مجوزہ فوجی آپریشن پر خیبر پختونخوا میں تحفظات کیوں؟

پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اراکین اسمبلی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ قبائلی اضلاع اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کوئی نیا فوجی آپریشن شروع نہیں کیا جارہا بلکہ پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر ٹارگٹڈ آپریشن کو تیز کیا جائے گا۔

اس سے قبل سات اپریل کو وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی پرتشدد کاروائیوں کے پیش نظر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا ،بالخصوص افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں موجود مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کاروائیوں کا فیصلہ کیا گیا تھا۔جس پر علاقے کی آبادی اورسیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے درمیان تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

اس فیصلے سے پہلے پاکستان میں انتہا پسندوں کی جانب سے پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس میں فوج اور پولیس کے اہل کاروں کو ٹارگٹ کرنے کی کاروائیاں شامل ہیں۔تاہم چند ماہ پہلے اس علاقے کو انتہا پسند عناصر سے پاک کرنے کے لیے جرگوں اور دیگر پلیٹ فارمز پربڑے پیمانے پر حمایت کا اظہار کیا گیا تھا،اور اس کےحق میں ریلیاں بھی نکالی گئی تھیں۔ اس تبدیلی کی وجہ جاننے کے لئے وائس آف امریک نے مختلف مکتب فکر کے لوگوں سے بات کی ہے۔

افغانستان سے ملحق پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقوں میں 9/11 اور افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کاروائیوں کی داستان بہت طویل ہے ۔اب تک40 سے زیادہ کاروائیاں یا آپریشنز کئے گئے ہیں فوجی کاروائی کے دوران یا خاتمے پر سول، فوجی اور سیاسی عہدیدار دہشت گردوں کے خاتمے اور علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے دعویٰ کرتے رہےہیں۔

سب سے پہلی فوجی کاروائی 2003 کے اواخر اور 2004 کے اوائل میں جنوبی وزیرستان میں کمانڈر نیک محمد کے خلاف ہوئی۔ سال 2005 میں باجوڑ اور مہمند کے علاقوں میں مولوی فقیر محمد،عبدالولی مہمند اور دیگر کے خلاف اقدامات کیے گئے ۔2009 میں راہ راست کے نام سےسوات کے ملا فضل اللہ کے خلاف کاروائی کو بیشتر آبادی اور مبصرین سراہتے ہیں۔سال 2009 میں راہ نجات کے تحت جنوبی وزیرستان میں 2008 سے لیکر 2014 تک پشاور سے ملحقہ قبائلی ضلع خیبر میں لگ بھگ نصف درجن آپریشنز ہوئے جس میں خیبر ون سے تھری کے علاوہ درغلم اور بیا درغلم اور جون 2014 میں شمالی وزیرستان کا ضرب غضب سر فہرست ہیں۔

عسکریت پسندوں کے خلاف مجوزہ فوجی کاروائیوں کی کئی ترقی پسند اور قوم پرست سیاسی جماعتوں کا کہناہے کہ حکومت کونہ صرف عسکریت پسندی کے خلاف اپنی حکمت عملی واضح کرنی چاہئے بلکہ افغانستان کے بارے میں پالیسیوں پر اس لیے نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کہ وہاں پاکستان جن طالبان کی حمایت کر رہا ہے وہ ان پاکستانی طالبان کا ساتھ دے رہے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی اور پر تشدد کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔

اس نوعیت کی فوجی کاروائیوں کو شروع کرنے سے قبل ان افراد اور سابق سیکیورٹی عہدیداروں کے خلاف کاروائی کے مطالبے بھی کیے جا رہے ہیں جنہوں نے اگست 2021 کو کابل میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستانی طالبان سے مذاکرات شروع کرکے ان کو وطن واپس آنے دیا تھااور ان کے سزا یافتہ ساتھیوں کو جیلوں سے رہا کر دیا تھا ۔ تاہم افغانستان میں طالبان، اس نوعیت کی کاروائیوں میں پاکستانی طالبان کی حمایت یا پشت پناہی کی تردید کرتے ہیں۔

دوسری جانب کچھ تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ ماضی کے طرح بڑے پیمانے پر ہونے والے فوجی کاروائیوں سے عسکریت پسندی کسی بھی طور پر کم نہیں ہو سکتی ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے ، لہذا اس کی بجائے مخبروں اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کاروائیاں نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہیں ۔

کچھ تجزیہ کاروں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی میں جب بھی اضافہ ہوا ہے اس سے سیکیورٹی اداروں اور حکومتوں نے فائدہ د اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ بقول ان کے اب بھی یہ دکھائی دیتا ھے کہ حکومت دہشت گردی میں اضافے کو بنیاد بنا کر پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کو التواء میں رکھنے کے لیے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

سیکیورٹی کےامور کےتجزیہ کارعامر رانا کہتے ہیں کہ سیکیورٹی کی صورت حال کا بہانہ بنا کر ملک میں انتخابات ملتوی کرانا درست نہیں۔ سیکیورٹی معاملے کو سیاست سے الگ رکھنے کی ضرورت ہے۔اور ماضی کے آپریشن ردالفساد کا آڈٹ کرنا چاہیے۔وہ کہتے ہیں ماضی میں تو آپریشنز عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور آماجگاہوں کے خاتمےکے لیے کیے گئے تھے اب تو ٹھکانے نہیں رہے ۔ ماضی میں آپریشن رد الفساد تو بہت کامیاب رہا تھا مگر بعد میں حالات خراب ہو گئے ۔انہوں نے بھی مخبروں اور انٹلی جنس کے بنیاد پر عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کی حمایت کی اور کہا کہ بڑے پیمانے پر علاقوں کو خالی کرنے اور لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے سے مسئلے حل ہونے کی بجائے گھمبیر ہو جاتے ہیں ۔عامر رانا نےکالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے اور سزا یافتہ طالبان کو رہا کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی حمایت کی مگرتوجہ دلائی کہ ملک کے تاریخ میں کبھی بھی فوجی عہدیداروں کا محاسبہ نہیں کیا گیا ہے ۔

پشاور یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر جمیل چترالی نے بتایا کہ ماضی کی طرح فوجی کاروائی کسی بھی طور پر مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مخبروں اورانٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والی کاروائیاں اب بہت نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں۔فوجی کاروائیوں کے لیے لوگوں کےبے گھر ہو نے سے بہت زیادہ مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔

سیاسی رہنماؤں اور عہدیداروں کے علاوہ شمالی اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے قبائلی سیاسی رہنماؤں نے مجوزہ فوجی کاروائی کی مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ واضح طور پر نقل مکانی کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے ۔

پریانکا چوپڑا بھی شرمین عبید کی معترف نکلیں

Back to top button