ابراہم معاہدے بارے پاکستانی موقف اٹل ہے : دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ ابراہم معاہدے سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے اور اس حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،پاکستان ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا حامی ہے اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں سے بھرپور رہےہیں اور ملک نے عالمی اور علاقائی سطح پر امن،استحکام اور تعاون کے فروغ کےلیے فعال کردار ادا کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کی دعوت پر سرکاری دورہ کیا،جہاں ان کی چینی صدر اور وزیراعظم کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔وزیراعظم نے ہانگژو میں پاک چین بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) کانفرنس میں بھی شرکت کی، جس میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار بیجنگ سے نیویارک گئے،جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل سے بھی ملاقات کی، جب کہ بعد ازاں واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاک امریکا وزرائے خارجہ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران امن کے فروغ اور سفارتی رابطوں کےلیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کےلیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے قیام کےلیے اپنی کاوشیں جاری رکھےہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہبازشریف کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی،جس میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اس کے علاوہ وزیراعظم نے بحرین، کویت اور ملائیشیا کی قیادت کے ساتھ بھی رابطے کیےاور خطے میں استحکام کےلیے مشترکہ کوششوں پر گفتگو کی۔
انہوں نے کہاکہ بھارت پانی کو ہتھیار کےطور پر استعمال کررہا ہے،جو نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی روح کےخلاف ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کےلیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔پاکستان نے بھارتی اقدامات کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا ہے،تاہم پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں کے پانی کا جائز اور قانونی حق دار ہے۔پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔
ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے، ہزاروں پاکستانی شہری دہشت گردی کے باعث جانوں کا نذرانہ دےچکے ہیں، پاکستانی سکیورٹی فورسز کو سرحد پار سے منصوبہ بندی،مالی معاونت اور سرپرستی یافتہ دہشت گردی کا سامنا ہے،کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنی خود مختاری اور شہریوں کی سلامتی کو نشانہ بنانےوالے حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کےتسلسل نے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا ہے،پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں پر حملوں کو مزید برداشت نہیں کیاجاسکتا،اسی تسلسل میں پاکستان نے سرحدی علاقوں میں اپنی سلامتی کےتحفظ کےلیے ضروری اقدامات کیےہیں اور پاکستان افغانستان سے یقین دہانی چاہتا ہے کہ اس کی سر زمین پاکستان کےخلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کھری کھری کیوں سنائیں؟
طاہر اندرابی نےکہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مسائل کے حل کےلیے مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے کیوں کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام مذہب،تاریخ، ثقافت اور لسانی روابط میں گہری وابستگی رکھتے ہیں،پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہےاور بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
