محسن نقوی وزیرِ خارجہ نہیں بن رہے،نجم سیٹھی

وفاقی حکومت میں ممکنہ ردوبدل، وزیر داخلہ محسن نقوی کے مستقبل، پی ٹی آئی کی اندرونی حکمتِ عملی، نورین نیازی کے متنازع بیان اور 5 اگست کے مجوزہ احتجاج سے متعلق سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کو وزیرِ خارجہ بنائے جانے کی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں، ان سے نہ تو وزرات داخلہ کا قلمدان واپس لیا جا رہا ہے اور نہ ہی وہ وزیر خارجہ بننے کے خواہشمند ہیں۔ محسن نقوی بدستور بطور وزیر داخلہ خدمات سر انجام دیتے رہیں گے۔ نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف اس وقت پارلیمانی حکمتِ عملی، احتجاجی سیاست اور اندرونی فیصلوں کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کی بعض حالیہ حکمتِ عملیاں اسے سیاسی طور پر مزید مشکلات سے دوچار کر سکتی ہیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کو وزیرِ خارجہ بنائے جانے سے متعلق گردش کرنے والی خبریں درست نہیں ہیں اور حکومت میں اس نوعیت کی کسی بڑی تبدیلی کا امکان فی الحال موجود نہیں۔پروگرام "آج کی بات سیٹھی کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ محسن نقوی اپنی موجودہ ذمہ داریوں میں مکمل طور پر متحرک ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں، اس لیے انہیں وزارتِ خارجہ سنبھالنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول وزارتِ داخلہ ہی طاقتور وزارتوں میں شمار ہوتی ہے اور محسن نقوی اسی منصب پر اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اگرچہ بعض سیاسی شخصیات کی خواہشات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم فی الحال وفاقی کابینہ میں کسی بڑے ردوبدل یا اہم وزارتوں کی تبدیلی کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ نجم سیٹھی کے مطابق اسحاق ڈار سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی طرح محسن نقوی سے متعلق قیاس آرائیاں بھی وقت کے ساتھ دم توڑ جائیں گی۔
تحریک انصاف سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ نورین نیازی کا حالیہ متنازع بیان دراصل نیا نہیں بلکہ پرانا ہے، جسے موجودہ سیاسی ماحول میں دوبارہ سامنے لایا گیا۔ ان کے مطابق ایسے بیانات نے تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور پارٹی کو سیاسی دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی موجودہ مرکزی قیادت، جس میں بیرسٹر گوہر، سہیل آفریدی اور سلمان اکرم راجا شامل ہیں، ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے سیاسی عمل کے ذریعے آگے بڑھنے کی خواہاں دکھائی دیتی ہے، جبکہ بعض دیگر حلقے سخت مؤقف اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
پارلیمانی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے تحریک انصاف کے قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں اور بائیکاٹ کی حکمتِ عملی کو سیاسی غلطی قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر پارٹی پارلیمانی کمیٹیوں میں فعال رہتی تو حکومت کو مؤثر انداز میں جواب دہ بنا سکتی تھی اور روزانہ اپنی سیاسی موجودگی بھی برقرار رکھتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پارلیمانی نظام کے اندر رہ کر جدوجہد کرنا زیادہ نتیجہ خیز ہوتا ہے، جبکہ مسلسل بائیکاٹ یا استعفوں کی سیاست سے سیاسی نقصان کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
نجم سیٹھی نے تحریک انصاف کے 5 اگست کے مجوزہ احتجاج پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت اب تک اس بات پر متفق نہیں ہو سکی کہ ایک بڑا جلسہ کیا جائے یا ملک بھر میں الگ الگ اجتماعات منعقد کیے جائیں، اور نہ ہی احتجاج کے مقام کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑی سیاسی سرگرمی کے لیے پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے، جبکہ تحریک انصاف اس معاملے میں ابھی تک واضح حکمتِ عملی اختیار نہیں کر سکی۔
