ماہِ صفر شروع،جعلی عاملوں کی سرگرمیاں تیز،خواتین نشانے پر

ماہِ صفر کے آغاز کے ساتھ ہی لاہور، کراچی، پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں تعویذ، جادو ٹونے، روحانی علاج اور کالے علم کے نام پر سرگرم جعلی عاملوں کی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد خود ساختہ روحانی مراکز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر سادہ لوح افراد، بالخصوص خواتین کو خوف، توہمات اور غیر مصدقہ دعوؤں کے ذریعے مہنگے تعویذ، نقش اور مختلف روحانی عملیات فروخت کیے جا رہے ہیں۔ دینی و سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام میں مشکلات کے حل کے لیے دعا، قرآن و سنت کی تعلیمات اور جائز اسباب اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے، جبکہ جادو ٹونے، جعلی عملیات اور استحصال پر مبنی دعووں سے محتاط رہنا چاہیے۔

اسلامی مہینے صفر کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف شہروں، خصوصاً کراچی میں تعویذ، جادو ٹونے، روحانی علاج اور کالے علم کے نام پر سرگرم بعض جعلی عاملوں اور خود ساختہ روحانی مراکز کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران سادہ لوح افراد کو مختلف خوف اور توہمات کا شکار بنا کر مہنگے تعویذ، لوح، نقش اور دیگر عملیات فروخت کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق متعدد مقامات پر آنے والے افراد، جن میں خواتین کی تعداد زیادہ بتائی جاتی ہے، کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ماہِ صفر میں جادو ٹونے اور آسیب کے اثرات بڑھ جاتے ہیں، حالانکہ اسلامی تعلیمات میں اس تصور کی کوئی بنیاد نہیں کہ ماہِ صفر بذاتِ خود نحوست یا بدشگونی کا مہینہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق بعض افراد نفسیاتی، گھریلو یا معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مستند طبی یا نفسیاتی ماہرین سے رجوع کرنے کے بجائے ایسے مراکز کا رخ کرتے ہیں، جہاں انہیں مختلف عملیات، تعویذ یا دیگر غیر مصدقہ طریقوں کے ذریعے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔

کراچی کے بعض مضافاتی، ساحلی اور کچی آبادیوں کے علاقوں، جن میں ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ، شاہ لطیف ٹاؤن، ملیر، گڈاپ، کاٹھور، سرجانی، منگھوپیر اور کیماڑی سمیت دیگر علاقے شامل ہیں، میں ایسے روحانی مراکز اور آستانوں کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بعض مقامات پر سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور موبائل فون کے ذریعے بھی روحانی علاج اور عملیات کی تشہیر کی جا رہی ہے، جبکہ ادائیگی جاز کیش، ایزی پیسہ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے وصول کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔

بعض افراد کا دعویٰ ہے کہ کچھ عامل ماہِ صفر کے دوران خود منظرِ عام سے غائب رہتے ہیں اور ان کے معاونین یا مریدین لوگوں سے رابطہ رکھتے ہیں، جبکہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ متعلقہ عامل مخصوص روحانی چِلّوں یا عبادات میں مصروف ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق بعض قبرستانوں کے اطراف قائم غیر رسمی مزارات یا کمروں کو بھی بعض افراد مبینہ طور پر چلہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسی طرح قبروں سے تعویذ، گڑیاں یا دیگر اشیا برآمد کرنے جیسے واقعات سے متعلق بھی مختلف دعوے سامنے آتے رہتے ہیں، لیکن ان کی صداقت ہر معاملے میں ثابت نہیں ہوتی۔

اطلاعات کے مطابق بعض خود ساختہ عامل جادو ٹونے کے خاتمے، پسند کی شادی، روزگار، قرض سے نجات، گھریلو ناچاقی، اولاد، کاروبار میں ترقی، شوہر یا بیوی کو تابع کرنے اور دیگر مسائل کے حل کے نام پر ہزاروں سے لاکھوں روپے تک وصول کرنے کے دعوے کرتے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر دم شدہ پانی، حفاظتی تعویذ اور مختلف ٹوٹکوں کے نام پر بھی رقوم وصول کی جاتی ہیں۔

سائبر ذرائع کے مطابق اب یہ سرگرمیاں صرف روایتی آستانوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سوشل میڈیا، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب، واٹس ایپ اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی جعلی روحانی خدمات کی تشہیر کی جا رہی ہے، جس سے ان افراد تک رسائی مزید آسان ہو گئی ہے۔

دینی اسکالرز بارہا واضح کر چکے ہیں کہ اسلام میں ماہِ صفر کو منحوس سمجھنے یا اس مہینے کو خصوصی آفات اور جادو ٹونے سے منسلک کرنے کی کوئی شرعی بنیاد موجود نہیں۔ اسلام مشکلات کے حل کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل، دعا، قرآن کریم، مسنون اذکار، جائز علاج اور درست اسباب اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ توہمات، جعلی عملیات اور مالی استحصال سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات بھی کہتے ہیں کہ ذہنی دباؤ، خوف، ڈپریشن یا دیگر نفسیاتی مسائل کی صورت میں مستند ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا زیادہ مؤثر اور محفوظ طریقہ ہے، جبکہ غیر مصدقہ روحانی دعووں پر اندھا اعتماد بعض اوقات مالی اور نفسیاتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

Back to top button