دفعہ144: انگریز دورکا قانون آج بھی پنجاب میں زندہ کیوں؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بظاہر زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ مال روڈ ہو یا لبرٹی مارکیٹ، کاروباری اور سماجی سرگرمیاں جاری ہیں، البتہ دکانوں کو رات نو بجے بند کرنے کے احکامات پر سختی سے عمل کروایا جا رہا ہے۔اس کے باوجود محکمہ داخلہ پنجاب نے ایک بار پھر پورے صوبے میں دفعہ 144 کے نفاذ میں ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں یہ قانون پنجاب کے شہریوں کے لیے ایک معمول کی بات بن چکا ہے اور اب شاید ہی کوئی مہینہ ایسا گزرتا ہو جب صوبے کے کسی نہ کسی حصے میں یہ نافذ نہ ہو۔
ناقدین کے مطابق فروری 2024 میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے امن و امان، سیاسی احتجاج، سکیورٹی خدشات اور انتظامی معاملات کے تناظر میں دفعہ 144 کا بار بار استعمال دیکھنے میں آیا ہے۔ اگر فروری 2024 سے جون 2026 تک کے عرصے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 820 دنوں میں سے 540 دن پنجاب کے مختلف علاقوں یا پورے صوبے میں دفعہ 144 نافذ رہی۔اس طرح موجودہ حکومت کے دور کا تقریباً 65 فیصد حصہ اس قانون کے نفاذ کے تحت گزرا ہے، جو پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال سمجھی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 180 دن ایسے تھے جب دفعہ 144 صرف مخصوص اضلاع، مثلاً لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں نافذ رہی، جبکہ تقریباً 360 دن پورے پنجاب میں ایک ہی نوٹیفکیشن کے ذریعے یہ پابندی برقرار رکھی گئی۔حکومت نے اس قانون کا استعمال صرف سیاسی اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ امتحانات کے دوران نقل روکنے، سموگ، دھند، سیلابی صورتحال، مذہبی اجتماعات اور حتیٰ کہ شادیوں میں ڈرون کے استعمال پر پابندی کے لیے بھی دفعہ 144 نافذ کی گئی۔یوں یہ قانون انتظامیہ کے لیے تقریباً ہر غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کا فوری ذریعہ بن چکا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق موجودہ حکومت کے دوران دفعہ 144 کا مسلسل نفاذ پاکستان کی جمہوری تاریخ کا طویل ترین سلسلہ بن چکا ہے۔ان کے مطابق اس مسلسل توسیع کا آغاز نومبر 2025 میں سموگ کی صورتحال کے دوران ہوا۔ ابتدا میں ایک ماہ کے لیے پابندی لگائی گئی، لیکن بعد ازاں سکیورٹی وجوہات اور دیگر انتظامی امور کا حوالہ دے کر ہر ماہ اس میں توسیع کی جاتی رہی۔ان کا مزیدکہنا ہے کہ اس طرز عمل کی جڑیں مئی 2023 کے نو مئی واقعات اور نگراں حکومت کے دور سے ملتی ہیں، جب ریاستی اداروں نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 کا وسیع پیمانے پر استعمال شروع کیا تھا۔ان کے بقول موجودہ حکومت نے اسی انتظامی ماڈل کو مزید وسعت دے دی ہے اور اب یہ قانون مستقل بنیادوں پر نافذ رکھنے کی روایت بنتی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے بقول پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دفعہ 144 کا طویل استعمال زیادہ تر فوجی حکمرانوں کے ادوار میں دیکھا گیا۔ ایوب خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف کے دور میں سیاسی سرگرمیوں اور عوامی احتجاج کو محدود کرنے کے لیے اس قانون کا بار بار سہارا لیا گیا۔ماضی میں جمہوری حکومتیں اس قانون کے طویل استعمال سے گریز کرتی تھیں کیونکہ انہیں عوامی ردعمل اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم موجودہ دور میں ایک منتخب حکومت کی جانب سے اس قانون کا مسلسل استعمال ایک نئی انتظامی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 144 دراصل برطانوی راج کے زمانے میں 1898 کے ضابطۂ فوجداری کا حصہ بنی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد ایسے اجتماعات اور تحریکوں کو روکنا تھا جنہیں برطانوی حکومت اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتی تھی۔تحریک خلافت، تحریک آزادی اور دیگر سیاسی تحریکوں کے دوران انگریز حکومت نے اس قانون کو بارہا استعمال کیا۔ڈاکٹر ارشد علی کے مطابق نوآبادیاتی دور اور موجودہ دور میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ انگریز حکومت دفعہ 144 نافذ کرنے کے بعد اس پر مکمل عملدرآمد بھی کرواتی تھی، جبکہ آج کے دور میں اسے زیادہ تر ایک ’’اسٹینڈ بائی‘‘ قانونی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق آج پنجاب میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود بازار کھلے رہتے ہیں، تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور روزمرہ زندگی جاری رہتی ہے۔ تاہم جب کوئی سیاسی جماعت احتجاج یا جلسے کا اعلان کرتی ہے تو انتظامیہ اسی پہلے سے نافذ قانون کی بنیاد پر فوری کارروائی کر سکتی ہے۔ڈاکٹر ارشد علی کہتے ہیں کہ اس طریقہ کار نے انتظامیہ کو غیر معمولی اختیارات فراہم کر دیے ہیں کیونکہ قانون کاغذی طور پر پہلے سے نافذ ہوتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کے تحت گرفتاریاں یا پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق پنجاب میں دفعہ 144 کا مسلسل نفاذ ایک طرف حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی اختیارات فراہم کرتا ہے، لیکن دوسری طرف یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ کیا ایک جمہوری معاشرے میں مستقل نوعیت کی پابندیاں معمول بن جانی چاہییں؟یہی وہ بحث ہے جو آج پنجاب میں دفعہ 144 کے طویل ترین نفاذ کے تناظر میں شدت اختیار کر رہی ہے۔
