کوکین کوئین پنکی پیشیوں پر ’’ڈرامہ کوئین‘‘ بننے سے محروم

منشیات کی بڑے پیمانے پر سپلائی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی عرف کوکین کوئین عدالتوں میں پیشیوں کے دوران میڈیا کی توجہ حاصل کرکے ہنگامہ خیز مناظر کا حصہ بن کر ڈرامہ کوئین بننے سے محروم ہو گئی۔ جیل حکام نے انمول پنکی کو ہائی پروفائل اور حساس ملزمہ قرار دیتے ہوئے عدالتوں میں فزیکل پیشی کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ویمن جیل کی سپرنٹنڈنٹ نے متعلقہ عدالتوں میں درخواستیں دائر کیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمہ کو جیل سے عدالت منتقل کرنا امن و امان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خود ملزمہ کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔عدالتوں نے ابتدائی طور پر آٹھ مقدمات میں انمول پنکی کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی اجازت دے دی ہے جبکہ مزید تیرہ مقدمات میں ایسی اجازت حاصل کرنا باقی ہے۔ امکان ہے کہ آئندہ سماعتوں میں ملزمہ جیل سے ہی آن لائن عدالت کے روبرو پیش ہوگی اور اسے عدالتوں میں لانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق انمول پنکی کے خلاف مجموعی طور پر اکیس مقدمات درج ہیں جن میں انیس مقدمات منشیات فروشی، ایک قتل اور ایک غیر قانونی اسلحہ رکھنے سے متعلق ہے۔ ان مقدمات میں گزری، درخشاں، ڈیفنس، بوٹ بیسن، سچل، ایس آئی یو، گارڈن اور بغدادی تھانوں میں درج کیس شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات 2020 سے اب تک مختلف اوقات میں درج کیے گئے۔گرفتاری کے بعد پولیس نے انمول پنکی کو نو روزہ جسمانی ریمانڈ پر اپنی تحویل میں رکھا تھا۔ اس دوران بھی پولیس نے سٹی کورٹ میں پیشی کو سکیورٹی رسک قرار دیا اور اسے کراچی سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کیا جاتا رہا۔ یہی جوڈیشل کمپلیکس ماضی میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ، متحدہ لندن کے رئیس مما، سعید بھرم، عبید کے ٹو اور دیگر ہائی پروفائل ملزمان کے مقدمات کی سماعتوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ملزمہ کو 22 مئی کو عدالتی تحویل میں جیل منتقل کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد دو سماعتوں پر بھی اسے متعلقہ عدالتوں میں پیش نہیں کیا جا سکا۔ پہلے پولیس اور بعد ازاں جیل حکام نے اس کی عدالت میں پیشی کو سکیورٹی خدشات اور ممکنہ نقصِ امن کا سبب قرار دیا۔ اسی بنیاد پر عدالتوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی اجازت طلب کی گئی، جسے بعض مقدمات میں منظور کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب تفتیشی ادارے تاحال انمول پنکی کے خلاف درج تمام مقدمات کی تحقیقات مکمل نہیں کر سکے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ ایک منظم آن لائن منشیات نیٹ ورک چلا رہی تھی اور کراچی سے لے کر پنجاب تک مختلف رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کی جاتی تھی۔ تفتیشی حکام نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ لاہور میں اس کی ایک مبینہ ڈرگ مینوفیکچرنگ لیبارٹری موجود تھی، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی بڑی کارروائی یا تفصیلی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔تحقیقات کے دوران برآمد ہونے والی منشیات کے نمونے کیمیکل تجزیے کے لیے بھجوائے گئے ہیں اور ان کی رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ انہی رپورٹس اور دیگر شواہد کی بنیاد پر پولیس متعلقہ عدالتوں میں چالان جمع کرائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق چالان جمع ہونے کے بعد انمول پنکی پر فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد مقدمات کے باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوگا۔ فی الحال ملزمہ عدالتی تحویل میں ویمن جیل میں موجود ہے اور اس کے خلاف درج مقدمات کی تفتیش جاری ہے۔
