ملک سے غداری کی ہے تو پھانسی پر لٹکا دیا جائے قبول کروں گا

 پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ اگر ملک سے غداری کی ہے تو پھانسی پر لٹکا دیا جائے قبول کروں گا۔

اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت کے سلسلے میں شاہ محمود کو پیش کیا گیا جس دوران میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک عزیز ہے اور مجھے یقین ہے میں نے کبھی ملک سے غداری نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ موت برحق ہے، جہاں قید ہوں چند قدم دور پھانسی گھاٹ ہے، اعتماد سے کہتا ہوں، ملک کا وفادار ہوں، اگر ملک سے غداری کی ہے تو پھانسی گھاٹ پر لٹکا دیا جائے قبول کروں گا۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین ایک ہی تھے اور ہیں، کوئی ابہام نہیں، میں نے پاکستان کے مفادات کو اولیت دی، ملک معاشی اور آئینی بحران کا شکار ہے جس کا حل شفاف انتخابات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ذاتی انا سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا، ملک مشکل میں ہے، اپنے رویوں پر سب کو نظرثانی کرنی ہوگی۔

 خصوصی عدالت نے سائفرکیس میں شاہ محمود کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کردی۔اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں سابق وزیر خارجہ کو جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کیا گیا۔

عدالتی عملے نے شاہ محمود سے کہا کہ سائفرکیس میں آپ کی کل کے لیے درخواست ضمانت مقرر ہے، اس پر شاہ محمود نے پوچھا کہ کیا کل مجھے جوڈیشل کمپلیکس آنا ہوگا؟ اس پر عدالتی عملے نے کہا کہ نہیں درخواست ضمانت پر آپ کو کل جوڈیشل کمپلیکس نہیں آنا پڑےگا، جج ابوالحسنات اٹک گئے ہوئے ہیں، آپ کو آج حاضری لگا کر واپس بھیج دیں گے جو اگلی تاریخ چیئرمین پی ٹی آئی کے کیس کی ہوگی، وہی آپ کی ہوگی۔

بعد ازاں خصوصی عدالت کے جج نے مختصر سماعت کے بعد شاہ محمود کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 ستمبر تک توسیع کردی۔

Back to top button