پاکستانیوں کو اب شمسی بجلی کی عادت کیوں ڈال لینی چاہئے؟

پاکستان میں توانائی بحران، مہنگی ترین بجلی کے دور میں پاکستانیوں کو آف سیزن میں سستے ہونے والے سولر پینل کی آفرز سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے، اگر آپ نے بجلی کے بلوں سے تنگ آکر کبھی شمسی توانائی سے مدد لینے کا سوچا ہے تو آج اس پر عملدرآمد کا وقت آ گیا ہے کیونکہ سولر پینل لاکھوں روپے کمی کیساتھ سستی ترین سطح پر آ چکے ہیں۔سولر سسٹم لگانے والی ایک کمپنی کے مالک ریحان احمد نے ’’وی نیوز‘‘ کو بتایا کہ اس وقت سستا ترین سولر سسٹم ڈیڑھ کلو واٹ (1500 واٹ) کا ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے میں بھی لگ سکتا ہے مگر لاگت کم کرنے کیلئے اس پر ڈی سی کرنٹ سسٹم پر چلنے والے پنکھے اور بلب لگانے پڑتے ہیں جو پاکستان میں باآسانی دستیاب ہیں۔اس سسٹم پر 2 سے 4 پنکھے اور 5 سے 6 لائٹس 24 گھنٹے بیٹری کے ساتھ چل سکتے ہیں اور ڈی سی سسٹم کے آلات کی وجہ سے انویرٹر کی ضرورت نہیں ہوگی جس سے پیسوں کی بچت ہوگی ورنہ عام پنکھوں اور لائٹس کے ساتھ 60 سے 80 ہزار کا چھوٹا انویرٹر بھی لگانا ہوگا تاکہ ڈی سی کرنٹ کو اے سی کرنٹ میں بدل سکے۔ان کا کہنا تھا کہ 3 کلو واٹ کا سسٹم بیٹری کے ساتھ 6 لاکھ تک لگ جاتا ہے کیونکہ انویرٹر 5 کلو واٹ والا ہی لگے گا تاہم بغیر بیٹری کے 3 کلو واٹ کا آن گریڈ سسٹم 5 سے ساڑھے 5 لاکھ روپے تک پڑے گا، 5 کلو واٹ کے آن گریڈ (بغیر بیٹری) کا ریٹ اب تقریباً ساڑھے 7 لاکھ روپے ہے جو گزشتہ سال نومبر میں تقریباً ساڑھے 10 سے 11 لاکھ کا ہوتا تھا یعنی قیمت میں 4 سے ساڑھے 4 لاکھ روپے کی کمی ہوئی ہے۔یاد رہے کہ ایک اے سی تقریباً 2 کلو واٹ کا ہوتا ہے، ایک اچھا پنکھا تقریباً 100 واٹ سے کم ہوتا ہے، اس طرح 5 کلوواٹ پر اے سی کے علاوہ 5 پنکھے چلیں گے، تقریباً 20 لائٹس، ایک فریج اور استری وغیرہ بھی چل سکتے ہیں، اسی طرح 8 کلو واٹ کا سسٹم اب تقریباً 11 لاکھ کا لگ سکتا ہے جبکہ پہلے یہ سسٹم تقریباً 16 سے 17 لاکھ روپے تک کا لگتا تھا۔ریحان احمد کے مطابق 10 کلو واٹ کا آن گریڈ سسٹم اب ساڑھے 13 سے 14 لاکھ کا لگ سکتا ہے جبکہ پہلے اس کی قیمت ساڑھے 21 لاکھ تک ہوتی تھی۔سولر سسٹم امپورٹ سے منسلک مسعود خان کے مطابق قیمتوں میں کمی کی تین چار وجوہات ہیں، پہلی وجہ سولر پینل کی قیمتوں میں انٹرنیشنل سطح پر کمی آنا ہے، پاکستان میں سولر پینل اب تقریباً 33 روپے فی واٹ کم ہو گیا، پاکستانی ریٹ میں اب عام کمپنی (جے اے وغیرہ) کا سولر پینل تقریباً 57، 58 روپے فی واٹ پڑتا ہے جبکہ سب سے اچھی کمپنی لونجی کا پینل 63 روپے فی واٹ پڑتا ہے۔وی نیوز کو صارفین نے بتایا کہ اب بینکوں کی جانب سے بھی سولر سسٹم لگوانے کے لیے قرض فراہم کیا جا رہا ہے، شاہد عباسی کے مطابق بینک کے نمائندے نے انہیں کال کر کے کہا ہے کہ آ پ کو پلان بھیجا ہے جس کے مطابق رہائشی صارفین کے لیے 3 کلو واٹ سے 30 کلو واٹ تک سولر پینل لگوانے کے لیے آسان قرض فراہم کیا جائے گا اور کل لاگت کی 80 فیصد رقم قرض کی شکل میں بینک فراہم کرے گا، قرض 3 سے 10 سال کی اقساط میں دیا جا رہا ہے۔حکومت کی جانب سے بینکوں کو سبسڈائزڈ نرخوں پر قرض دینے کے لیے لمٹس دی گئی تھیں جو اکثر بینک استعمال کر چکے ہیں۔ اس کے بعد گزشتہ ڈیڑھ برس سے حکومت نے سولر کے رعایتی قرضوں کے لیے بینکوں کو نئی حد جاری نہیں کی ہے۔بینکوں کی جانب سے صارفین کو یہ سہولت بھی دی جاتی ہے کہ وہ ماہانہ اقساط ادا کرتے ہوئے اضافی رقم ادا کر کے طے شدہ مدت سے پہلے اپنا قرض لوٹا دیں۔شمسی توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ اگر حکومت رعایتی نرخوں پر قرض کی فراہمی کا سلسلہ بحال کرے اور سولر سسٹم کی پیداواری صلاحیت حاصل کرنے پر توجہ دے تو ملک کو ایندھن درآمد کرنے کے بھاری امپورٹ بل سے نجات مل سکتی ہے، اس سے تجارتی خسارے میں دیرپا بنیادوں پر کمی ہوگی۔
