پنجاب حکومت کا نمک سے ڈالر کمانے کا منفرد منصوبہ کیا ہے؟

پاکستان کا گلابی نمک دنیا بھر میں اپنی منفرد معیار اور قدرتی خصوصیات کی بدولت "ہمالین پنک سالٹ” کے نام سے پہچانا جاتا ہے، مگر اربوں ڈالر کی عالمی منڈی میں اس قیمتی قدرتی خزانے سے سب سے کم فائدہ خود پاکستان کو ملتا رہا ہے۔ پنجاب حکومت اب اس صورتحال کو بدلنے کے لیے نئی پنک سالٹ پالیسی لے آئی ہے، جس کا مقصد خام نمک کی سستی برآمد روک کر ملک کے اندر ویلیو ایڈیشن، صنعت کاری، روزگار اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کی طرح یہ منصوبہ بھی صرف اعلانات تک محدود رہے گا یا واقعی پاکستان اپنے گلابی نمک سے اربوں ڈالر کمانے کے خواب کو حقیقت میں بدل سکے گا؟

ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا کے سب سے بڑے اور قیمتی گلابی نمک کے ذخائر کا مالک ہے، لیکن دہائیوں سے خام نمک کی کم قیمت پر برآمد کے باعث اس قدرتی دولت کا اصل معاشی فائدہ دوسرے ممالک سمیٹتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے گلابی نمک کی برآمدات سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کرنے کے لیے نئی پنک سالٹ پالیسی متعارف کرائی ہے، جس کا بنیادی مقصد خام نمک کی بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمد کو فروغ دینا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت خام گلابی نمک کے بلاکس کی بلا روک ٹوک برآمد محدود کی جائے گی، جبکہ صرف وہی نمک عالمی منڈی میں بھیجا جا سکے گا جسے پاکستان کے اندر پروسیسنگ، پالش اور ویلیو ایڈیشن کے مراحل سے گزار کر کھانے کے نمک، آرائشی اشیا، سالٹ لیمپس، ٹائلز اور دیگر مصنوعات کی شکل دی گئی ہو۔

حکومت نے اس مقصد کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل پورٹل بھی متعارف کرایا ہے، جہاں سرمایہ کار، صنعت کار اور چھوٹے کاروباری افراد آن لائن رجسٹریشن، لائسنس، نمک کی خریداری اور پروسیسنگ یونٹس سے متعلق تمام مراحل مکمل کر سکیں گے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے شفافیت بڑھے گی، درمیانی کردار ختم ہوگا اور چھوٹے صنعت کاروں کو بھی کاروبار کے مساوی مواقع میسر آئیں گے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اس وقت گلابی نمک کی برآمد سے سالانہ تقریباً 70 سے 80 ملین ڈالر کماتا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مکمل ویلیو ایڈیشن ملک کے اندر کی جائے تو یہی صنعت ایک سے دو ارب ڈالر سالانہ برآمدات کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

نمک کی صنعت سے وابستہ کاروباری شخصیات اس پالیسی کو مجموعی طور پر مثبت قرار دے رہی ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ صرف پالیسی بنانے سے نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق صنعت کو سستی بجلی، بلا تعطل گیس، جدید مشینری، آسان مالی سہولتوں اور عالمی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی بھی ضرورت ہے، تاکہ پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی معیار پر پوری اتر سکیں۔

صنعت کاروں کا مؤقف ہے کہ اگر پیداواری لاگت کم نہ ہوئی اور برآمد کنندگان کو بین الاقوامی سرٹیفیکیشن کی سہولت ملک کے اندر فراہم نہ کی گئی تو عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے لیے مسابقت برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے ذریعے پاکستان کے گلابی نمک کی جغرافیائی شناخت (جی آئی) کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ دنیا میں "ہمالین پنک سالٹ” کی اصل شناخت پاکستان کے ساتھ منسلک ہو اور دیگر ممالک اس نام سے غیر مجاز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر حکومت اپنی پالیسی پر مؤثر عمل درآمد، صنعتی سہولتوں، توانائی کی مناسب فراہمی، جدید ٹیکنالوجی، عالمی معیار کی لیبارٹریوں اور مؤثر برانڈنگ کو یقینی بناتی ہے تو گلابی نمک پاکستان کے لیے ٹیکسٹائل کے بعد اہم برآمدی شعبہ بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جہلم، خوشاب، میانوالی اور دیگر کان کنی والے علاقوں میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے مقامی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

Back to top button