پاکستانی بحری جہازوں پر حملہ ناقابلِ قبول ہوگا، دفتر خارجہ

 

 

 

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکرز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے بحری جہازوں پر حملہ ناقابل قبول ہوگا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی سخت مذمت کرتا ہے۔پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی تشویش ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ سعودی عرب کی تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا یا اس حوالے سے دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے۔سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو لاحق خطرات پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا، جبکہ پاکستان کے سمندری مفادات پر حملہ اس کے خودمختار مفادات کے خلاف سنگین اقدام ہوگا۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تمام فریقوں پر تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ہے اور پاکستان مذاکرات و سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے بھی پُرامید ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کیں، جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے بقول، بات چیت ہی کشیدگی کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ ہے اور تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن اور عالمی تجارت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نائب وزیراعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

 

Back to top button