آرمی چیف ، صدر عارف علوی کو منہ کیوں نہیں لگاتے؟

صدر پاکستان عارف علوی آج تک اپنے وزیراعظم کا اعتماد حاصل کر سکے اور نہ انھیں اپنے زمانے کے دونوں آرمی چیفس کا اعتماد مل سکا۔صدر مملکت کوشش کے باوجود اب تک موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے رابطہ نہیں کر سکے ہیں‘ سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے ایک کالم میں بتاتے ھیں کہ تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل اور مجودہ صدر مملکت عارف علوی بدقسمتی سے اعتماد کی دولت سے محروم ہیں‘ یہ بے چارے آج تک اپنے وزیراعظم کا اعتماد حاصل کر سکے اور نہ انھیں اپنے زمانے کے دونوں آرمی چیفس کا اعتماد مل سکا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کا معاملہ مختلف تھا‘ عمران خان اور جنرل باجوہ کی لڑائی میں صدر پستے رہے‘ انھوں نے معاملات درست کرنے کی بہت کوشش کی‘ یہ چھ مرتبہ خفیہ طور پر جنرل باجوہ سے ملے اور یہ دو مرتبہ ایوان صدر میں عمران خان کو جنرل باجوہ کے سامنے بٹھانے میں بھی کام یاب ہو گئے مگریہ اس کے باوجود عمران خان اور جنرل باجوہ دونوں کا ٹرسٹ حاصل نہ کر سکے۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ صدر کوشش کے باوجود اب تک موجودہ آرمی چیف سے رابطہ نہیں کر سکے‘ صدر کو 23 مارچ سے بہت توقعات تھیں‘ صدر کا خیال تھا 23 مارچ کو آرمی چیف کو مجھ سے ملاقات کرنی پڑے گی اور یوں دھاگے کا سرا ان کے ہاتھ میں آ جائے گا مگر 23 مارچ سے پہلے ہی خلیج میں اضافہ ہو گیا‘ ایوان صدر سے افواج پاکستان کے ریٹائر ہونے اور نئے آنے والے سربراہان کو فیملی سمیت کھانے کی دعوت دی جاتی ہے۔

یہ دعوت اس بار بھی دی گئی‘نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کے اعزاز میں 16مارچ کوایوان صدر میں کھانا تھا‘ جنرل ساحر فیملی سمیت کھانے پر گئے‘ صدر نے انھیں کھانے کے بعد چائے کے دوران بتایا میرے پاس آرمی چیف کا موئل نمبر نہیں ہے‘ ملکی حالات بہت خراب ہیں‘ آپ درمیان میں پل کا کردار ادا کریں۔

جنرل ساحر نے یہ بات خاموشی سے سنی اور اس کے بعد موضوع گفتگو بدل دیا‘ صدر نے اس کے بعد آرمی چیف اور ڈی جی آئی کو بھی فیملی سمیت کھانے کی دعوت دی تھی لیکن پہلے ڈی جی آئی کی طرف سے معذرت آ گئی اور پھر جی ایچ کیو سے بھی معذرت کر لی گئی‘ صدر کی تمام تر توقعات اب 23 مارچ کی پریڈ سے وابستہ ہو گئیں۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یوم پاکستان کی پریڈ اس مرتبہ ایوان صدر میں تھی‘ صدر کا خیال تھا آرمی چیف آئیں گے اور انھیں صدر کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنا پڑے گا اور یوں درمیان سے اجنبیت کی دیوار کھسک جائے گی لیکن 23 مارچ کی صبح بارش ہو گئی اور یوں پریڈ منسوخ ہو گئی اور یہ موقع بھی ضایع ہو گیا۔

تاہم عید پر پہلی مرتبہ تحائف کا تبادلہ ہوا اور شاید چند دنوں میں آرمی چیف کی صدر کے ساتھ پہلی باضابطہ ملاقات بھی ہو جائے لیکن اس ملاقات کا عمران خان یا پی ٹی آئی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘ کیوں؟ کیوں کہ معاملات حد سے زیادہ خراب ہو چکے ہیں۔

Back to top button