”نہ منہ نہ متھا تے جن پہاڑوں لتھا“

تحریر: ایثار رانا
”راہواں اوکھیاں“ ہوں نا ہوں میں نے دیکھا ہے خاں جی کو ”مرن دا ایویں“ ای شوق ہے۔پتہ نہیں کون سے مشیروں کے ”پٹھے سدھے“ مشوروں پر ایسی”چولیں“ ماری جا رہی ہیں۔ بھلا ہے کوئی بات کہ دس وزیروں کو کارکردگی کے سرٹیفیکیٹ دے کر باقی سب کو ناراض کردیا جائے۔
اگر ان دس کی کارکردگی ہی بہتر ہے تو پھر جس وزیر نے میڈیا میں یہ سارا حکومتی ڈرامہ ہتھیلی پہ سرسوں کی طرح جمایا، اسکا کیا قصور؟ چلیں جی”جناں کھادیاں گاجراں، انکے ہی ٹڈ پیڑ “ ہو گی۔ملک کے حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں، پٹرول تو خیر شعیب اختر سے بھی تیز باونسر مار رہا ہے، اسکے اینڈ پر یارکر نے گٹے گوڈے توڑ دئیے ہیں۔
اب اس ملک کے غریبوں کا اندازہ کریں، انکے غموں کی عظیم ترجمان ملکہ کو یہ بھی نہیں پتہ کہ انکی موٹر سائیکلوں میں پٹرول گیس سٹیشن سے نہیں پڑتا۔ خیر مریم بی بی سیاسی اوتار ہیں، اگر ہمارے بھانجے بلاول انڈے فی کلو بکوا سکتے ہیں تو وہ بھی جو مرضی کہہ سکتی ہیں۔ اس سے ہی اندازہ کر لیں کہ ہماری سیاسی قیادت عام آدمی کی زندگی سے کتنی واقف ہے۔
اس حوالے سے مجھے یک قصہ یاد آگیا۔ سنتا سنگھ کو الیکشن میں دس ووٹ پڑے، اس نے پولیس چیف کو درخواست دی کہ اسے سیکیورٹی فراہم کی جائے، چیف بولا سیکیورٹی کیوں چاہئے؟ سنتا سنگھ بولا کہ الیکشن کے بعد اندازہ ہوا کہ پورا پنڈ میرے خلاف ہے۔ لگتا ہے آنے والے دنوں میں میرے کپتان کو ایسی درخواست نہ دینی پڑ جائے کیونکہ مافیاز سے لڑنا آسان ہے لیکن آپکی بغل میں چھپے چوروں کا کیا کیا جائے۔ کاش کپتان اپنے سحر سے باہر نکل کر اپنی ٹیم میں ہیروز تراشتا۔ اکیلے بزدار سے کچھ نہیں ہوگا۔ انکا انتخاب کسی کے خلاف ہو نہ ہو، خود بزدار کے خلاف سازش ہے۔ بندے پر اتنا بوجھ ڈالیں جتنا وہ اُٹھا سکتا ہو۔
ایک اور قصہ لیجئے۔ ایک روز بنتا سنگھ سر تھامے بیٹھا تھا، کسی نے پوچھا کیا ہوا تو بولا یار ”اَن نون“ نمبر سے فون آیا کہ شادی شدہ ہو؟ میں نے کہہ دیا کہہ نہیں، وہ اگے سے بولی تمھاری گھر والی بول رہی ہوں، ذرا گھر تو آو، تہانوں دسدی آں۔ اب بندہ چھوٹا موٹا جھوٹ بھی نہ بولے۔ اس معصومیت پر سزا کس بات کی۔ اسی طرح اگر میاں صاحب نے بیماری کا چھوٹا سا جھوٹ بول ہی دیا ہے تو یہ بتائیں کہ اس معاشرے میں سچ کون بول رہا ہے۔ ممبر سے پارلیمنٹ تک جھوٹو جھوٹ” گنڈیریاں دو تیریاں دو میریاں“ چل رہا ہے۔عدالتیں طاقتوروں کو ریڈ کارپٹ دیتی .ہیں اور ڈاکٹر عبدالقدیر جیسے محسن کے کیس کی شنوائی انکی رحلت کے بعد ہوتی ہے،
یہ تو ایسے ہی چلے گی
شہباز شریف پر ہر بار فرد جرم لگتے لگتے رہ جاتی ہے ،جنرل مشرف کٹہرے کے بجائے چک شہزاد سے پھولوں کے تخت پہ بٹھا کر باہر بھیج دئیے جاتے ہیں، ادارے انہیں اس دوران ”پکھیاں“ بھی جھلتے ہیں۔چھٹیوں میں وڈیروں کی سہولت کاری کیلئے عدالتوں کے در اور کٹہروں کے قفل کھل جاتے ہیں۔
نیب کروڑوں کا خرچہ کرکے امیروں کا بال بھی بیکار نہیں کر پاتی، صاف پانی کیس کے سارے ملزم گنگا مّیا میں انصاف کا اشنان کرکے صاف بچ جاتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہمارا معاشرہ شاہ رخ جتوئیوں کا معاشرہ ہے۔ ایک رکن اسمبلی سب کے سامنے پولیس اہلکار کو کچلتا ہے، انصاف تو خیر ہوتا ہی اندھا ہے، پورا معاشرہ بھی نابینا ہوجاتا ہے۔میرے گھبرائے پاکستانیو اب گھبرانے کا فائدہ بھی کچھ نہیں، تبدیلی کا ایک اور خواب مافیاز ،خفیہ چہروں، مچانوں پر بیٹھے شکاریوں اور اپنے ماٹھے پن کے ہاتھوں تاراج ہو چکا۔
عمران خان ہار نہیں سکتا اس نے ڈاکو اور چوروں کے گرد ایک دائرہ ضرور لگا دیا، وہ نہ تفتیشی افسر ہے اور نہ ہی جج ، نہ فیصلوں پر اسکا اختیار ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اسے گندہ کرکے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکالا جا سکتا ہے تو وہ ٹریلر کے طور پہ منڈی بہاوالدین کا جلسہ دیکھ لے۔یاد رکھیں کپتان سادہ مان نہیں، کنٹینر اور عوام میں تو وہ ویسے ہی اتھرا ہوجاتا ہے۔ منڈی بہاوالدین کا جلسہ عقلمند کے لئے اشارہ ہے۔حالانکہ یہ سیاست کا دھندا اتنا ہی گندہ ہے کہ اس میں جو آیا اسکے ساتھ ایسا باندر کلا کھیلا گیا کہ توبہ ہی بھلی۔
اب ایسے میں میرا دوست رکشہ ڈرائیور زلفی کہتا ہے کہ رکشہ تو پولیس کو پیسے دے کر واپس مل گیا لیکن سواریاں چھوٹ گئیں، سکول کے بچوں نے آنے جانے کے لئے دوسرا رکشہ انگیج کرلیا۔یعنی اسکی معاشی زندگی کی کھوتی پاکستان کی طرح ایک بار پھر بوڑھ تھلے آگئی ہے۔۔اب اسے کیسے بتاوں یا سمجھاوں کہ جب انصاف کو شریفوں، زرداریوں اور قاضیوں سے ہی فرصت نہ ملے گی تو اسکا بھی سوچ لیں گے۔ اس نظام سے ایسی توقعات رکھنے پر اسکا زن بچہ کوہلو میں بھی پسوایا جاسکتا ہے۔ ایسے میں اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ یار زلفی، رکشہ ڈرائیور، اپنی شکل ویکھ ”منہ نہ متھا تے جن پہاڑوں لتھا “۔
