عمران خان نے نیب کو پھر جھنڈی دکھا دی

عمران خان نے ایک بار پھر نیب کو آنکھیں دکھاتے ہوئے قومی احتساب بیورو حکام کو جھوٹا اور بددیانت قرار دے دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب کی جانب سے طلبی پر پیشی کی یقین دہانی کروانے کے باوجود القادر یونیورسٹی کرپشن کیس یابرٹش نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اوران کی اہلیہ بشریٰ بی نے نیب راولپنڈی میں پیش ہونے سے صاف انکار کر دیا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میںنیب کے سامنے پیش ہونے کی معذرت کرتے ہوئے طلبی نوٹس میں خود پر عائد الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت، جھوٹے اور حقیقت کے برعکس قرار دے دیا۔گزشتہ روز نیب کی طرف سے القادر ٹرسٹ کیس میں طلبی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے تحریری جواب میں لکھا کہ اس وقت میں لاہور میں موجود ہوں اور متعدد مقدمات میں ضمانت کے لیے درخواستیں دے رہا ہوں جس کے لیے لاہو ہائی کورٹ نے مجھے 22 مئی کا وقت دیا ہے۔عمران خان نے تحریری جواب میں کہا کہ مقدمات میں ضمانت لینے کی وجہ سے نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرانا یا شاملِ تفتیش ہونا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔

عمران خان نے اپنے جواب میں کہا کہ نیب کی طرف سے طلبی نوٹس میں لگائے گئے تمام الزامات بالکل جھوٹے، غیر سنجیدہ، من گھڑت اور قانون اور حقائق کے بارے میں جان بوجھ کر غلط فہمی اور بے بنیاد قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ بدعنوانی یا کرپٹ پریکٹسز کا کوئی بھی کیس ریکارڈ پر موجود حقائق اور حالات سے برعکس نہیں بنایا جاتا، بلکہ اس کیس کی انکوائری اور تفتیش شروع کرنے کا پورا مقصد سیاسی انتقام ہے۔

عمران خان نے اپنے جواب میں لکھا کہ نیب نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ مجھے 2 اپریل کو طلبی نوٹس ارسال کیا لیکن میں نے اس کا کوائی جواب نہیں دیا لیکن یہ الزام مکمل طور ہر بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے صرف ایک ہی طلبی نوٹس بھیجا گیا جس کا میں نے جواب دیا تھا اور اسے بھی جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا۔نیب کی طرف سے حکومتِ پاکستان کی جانب سے دستخط کی گئی خفیہ معاہدے کے دستاویزات فراہم کرنے کے سوال پر عمران خان نے جواب دیا کہ متعلقہ دستاویزات میرے پاس موجود نہیں ہیں۔ملک ریاض کے خاندان اور این سی اے کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات لانے پر عمران خان نے جواب میں لکھا کہ متعلقہ تفصیلات تک میری رسائی نہیں ہے، میرے پاس موجود نہیں ہیں۔

نیب کی طرف سے حکومتِ پاکستان اور این سی اے کے درمیان ہونے والی خط و کتاب کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ متعلقہ ریکارڈ حکومتی محکمہ کے پاس موجود ہوگا، لہٰذا یہ میرے پاس موجود نہیں ہے۔نیب کی طرف سے حکومتِ پاکستان اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کا ریکارڈ دینے کے سوال پر عمران خان نے کہا جواب میں لکھا کہ متعلقہ ریکارڈ میرے پاس نہیں ہے۔القادر یونیورسٹی کی تعمیر اور معاہدے سے متعلق دستاویزات کی فراہمی پر بھی پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ یہ ریکارڈ متعلقہ محکمہ کے پاس موجود ہوں گے۔

خیال رہے کہ 17 مئی کو نیب نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کے لیے18 مئی کو ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں طلب کیا تھا۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو نیب کی طرف سے تین صفحات پر مبنی نوٹس ارسال کیا گیا تھا۔نیب کی طرف سے جارہ کردہ نوٹس میں پی ٹی آئی عمران خان کو صبح 10 بجے نیب روالپنڈی میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔نوٹس میں عمران خان سے 20 نکات پر مشتمل سوالات کے دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

نیب راولپنڈی کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی سے 19 کروڑ پاؤنڈ کی غیرقانونی منتقلی سے متعلق 20 سوالوں کے جوابات بھی طلب کئے تھے اور انہیں کیس سے متعلقہ دستاویزات بھی ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔نیب کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کی عدم حاضری پر قانونی کارروائی ہوگی۔

نیب راولپنڈی نے عمران خان کو صبح 10 بجے کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا تھا اور 19 کروڑ پاؤنڈ کے فریزنگ آرڈرز، القادر یونیورسٹی کو ملنے والے تمام عطیات اور ٹرسٹ کو عطیات دینے والوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا تھا۔احتساب بیورو نے القادر ٹرسٹ اورملزمان کی کمپنی کے درمیان ٹرسٹ ڈیڈ کےعلاوہ برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ خط و کتابت کا ریکارڈ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

Back to top button