کیا استحکام پاکستان پارٹی واقعی مسلم لیگ ن کی بی ٹیم ہے؟

نئی سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی کے سرپرست اعلی جہانگیر ترین کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات استحکام پاکستان پارٹی کے لیے زہر قاتل ثابت ہوگی۔ استحکام پاکستان پارٹی کو یہ تاثر دور کرنا ہے کہ وہ ن لیگ یا پی ڈی ایم کی کوئی بی ٹیم ہے۔ اس لیے یہ ملاقات نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ ایسا تاثر دینا چاہیے کہ اس ملاقات سے انکار کیا گیا ہے۔ اگر عون چوہدری کو استحکام پاکستان پارٹی کے اہم عہدے دیے گئے ہیں تو انھیں شہباز شریف کی کابینہ سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف استحکام پاکستان پارٹی اپنی الگ شناخت کے لیے سیاست کرے اور دوسری طرف ان کا اہم عہدیدار شہباز شریف کی کابینہ کا ممبر ہے۔ اسی طرح نعمان لنگڑیال کو بھی استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت دو کشتیوں کی سوار نہیں ہو سکتی اور واضح پالیسی کے بغیر چل بھی نہیں سکتی۔ ان خیالات کا اظہار سینئر کالم نگار مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ استحکام پاکستان پارٹی کے عہدیداران کا اعلان شروع ہو گیا ہے۔ عبد العلیم خان کو صدر بنا دیا گیا ہے، چند اور اہم عہدیداران کا بھی اعلان ہو گیا ہے۔ جہانگیر ترین نے اعلان کیا ہے کہ باقی عہدیداران کا اعلان بھی جلد کر دیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ناراض ارکان جن کی قیادت راجہ ریاض بطور قائد حزب اختلاف کر رہے ہیں ،کیا وہ بھی استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ ہیں یا نہیں۔ اس بارے میں کوئی واضح اعلان بھی سامنے نہیں آیا۔ اگر تحریک انصاف کے منحرف رہنما استحکام پاکستان پارٹی میں اکٹھے ہو رہے ہیں تو راجہ ریاض اور ان کے ساتھی کیوں نہیں گئے‘ویسے بھی جہانگیر ترین اور راجہ ریاض کا قریبی تعلق کوئی راز کی بات نہیں، مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ جو سنیٹرز تحریک ا نصاف سے علیحدگی کا اعلان کر رہے ہیں، وہ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں تاحال شامل نہیں ہوئے۔ یہ بات بھی نا قابل فہم ہے کہ یہ لوگ اپنا وزن استحکام پاکستان پارٹی میں کیوں نہیں ڈال رہے ہیں؟ یہ سوال اہم ہےکہ موجودہ سنیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی کی ترجیح استحکام پاکستان پارٹی کیوں نہیں ہے؟ اگر پہلے دن دس پندرہ ارکان قومی اسمبلی اور سنیٹرز جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہوتے تو لانچنگ کو چار چاند لگ جاتے۔۔ جتنی محنت باقی لوگوں کو اکٹھا کرنے میں کی گئی ہے اتنی ان ارکان کو بھی ساتھ ملانے میں کی جانی چاہیے تھی۔اگر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بھی نئی پارٹی کی لانچنگ میں موجود ہوتے تو منظر نامہ بدل جاتا۔ سندھ اسمبلی کے بھی متعدد ارکان تحریک انصا ف سے علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔ انھوں نے بھی استحکا م پاکستان پارٹی کی حمایت کا اعلان کیوں نہیں کیا۔ کل بھی ایک رکن سندھ اسمبلی نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اس نے بھی استحکام پاکستان پارٹی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے۔ کیوں؟ کیا ان سب سے رابطہ ہی نہیں کیا گیا۔ یہ کیا بات ہے کہ عمران اسماعیل اورعلی زیدی سندھ سے دو تین ارکان سندھ اسمبلی بھی ساتھ لے کر نہیں آسکے ۔کیا یہ دونوں اتنے غیرمقبول تھے کہ ایک بھی رکن ان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کے حوالے سے سب ایک ہی سوال کر رہے ہیں کہ ان کا ووٹ بینک کہاں سے آئے گا۔یقینا ان کو سمجھ ہوگی کہ وہ اب نواز شریف یا کسی اور جماعت کا ووٹ بینک تو حاصل نہیں کر سکتے۔ ان کے لیے واحد آپشن یہی ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ووٹر کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوئی حکمت عملی بنائیں۔ جیسے جیسے تحریک انصاف کا ووٹر بد ظن ہو تواس کے لیے واحد چوائس استحکام پاکستان پارٹی ہی بن جائے۔ وہ بیلٹ پیپر حاصل کرے تو استحکام پاکستان پارٹی پر مہر لگانے پر مجبور ہو جائے۔ اس لیے اس کام کے لیے انھیں کہیں نہ کہیں ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے دوری رکھنا ہوگی۔ اگر راجہ ریاض آجاتے ہیں تو ایک بہتر اپوزیشن بھی کہی جا سکتی ہے۔جیسے جیسے تحریک انصاف کمزور ہو گی ویسے ویسے استحکام پاکستان پارٹیٰ کو مضبوط ہونے کا موقع ملے گا۔ جیسے جیسے چیئرمین تحریک انصاف کمزور ہوںگے، استحکام پاکستان پارٹی کو مضبوط ہونے کا موقع ملے گا۔ جیسے جیسے وہ مائنس ہوں گے، انھیں پلس ہونے کا موقع ملے گا۔ لیکن یہ کوئی یقینی نہیں۔ اس کے لیے استحکام پاکستان پارٹی کو ایک واضح سیاسی پالیسی کے ساتھ سامنے آنا ہوگا۔ گو مگو کی سیاست نہیں چل سکے گی۔
تحریک انصاف کے غلط فیصلوں کو سامنے لانا ہے اور ووٹر کو بتانا ہے کہ ان غلط فیصلوں سے کتنا نقصان ہوا ہے۔ ووٹر کو بتانا ہے کہ قومی اسمبلی سے مستعفی ہونا کتنا بڑا بلنڈر تھا۔ صوبائی اسمبلیاں توڑنا کتنا بڑا بلنڈر تھا۔ القادر ٹرسٹ کی کہانی کو آگے لے کر چلنا ہے۔ ووٹر کو بتانا ہے قیادت کے غلط فیصلوں کی قیمت قوم اور ہم نے چکائی ہے۔ سابق دور کی کرپشن کی مزید کہانیاں سامنے لانا بھی اب استحکام پاکستان والوں کا کام ہے۔ کیوںیہ اب ان کی جنگ ہے۔ ان کا ٹارگٹ نواز شریف نہیں پی ٹی آئی کا قائد ہے۔ جب تک وہ یہ نہیں سمجھیں گے آگے چلنا مشکل ہوگا۔ یہی ان کے پاس واحد آپشن ہے۔ اب سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے آپشن کو وقتی طور پر ختم کر کے آگے کا لائحہ عمل بنانا ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاسی موت ہی استحکام پاکستان

باجوہ دور میں سزا پانے والے جنرل کے بیٹے کی رہائی

پارٹی کی زندگی ہے۔

Back to top button