ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کھری کھری کیوں سنائیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات اور کشیدگی کی بنیادی وجہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بتائی جا رہی ہیں،جس کی وجہ سے امریکہ اور ایران کے مابین جاری سفارتی کوششیں مزید پیچیدہ شکل اختیار کر گئی ہیں۔ جنگ بندی کے باوجودلبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد یارن نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا۔ اسی تناظر میں امریکی میڈیا میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک سخت فون کال کی تفصیلات سامنے آئیں، جنہوں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔

امریکی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے تصدیق کی کہ انہوں نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کی لبنان میں جاری کارروائیوں سے پریشان تھے اور انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے کہا کہ اب اس صورتحال کو روکنا ہوگا۔اگرچہ ٹرمپ نے بعد میں نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ دونوں نے ماضی میں مل کر اچھا کام کیا ہے، لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ دونوں رہنماؤں کے درمیان موجود پالیسی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ نیتن یاہو اور امریکی صدور کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بل کلنٹن، باراک اوباما اور جو بائیڈن کے ساتھ بھی ان کے تعلقات مختلف مواقع پر کشیدہ رہے۔ باراک اوباما کے دور میں ایران جوہری معاہدے پر شدید اختلافات سامنے آئے تھے، جبکہ جو بائیڈن کے دور میں غزہ جنگ اور اسلحہ فراہمی کے معاملات پر تناؤ پیدا ہوا۔

ماہرین کے مطابق موجودہ اختلافات کی اصل وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اگرچہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقصد پر متفق ہیں، لیکن اس مقصد کے حصول کے طریقہ کار پر اختلاف رکھتے ہیں۔ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے جبکہ نیتن یاہو حکومت فوجی دباؤ کو زیادہ مؤثر سمجھتی ہے۔

امریکی سابق سفارت کار بریٹ بروین کے مطابق نیتن یاہو کی ایک طویل تاریخ ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں پر قائم رہتے ہیں۔ ان کے بقول ٹرمپ اب یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ایسے اتحادی کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں جس کی ترجیحات مختلف ہوں۔

دوسری جانب امریکی عوام میں بھی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کے حوالے سے سوالات بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی نوجوانوں اور ترقی پسند حلقوں میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر غزہ جنگ کے بعد۔امریکہ کی مختلف جامعات میں فلسطین کے حق میں احتجاجی مظاہروں نے بھی اس موضوع کو امریکی داخلی سیاست کا حصہ بنا دیا ہے۔ اب اسرائیل کے لیے فوجی اور سفارتی حمایت پر پہلے کی طرح مکمل اتفاق رائے موجود نہیں رہا۔تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات صرف دو رہنماؤں کی ذاتی پسند یا ناپسند پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، فوجی امداد اور مشترکہ تزویراتی مفادات اس تعلق کی مضبوط بنیاد ہیں۔اسی لیے موجودہ کشیدگی کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے ایک پالیسی اختلاف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ البتہ یہ ضرور محسوس کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن میں اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کی روایت آہستہ آہستہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ناقدین کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان حالیہ تلخ گفتگو اسی تبدیلی کی ایک علامت سمجھی جا رہی ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگوں اور کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا تو آنے والے برسوں میں امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات اپنی نوعیت میں ضرور تبدیلی دیکھ سکتے ہیں، اگرچہ ان کے بنیادی تزویراتی روابط برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے۔

Back to top button