بلوچ خواتین دہشتگرد تنظیموں کی آلہ کار کیوں بننے لگیں؟

بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ سے منسلک عناصر کے درمیان مبینہ تعاون کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس نے سیکیورٹی حلقوں میں ہلچل دی ہے۔سیکیورٹی ماہرین اور تحقیقاتی ذرائع کے مطابق مختلف شدت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ نہ صرف دہشت گردی کی کارروائیوں کو تقویت دے رہا ہے بلکہ خواتین اور نوجوانوں کو منظم انداز میں انتہا پسند سرگرمیوں میں شامل کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف شدت پسند گروہوں کے درمیان اشتراک سے انہیں تربیتی سہولتوں، مالی معاونت، اسلحے تک رسائی اور بھرتی کے وسیع نیٹ ورکس میسر آ رہے ہیں۔ اس تعاون کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور شہری آبادیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے، جس سے قومی سلامتی کو نئے خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں شدت پسند تنظیموں نے نوجوانوں اور خواتین کی بھرتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق معاشی مشکلات، سماجی کمزوریوں اور نفسیاتی عوامل سے فائدہ اٹھا کر بعض افراد کو انتہا پسند نظریات کی جانب مائل کیا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں سہولت کاری، بھرتی مہمات اور بعض صورتوں میں خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی انیس سالہ لائبہ عرف فرزانہ کا کیس خاص طور پر زیرِ بحث رہا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مارچ 2026 میں ایک مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنائی گئی، جس میں لائبہ کا نام سامنے آیا۔ تحقیقات کے مطابق وہ 2025 میں شدت پسند عناصر کے رابطے میں آئی اور بعد ازاں اسے تنظیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اسے نہ صرف ممکنہ خودکش کارروائی کے لیے تیار کیا جا رہا تھا بلکہ دیگر نوجوان خواتین کو بھی تنظیم میں شامل کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔
اسی طرح رحیمہ بی بی سے منسوب ایک کیس میں بھی بعض ایسے انکشافات سامنے آئے جنہوں نے مختلف شدت پسند گروہوں کے باہمی روابط کے بارے میں سوالات کو جنم دیا۔ تحقیقات کے مطابق ایک خاتون خودکش بمبار زرینہ رفیق کے مبینہ سہولت کاروں اور سرحد پار تربیتی روابط کی نشاندہی کی گئی۔ سیکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ خواتین کو عسکری تربیت اور خودکش کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی ماضی میں بعض دیگر شدت پسند تنظیموں سے بھی منسلک رہی ہے، جس سے مختلف گروہوں کے درمیان عملی تعاون کے امکانات پر بحث تیز ہوئی ہے۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک عناصر کے درمیان مبینہ تعاون دہشت گرد تنظیموں کو آپریشنل مہارت، بارودی مواد، مالی وسائل اور بھرتی کے مؤثر ذرائع فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کے راستے سرگرم بعض سہولت کار مختلف نیٹ ورکس کے درمیان رابطوں اور نقل و حرکت میں کردار ادا کرتے ہیں، جس سے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد آسان ہو جاتا ہے۔کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے حالیہ حملے کو بھی سیکیورٹی ماہرین اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اب بھی مختلف معاون نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث امن و امان کے قیام کی کوششوں کو مسلسل چیلنجز درپیش ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق نوجوانوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا، خواتین کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا، آن لائن انتہا پسند پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا اور بھرتی کے نیٹ ورکس کو توڑنا انسدادِ دہشت گردی کی جامع حکمت عملی کے اہم اجزا ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان اور خطے میں شدت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک پیچیدہ اور طویل المدتی چیلنج کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لائبہ عرف فرزانہ اور رحیمہ بی بی جیسے کیسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سرحد پار روابط، مقامی سہولت کار اور شدت پسند نیٹ ورکس کس طرح نوجوانوں اور خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک اس رجحان سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔
