پاکستان عالمی سیاست میں ابھرتی ہوئی ہِنج پاور بن رہا ہے، فنانشل ٹائمز

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان عالمی سیاست میں ایک ابھرتی ہوئی ’ہِنج پاور‘ کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے اور امریکا، چین، خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ بیک وقت تعلقات کو سفارتی و تزویراتی طاقت میں تبدیل کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے براہِ راست مذاکرات کی میزبانی پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا نمایاں ثبوت ہے۔ بدلتے عالمی منظرنامے میں اسلام آباد اب زیادہ فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سلامتی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کی ایک بڑی تزویراتی طاقت یہ ہے کہ وہ امریکا اور چین دونوں کے ساتھ اپنے مفادات کی بنیاد پر شراکت داری برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وہ خلیجی ممالک اور ایران، دونوں کے ساتھ روابط قائم رکھ سکتا ہے۔ اس طرح اسلام آباد کسی ایک عالمی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے مختلف طاقت کے مراکز کے ساتھ بیک وقت کام کرنے والی درمیانی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ کرپٹو اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پاکستان کی نئی معاشی سفارت کاری کا حصہ ہیں، جبکہ وسطی ایشیا کو پاکستانی بندرگاہوں سے منسلک کرنے کے منصوبے نئی منڈیوں تک رسائی اور علاقائی تجارت کے فروغ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی حمایت سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حوالے سے اعتماد حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسلام آباد اب اپنے جغرافیائی خطے تک محدود رہنے کے بجائے عالمی سطح پر زیادہ وسیع کردار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی اسے امریکا، چین، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں بیک وقت تزویراتی گنجائش فراہم کر رہی ہے، جبکہ اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اسے بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اہم رابطہ کار ریاست کے طور پر سامنے لا رہی ہیں۔

 

لبنانی فوج پر اسرائیلی دباؤ ناقابل قبول ہے، سربراہ حزب اللہ

رپورٹ کے مطابق نئی عالمی صف بندی میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اسے عالمی ’رسک بورڈ‘ پر ایک الگ اور اہم مقام دیا جانا چاہیے۔

Back to top button