کیا مجتبی خامنہ ای اپنے والد کے جنازے میں شرکت کریں گے؟

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں شروع تو کر دی گئی ہیں، تاہم فوری طور پر ایسا ممکن اسلیے نہیں کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جنازے میں بذاتِ خود شرکت کرنا چاہتے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ سکیورٹی صورت حال میں ایسا تب ہی ممکن ہو گا جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کسی امن معاہدے پر منتج ہوں اور مجتبیٰ خامنہ ای کو جنازے کے دوران کسی ممکنہ حملے سے محفوظ قرار دیا جا سکے۔ اسی وجہ سے جنازے کی تیاریاں شروع ہونے کے باوجود تدفین میں مزید دو سے تین ہفتے کی تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام نے پہلی مرتبہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کے حوالے سے چند اہم تفصیلات منظر عام پر لاتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی آخری رسومات ایک غیر معمولی اور تاریخی نوعیت کی تقریب ہوں گی، جس میں نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم دنیا سے لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ تہران بلدیہ میں ثقافتی و سماجی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین غالباً ذی الحج کے اختتام اور محرم الحرام کے آغاز کے دوران کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ منصوبہ بندی کے مطابق تدفین تقریباً دو ہفتے بعد متوقع ہے، تاہم حتمی تاریخ کا اعلان سکیورٹی اور انتظامی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
توکلی زادہ کے مطابق تدفینی تقریبات کی مجموعی نگرانی پاسداران انقلاب کے سپرد کی گئی ہے۔ منصوبے کے مطابق تین روزہ عوامی الوداعی پروگرام منعقد کیا جائے گا جس میں لاکھوں افراد کو سابق ایرانی رہنما کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ تہران میں کم از کم 24 گھنٹے تک عوامی دیدار اور الوداعی تقریب جاری رہے گی۔ اس کے بعد مرکزی نماز جنازہ ادا کی جائے گی جبکہ بعد ازاں میت کو مختلف شہروں سے گزار کر مشہد منتقل کیا جائے گا جہاں تدفین عمل میں آئے گی۔
ایرانی حکام کے اندازوں کے مطابق صرف تہران میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے عوامی اجتماع کے لیے ٹرانسپورٹ، سکیورٹی، طبی امداد اور ہنگامی خدمات کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ صرف تہران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ قم اور مشہد میں بھی ان کے لیے خصوصی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ ایران کے مذہبی حلقے ان تقریبات کو اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع قرار دے رہے ہیں۔
تہران کے نائب میئر کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین ان کی وصیت اور خاندان کی خواہش کے مطابق مشہد میں حرم امام رضا میں کی جائے گی۔ ایران میں یہ مقام شیعہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت اس فیصلے کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش، کشمیر، عراق، لبنان، یمن اور دیگر اسلامی ممالک سے لاکھوں عزادار مشہد پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
سرکاری اندازوں کے مطابق مجموعی طور پر دو کروڑ یا اس سے زیادہ افراد ان تقریبات میں شرکت کر سکتے ہیں، جس سے یہ جدید تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔ منصوبے کے مطابق علی خامنہ ای کی میت تہران سے مشہد لے جانے کے دوران قم، کرج، سمنان اور دیگر اہم شہروں سے بھی گزرے گی۔ ہر شہر میں کم از کم ایک روز کے لیے خصوصی تعزیتی تقریبات اور عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے تاکہ مقامی آبادی بھی آخری دیدار کر سکے۔ دوسری جانب عراق کے قبائلی عمائدین، عوامی تنظیموں اور بعض پارلیمانی حلقوں کی جانب سے بھی آیت اللہ خامنہ ای کی میت کی میزبانی اور عراق میں تعزیتی تقریبات منعقد کرنے کی درخواست سامنے آئی ہے۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں یہ ایک نہایت حساس معاملہ ہے جس پر غور جاری ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ فوجی کارروائیوں کے آغاز کے پہلے ہی روز تہران میں ہونے والے ایک حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے خاندان کے چند دیگر افراد کے ہمراہ شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔ ان کی شہادت کے بعد ایران میں قومی سوگ کا اعلان کیا گیا جبکہ جنگی حالات کے باعث تدفین کو غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں جنگ بندی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ تدفین جلد عمل میں آ جائے گی، تاہم سکیورٹی خدشات، سفارتی پیچیدگیوں اور نئی قیادت کے معاملات کے باعث یہ عمل مزید تاخیر کا شکار ہو گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایرانی حکام نے اب تک یہ ظاہر نہیں کیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کہاں رکھی گئی ہے۔ اس حوالے سے مختلف افواہیں گردش کرتی رہی ہیں لیکن حکومت نے کسی مخصوص مقام کی تصدیق نہیں کی۔ حالیہ دنوں میں بعض حلقوں کی جانب سے چار جون، یعنی عید غدیر، کے موقع پر تدفین کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم حکام نے ان خبروں کی باضابطہ تردید کر دی۔
اسلامی تبلیغ کونسل کے سربراہ محسن محمودی نے تدفین کی تقریب کو ’’عالمی سطح کا تاریخی اجتماع‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تقریب ایران اور اسلام کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھے گی۔ ان کے مطابق عراق سمیت متعدد ممالک سے لاکھوں افراد نے شرکت کے لیے رجسٹریشن اور آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان میں بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ اور گلگت بلتستان سمیت متعدد علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں بعض مقامات پر پرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے۔ گلگت بلتستان میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا اور فوج کو طلب کرنا پڑا تھا۔ مظاہرین کی جانب سے امریکی سفارتخانے، قونصل خانوں اور دیگر مغربی مفادات کے مراکز کی جانب مارچ کرنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان اقدامات کو روک دیا۔ مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
افغان روس سیکیورٹی معاہدہ، ایک نیا جغرافیائی سیاسی چیلنج کیوں؟
پاکستانی حکومت نے ایک طرف آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی مذمت کی جبکہ دوسری جانب عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل بھی کی۔ ملک کے کئی حصوں میں دفعہ 144 نافذ کی گئی اور حساس تنصیبات کی سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ اب جب کہ ان کی تدفین کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہی ہیں، خطے بھر کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ایسا سفارتی پیش رفت سامنے آتی ہے یا نہیں جو مجتبیٰ خامنہ ای کی محفوظ شرکت کو یقینی بنا سکے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں میں سے ایک آئندہ چند ہفتوں کے دوران مشہد میں منعقد ہو سکتا ہے۔
