فراڈ کال سینٹرز کے سرپرست2نمبر پاکستانی سیاستدان کون؟

پاکستان میں جعلی کال سینٹرز اور سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس اب محض مالی جرائم کا معاملہ نہیں رہے بلکہ تحقیقاتی ادارے انہیں منی لانڈرنگ، غیر قانونی رقوم کی بیرونِ ملک منتقلی اور قومی معیشت کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ کراچی سمیت مختلف شہروں میں حالیہ کارروائیوں کے دوران سامنے آنے والے شواہد نے مبینہ سیاسی سرپرستی، کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقوم کی منتقلی اور بین الاقوامی مالی روابط کے نئے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور متعدد دعوے تاحال عدالتی یا سرکاری سطح پر ثابت ہونا باقی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں سائبر فراڈ اور جعلی کال سینٹرز کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران سامنے آنے والی معلومات نے ملکی تحقیقاتی اداروں کو ایک ایسے مبینہ منظم نیٹ ورک تک پہنچا دیا ہے، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ صرف آن لائن مالی فراڈ ہی نہیں بلکہ کرپٹو کرنسی، منی لانڈرنگ، غیر قانونی رقوم کی بیرونِ ملک منتقلی اور ممکنہ سیاسی روابط جیسے معاملات میں بھی ملوث ہو سکتا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق فراڈ کال سینٹرز میں موجود بھاری مالی فوائد کے باعث بعض سیاسی عناصر کی مبینہ سرپرستی کے پہلو بھی زیرِ تفتیش ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض حلقوں نے اس کاروبار سے حاصل ہونے والے کالے دھن کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر کے بیرونِ ملک منتقل کرنے کا طریقہ اختیار کیا، جس کے باعث ملکی زرمبادلہ کو نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ میں متعدد انکوائریاں بھی رجسٹر کی گئی ہیں، جہاں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا غیر قانونی طور پر اربوں ڈالر بیرونِ ملک منتقل کیے گئے یا نہیں، اور اگر ایسے شواہد سامنے آتے ہیں تو متعلقہ قوانین کے تحت مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
تحقیقات سے وابستہ حکام کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران قائم ہونے والے متعدد کال سینٹرز پر شبہ ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں کو جعلی سرمایہ کاری، ٹیکنیکل سپورٹ، کرپٹو سرمایہ کاری، رومانس اسکیم، بینک ویریفکیشن، ٹیکس ریفنڈ اور دیگر جدید آن لائن فراڈ کے ذریعے نشانہ بنا کر کروڑوں اور اربوں روپے کماتے رہے۔ذرائع کے مطابق ان نیٹ ورکس کی آمدنی زیادہ تر غیر ملکی کرنسی میں ہوتی تھی، جسے مبینہ طور پر مختلف ذرائع سے کرپٹو کرنسی، ڈیجیٹل والٹس، حوالہ ہنڈی یا بیرونِ ملک قائم کمپنیوں کے ذریعے منتقل کیے جانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق مذکورہ کال سینٹر مبینہ طور پر ایک ریسٹورنٹ کی آڑ میں چلایا جا رہا تھا، جہاں غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے مبینہ آن لائن فراڈ کیا جاتا تھا۔کارروائی کے دوران کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ، موبائل فون، سرورز، ہارڈ ڈسکس، انٹرنیٹ آلات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں تاکہ نیٹ ورک کے حجم، مالی لین دین اور بیرونِ ملک روابط کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات اب صرف سائبر فراڈ تک محدود نہیں بلکہ بینک ریکارڈ، کرپٹو ٹرانزیکشنز، موبائل والٹس، حوالہ ہنڈی، بے نامی جائیدادوں، کمپنیوں، مالی شراکت داریوں اور بیرونِ ملک اثاثوں تک پھیل چکی ہیں۔تحقیقاتی حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا فراڈ سے حاصل ہونے والی رقوم دہشت گردی کی مالی معاونت یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوئیں یا نہیں۔ اگر اس حوالے سے قابلِ اعتماد شواہد سامنے آئے تو متعلقہ قوانین کے تحت مزید دفعات شامل کی جا سکتی ہیں۔تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض زیرِ تفتیش افراد چند سال پہلے عام ملازمتیں کرتے تھے، تاہم مختصر عرصے میں قیمتی گاڑیوں، مہنگی جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کے مالک بن گئے۔البتہ یہ دعوے ابھی تحقیقات کا حصہ ہیں اور ان کی آزادانہ سرکاری تصدیق یا عدالتی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ایسے نیٹ ورکس اپنے ملازمین کو غیر ملکی لہجہ اپنانے، جعلی شناخت استعمال کرنے، نفسیاتی دباؤ ڈالنے، سرمایہ کاری کے جھوٹے وعدے کرنے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد استعمال کرنے کی تربیت بھی دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق بعض کال سینٹرز میں درجنوں سے لے کر سیکڑوں افراد کام کرتے ہیں اور ہر کامیاب فراڈ پر انہیں کمیشن بھی دیا جاتا ہے۔بعض گرفتار افراد نے دورانِ تفتیش دعویٰ کیا کہ انہیں ابتدا میں معلوم نہیں تھا کہ وہ مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ بن رہے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران آن لائن سرمایہ کاری فراڈ، جعلی کرپٹو اسکیموں، فِشنگ، رومانس اسکیموں اور جعلی کال سینٹرز کے ذریعے دنیا بھر میں متاثرین سے اربوں ڈالر ہتھیائے گئے۔تحقیقاتی ذرائع کے مطابق پاکستان میں بے نقاب ہونے والے بعض نیٹ ورکس کے متاثرین کا تعلق امریکہ، کینیڈا، یورپ اور آسٹریلیا سے بھی بتایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کے مختلف ونگز آپس میں معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ مبینہ مالی نیٹ ورکس، سیاسی روابط، کمپنیوں، اثاثوں، ڈیجیٹل والٹس اور ممکنہ سہولت کاروں کا مکمل سراغ لگایا جا سکے۔حکام کے مطابق اگر مزید شواہد سامنے آئے تو مقدمات میں نئی دفعات شامل ہونے، مزید گرفتاریاں ہونے اور مالی معاونت کرنے والے افراد، بے نامی اکاؤنٹس فراہم کرنے والوں، جعلی کمپنیوں کے منتظمین اور منی لانڈرنگ میں ملوث مبینہ سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم یہ تمام اقدامات دستیاب شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہوں گے۔
