موٹروے گینگ ریپ کیس: چھ سال بعد دوبارہ سرخیوں میں کیوں؟

پاکستان کی حالیہ تاریخ میں چند ایسے واقعات ہیں جنہوں نے نہ صرف معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ ریاستی اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں اور سماجی رویوں پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کیے۔ موٹروے گینگ ریپ کیس انہی واقعات میں شامل ہے، جس نے خواتین کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور وکٹم بلیمنگ جیسے حساس موضوعات پر قومی سطح پر بحث چھیڑ دی۔

حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے اس مقدمے کے دونوں مرکزی مجرموں، عابد ملہی اور شفقت علی عرف بگا، کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس فیصلے کو متاثرہ خاتون اور ان کے خاندان کے لیے انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ 9 ستمبر 2020 کی رات پیش آیا، جب ایک پاکستانی نژاد فرانسیسی خاتون اپنے دو کمسن بچوں کے ہمراہ لاہور سے سیالکوٹ جا رہی تھیں۔ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر گجر پورہ کے قریب ان کی گاڑی کا ایندھن ختم ہو گیا۔ وہ مدد کے انتظار میں تھیں کہ دو مسلح افراد نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر انہیں اور ان کے بچوں کو زبردستی باہر نکالا اور موٹروے کے قریب جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔اس افسوسناک واقعے کی خبر سامنے آتے ہی پورے ملک میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا سے لے کر سڑکوں تک عوام نے خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، طلبہ اور سول سوسائٹی نے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔

تاہم اس واقعے کے بعد ایک اور تنازع اس وقت پیدا ہوا جب اُس وقت کے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ایک بیان میں متاثرہ خاتون کے رات کے وقت سفر کرنے اور گاڑی میں پٹرول کم ہونے پر سوالات اٹھائے۔ اس بیان کو عوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور "وکٹم بلیمنگ” یعنی متاثرہ فرد کو ہی قصوروار ٹھہرانے کی سوچ کے خلاف ملک گیر بحث شروع ہو گئی۔قانونی ماہرین اور سماجی کارکنوں کا مؤقف تھا کہ کسی بھی جرم کی ذمہ داری مجرم پر عائد ہوتی ہے، متاثرہ شخص کے طرزِ عمل یا حالات پر نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس بیان نے عوامی ردعمل کو مزید شدید کر دیا اور خواتین کے حقوق سے متعلق شعور میں اضافہ کیا۔

دوسری جانب پنجاب پولیس نے اس کیس کی تفتیش کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا۔ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے ڈی این اے نمونوں اور جدید فرانزک ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا گیا۔ پہلے شفقت علی عرف بگا گرفتار ہوا جبکہ بعد ازاں مرکزی ملزم عابد ملہی کو بھی فیصل آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے مارچ 2021 میں دونوں ملزمان کو گینگ ریپ، اغوا، ڈکیتی اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت سزائے موت، عمر قید اور بھاری جرمانوں کی سزا سنائی۔ بعد ازاں ملزمان نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کیں، تاہم عدالتِ عالیہ نے تفصیلی سماعت کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں مسترد کر دیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کو نہ صرف ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے بلکہ یہ اس پیغام کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث افراد کے لیے قانون میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔اگرچہ مجرموں کے پاس اب بھی سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا آئینی حق موجود ہے، تاہم موجودہ فیصلہ انصاف کے اس سفر کا ایک اہم اور تاریخی مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق موٹروے گینگ ریپ کیس صرف ایک فوجداری مقدمہ نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے کے لیے ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے خواتین کے تحفظ، پولیس اصلاحات، فرانزک نظام کی اہمیت اور وکٹم بلیمنگ جیسے سماجی رویوں پر نئی بحث کو جنم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقدمہ آج بھی انصاف، انسانی وقار اور قانون کی بالادستی کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔

Back to top button