افغان روس سیکیورٹی معاہدہ، ایک نیا جغرافیائی سیاسی چیلنج کیوں؟

افغانستان ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ تاہم اس بار وجہ دہشتگردانہ کارروائیاں نہیں بلکہ طالبان حکومت اور روس کے درمیان طے پانے والا سکیورٹی تعاون کا معاہدہ ہے، جس نے نہ صرف خطے کی سیاسی بساط پر نئی بحث چھیڑ دی ہے بلکہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
خیال رہے کہ 27 مئی کو طالبان حکومت اور روس کے درمیان سکیورٹی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ بظاہر یہ معاہدہ دہشت گردی کے خلاف تعاون، سکیورٹی روابط اور دفاعی شعبے میں ہم آہنگی بڑھانے کیلئے کیا گیا ہے، لیکن اس کے پس منظر اور ممکنہ نتائج کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں کیونک طالبان حکومت گزشتہ چند برسوں سے بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت اور سفارتی قبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں روس کے ساتھ سکیورٹی تعاون طالبان کیلئے ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔ ماسکو ان چند طاقتوں میں شامل ہے جنہوں نے طالبان کے ساتھ رابطے برقرار رکھے اور افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ واقعی افغانستان کے بنیادی مسائل حل کر سکتا ہے؟
مبصرین کے مطابق افغانستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت بیرونی خطرات سے زیادہ داخلی استحکام کا ہے۔ ملک شدید معاشی مشکلات، بیروزگاری، انسانی بحران اور بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ طالبان حکومت کو اب بھی مکمل بین الاقوامی قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ یہی وہ چیلنجز ہیں جو افغانستان کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
دوسری جانب روس خود یوکرین جنگ اور مغربی پابندیوں کے باعث معاشی اور عسکری دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ماسکو کیلئے افغانستان کو بڑے پیمانے پر فوجی یا مالی امداد فراہم کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین اس معاہدے کو زیادہ تر علامتی اور سفارتی نوعیت کا قدم قرار دیتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جغرافیائی سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ معاہدہ خطے میں نئی صف بندی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ روس وسط ایشیا میں اپنی سکیورٹی پوزیشن مضبوط رکھنا چاہتا ہے جبکہ طالبان حکومت علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بڑھا کر اپنی بین الاقوامی تنہائی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماہرین کے بقول اس معاہدے کے اثرات صرف افغانستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان، چین، ایران اور وسط ایشیائی ریاستیں بھی اس پیش رفت کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ اگر روس اور طالبان کے تعلقات مزید مضبوط ہوتے ہیں تو خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی ترجیحات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
تاہم ایک بنیادی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے۔ افغانستان کا مستقبل صرف خارجی معاہدوں سے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ جب تک ملک میں جامع سیاسی نظام، اقتصادی استحکام، عوامی شمولیت اور عالمی سطح پر قبولیت پیدا نہیں ہوتی، کسی بھی بیرونی اتحاد کے فوائد محدود رہیں گے۔ مبصرین کے مطابق طالبان-روس سکیورٹی معاہدہ یقیناً ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ تعاون افغانستان کے عوام کو حقیقی استحکام، معاشی مواقع اور سکیورٹی فراہم کر پاتا ہے یا محض عالمی طاقتوں کی نئی جغرافیائی سیاسی کشمکش کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوگا کہ ماسکو اور کابل کے درمیان بڑھتی قربت افغانستان کیلئے ایک نئی راہ کھولتی ہے یا اسے ایک اور پیچیدہ علاقائی طاقت کے کھیل میں الجھا دیتی ہے۔
