کالا باغ ڈیم پروجیکٹ پر صرف چار افراد کیوں کام کر رہے ہیں؟

میانوالی کے پیر پہائی نامی گاؤں کے قریب کالاباغ ڈیم کے منصوبے پر اس وقت صرف چار ملازمین کام کر رہے ہیں اور وہ بھی صرف زنگ آلود مشینری اور کھنڈرات نما رہائشی کوارٹرز کی نگرانی کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ کالا باغ ڈیم پراجیکٹ پر کام 1950 میں شروع کیا گیا تھا مگر حکومتِ پاکستان کا بجلی پیدا کرنے کا یہ ’سب سے بڑا منصوبہ‘ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔
انڈیپنڈینٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ کے کنارے دریائے سواں اور دریائے کابل کے ملاپ کے مقام پر کالا باغ ڈیم سائٹ ویرانی کا شکار ہے اور نگرانی پر معمور چوکیدار بھی نظر نہیں آتے۔ ڈیم ملازمین کے لیے بنائی گئی رہائشی کالونی بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے اور وہاں موجود کوارٹرز کے شیشے ٹوٹ کر زمین پر بکھرے پڑے ہیں۔ ڈیم کی تعمیر کے لئے خریدی جانے والی قیمتی مشینری، کرین اور دیگر ساز و سامان بھی کھلے آسمان تلے پڑا ہے اس کا کوئی والی وارث نہیں۔
کیا شاہ محمود بیٹے کو جتوا کر اپنی ہار کا بدلہ لے پائیں گے؟
کئی سال قبل دفاتر میں پڑی فائلیں درازوں میں اپنی بربادی کا رونا رو رہی ہیں، دفاتر کی چھتیں غائب ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے یہاں کسی نے بمباری کی ہو۔کالاباغ ڈیم سائٹ پر اس وقت چار ملازمین کام کر رہے ہیں جو صرف زنگ آلود مشینری اور کھنڈرات کی طرح نظر آنے والے رہائشی کوارٹرز کی نگرانی کرتے ہیں۔
پیر پہائی کے رہائشی سید زاہد عباس اس بارے میں کہتے ہیں کہ گذشتہ تقریباً 40 سال سے کالا باغ ڈیم کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے اور عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس پراجیکٹ پر کام کیا جائے تو یہ پاکستان کے لیے بجلی اور زراعت کے حوالے سے انتہائی فائدہ مند ہے۔
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کالاباغ ڈیم پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے کیونکہ اس سے چاروں صوبوں کو بھی فائدہ ہے اور بے تحاشا سستی بجلی بھی پیدا ہو گی۔ اس کے علاوہ زراعت کو بھی فائدہ ہو گا۔ انکا کہنا تھا کہ پراجیکٹ سائٹ پر موجود انفراسٹرکچر اور مشینری تباہ ہو رہی ہے لہذا اسے بچانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔
یاد رہے کہ اب تک صرف فائلوں کی ہی نذر رہنے والے کالا باغ ڈیم منصوبے کی تعمیر کی لاگت کا تخمینہ پانچ ارب ڈالرز لگایا گیا تھا جو اب بڑھ کر 15 ارب ڈالر سے بھی زائد ہو چکا ہے۔ حکام بھی اس ڈیم کے فوائد تو بیان کرتے ہیں مگر اس کے نقصانات سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں لیکن پاکستان کے دیگر تین صوبوں کو یہ منصوبہ قبول نہیں اور وہ ان فوائد کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صوبہ سندھ، صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومتیں اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف کئی متفقہ قراردادیں پاس کر چکی ہیں۔ بلوچستان کا براہ راست اس منصوبے سے کوئی تعلق نہیں مگر اسکا موقف ہے کہ چونکہ وہ اپنا پانی صوبہ سندھ سے لیتے ہے، اس لیے وہ سندھ کے موقف کی تائید کرے گا۔
کالا باغ ڈیم پراجیکٹ پر کام 1950 میں شروع کیا گیا تھا۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں ڈیموں کے ماہر ڈاکٹر کنیڈی کی زیر قیادت ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے رپورٹ تیار کی۔ 1983 میں ڈاکٹر کنیڈی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق اس ڈیم کی اونچائی 925 فٹ ہو گی، 6.1 ملین ایکڑ فٹ پانی سٹور کیا جا سکے گا اور اس کی تعمیر میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال اور کم سے کم تین سال کا عرصہ لگنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ ڈیم پورے ملک کے 50 لاکھ ایکڑ بنجر رقبے کو سیراب کرسکتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ ڈیم پانچ ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ ضیا دور میں کالا باغ کی تعمیر کے لیے دفاتر تعمیر کیے گئے، سڑکیں بنائی گئیں اور مشینری منگوائی گئی۔ لیکن اس دوران خیبر پختونخوا نے اعتراض کر دیا کہ کالا باغ ڈیم کے موجودہ ڈیزائن سے نوشہرہ شہر ڈوب جائے گا، اس عذر کو دور کرنے کے لیے ڈیزائن میں تبدیلی لائی گئی اور ڈیم کی اونچائی 925 سے 915 فٹ کر دی گئی۔ لیکن یہ منصوبہ تاحال شروع نہیں ہو پایا۔
