فارم 47 بیانیہ: PTI دوسال بعد بھی مینڈیٹ چوری ثابت کرنے میں ناکام

فروری 2024 کے عام انتخابات پاکستان کی سیاسی تاریخ کے متنازع ترین انتخابات میں شمار ہوتے ہیں۔ انتخابات کے فوری بعد پاکستان تحریک انصاف نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کے امیدواروں کی کامیابی کو فارم 47 میں ردوبدل کے ذریعے شکست میں تبدیل کیا گیا اور عوامی مینڈیٹ "چوری” کیا گیا۔ یہی مؤقف بعد ازاں پارٹی کے سب سے بڑے سیاسی بیانیے کی شکل اختیار کر گیا۔ تاہم دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد انتخابی ٹربیونلز میں سامنے آنے والے نتائج نے اس بیانیے کے قانونی پہلو پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

فافن کے اعداد و شمار کے مطابق 374 انتخابی عذر داریوں میں سے 246 کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ان میں سے 242 درخواستیں مسترد ہوئیں جبکہ صرف چار درخواستیں کامیاب رہیں، اور یہ بھی بلوچستان اسمبلی کے چند حلقوں سے متعلق تھیں جن کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں تھا۔یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ درخواستیں دائر کی تھیں۔ ان درخواستوں کا بنیادی مؤقف یہی تھا کہ فارم 45 کے نتائج کو فارم 47 میں تبدیل کرکے انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے۔ لیکن ٹربیونلز میں ان الزامات کو ثابت کرنے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

ناقدین کے مطابق یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ ٹربیونلز کی جانب سے درخواستوں کے مسترد ہونے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ انتخابی عمل پر اٹھائے گئے تمام سیاسی سوالات ختم ہو گئے ہیں۔ تاہم قانونی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کسی بھی الزام کو ثابت کرنے کیلئے قابلِ قبول شواہد، مکمل دستاویزات اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوتی ہے۔ فافن کے مطابق بڑی تعداد میں درخواستیں یا تو ناقابل سماعت قرار پائیں، یا شواہد کی کمی کے باعث مسترد ہوئیں، یا پھر درخواست گزار الزامات ثابت نہ کر سکے۔اسی پہلو نے پی ٹی آئی کیلئے ایک سیاسی اور قانونی چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ سیاسی جلسوں، عوامی اجتماعات اور سوشل میڈیا پر مقبول بیانیہ جب عدالت یا ٹربیونل میں پہنچتا ہے تو وہاں فیصلہ جذبات یا سیاسی مقبولیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ شواہد اور قانونی معیار پر کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی اور اس کے حامی یہ مؤقف بھی اختیار کرتے ہیں کہ انتخابی نظام، عدالتی تاخیر اور دیگر عوامل نے انصاف کے حصول کو مشکل بنایا۔ اسی لیے متعدد فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جہاں اب بھی بڑی تعداد میں اپیلیں زیر سماعت ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو "مینڈیٹ کی چوری” کا بیانیہ پی ٹی آئی کی مزاحمتی سیاست کا بنیادی ستون رہا ہے۔ اسی بیانیے نے پارٹی کارکنوں کو متحرک رکھا اور عوامی حمایت کا ایک حلقہ بھی قائم رکھا۔ لیکن انتخابی ٹربیونلز کے فیصلوں نے اس مؤقف کو قانونی سطح پر تقویت دینے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ میں زیر التوا اپیلوں سے مختلف نتائج سامنے آتے ہیں تو سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر موجودہ رجحان برقرار رہتا ہے تو پی ٹی آئی کو اپنے بعد از انتخابات بیانیے اور سیاسی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنا پڑ سکتا ہے۔آخرکار یہ معاملہ صرف ایک سیاسی جماعت یا چند حلقوں کا نہیں بلکہ پاکستان کے انتخابی نظام، قانونی عمل اور عوامی اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فارم 47 کا تنازع آئندہ بھی ملکی سیاست اور عدالتی مباحث کا اہم موضوع بنا رہے گا، چاہے اس کے سیاسی اثرات کچھ بھی ہوں۔

Back to top button