئی۔ایک وقت تھا جب ان کی حکومت نے شوق اور محنت سے ان علاقوں کےلیے سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھی تھی، تاہم یہ سلسلہ آگےنہیں بڑھ سکا۔وہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت پر تنقید نہیں کرنا چاہتے، لیکن دل یہ سوال ضرور کرتا ہےکہ گلگت بلتستان کو اس کی ضروری توجہ کیوں نہ مل سکی۔
نواز شریف نے کہاکہ ترقیاتی منصوبے عوام پر کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہیں۔اگر کسی دوسری جماعت نے بھی اس خطے میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھی ہو تو عوام ضرور بتائیں۔انہوں نے گلگت ایئرپورٹ کی موجودہ حالت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایئرپورٹ کی توسیع اور پروازوں میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھاکہ وہ وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات میں گلگت ایئرپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور یہاں جیٹ طیاروں کی سہولت فراہم کرنے کی بات کریں گے۔گلگت بلتستان میں ہفتے میں چند پروازوں کے بجائے روزانہ اور بڑی تعداد میں پروازیں ہونی چاہئیں تاکہ سیاحت، تجارت اور معیشت کو فروغ مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ جدید شاہراہوں اور بنیادی ڈھانچے کی بدولت سکردو اور دیگر علاقوں تک سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے،تاہم مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر حصوں سے مؤثر انداز میں جوڑنے کےلیے انفراسٹرکچر کی ترقی ناگزیر ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے،عوامی مسائل کا حل ان کی ذمہ داری ہے اور وہ ترقیاتی کاموں کو کبھی ووٹ سے مشروط نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہیں سیاسی نشیب و فراز، جلاوطنی اور قید جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن عوامی خدمت کا جذبہ کبھی کم نہیں ہوا۔وہ ماضی کے معاملات کو موضوع بحث نہیں بنانا چاہتے،تاہم گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھتےہیں۔اگر دوبارہ موقع ملا تو تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کےبعد اس مسئلے کو منطقی اور دیرپا انجام تک پہنچایا جائے گا۔
پنجاب پولیس کے پانچ ہزار اہلکاروں کو گلگت بلتستان الیکشن ڈیوٹی پر بھیجنے کا فیصلہ
نوازشریف نے کہا کہ اسلام آباد سے کراچی تک موٹرویز کا جال بچھ چکا ہے،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مانسہرہ سے گلگت بلتستان تک بھی جدید موٹروے تعمیر کی جائے تاکہ علاقے کو قومی معیشت کے دھارےسے مزید مؤثر انداز میں جوڑا جا سکے۔ گلگت بلتستان کو بھی وہی ترقیاتی سہولیات اور وسائل ملنے چاہئیں جو ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کو حاصل ہیں۔
