بھارتی فورسز کی جارحیت، 3000 کشمیری جوان گرفتار، متعدد مکان مسمار

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے بڑے پیمانے پر سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں کرتے ہوئے 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لے لیا، جبکہ متعدد رہائشی مکانات بھی مسمار کر دیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے سرچ آپریشن کے دوران مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور متعدد شہریوں کو حراست میں لیا۔ یہ کارروائیاں کُلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ، ہندواڑہ اور دیگر علاقوں میں کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نقل و حرکت پر پابندیوں اور اضافی سکیورٹی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکام نے وادی کے حساس مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کر دی ہے اور مختلف علاقوں میں نئی چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔ فورسز کی جانب سے گاڑیوں، مسافروں اور پیدل چلنے والوں کی تلاشی کا عمل بھی مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

بھارتی پولیس کے سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ سرچ آپریشن کے دوران 3 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ مزید کارروائیاں بھی جاری رکھی جائیں گی۔

یہ کریک ڈاؤن ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں گزشتہ روز ہونے والے ایک حملے کے بعد مزید تیز کر دیا گیا، جس میں ایک بھارتی پولیس اہلکار ہلاک ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھارتی فورسز نے وادی بھر میں سرچ آپریشنز اور گرفتاریوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا۔

 

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی قانونی گنجائش موجود نہیں، پاکستان

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ہدایات پر بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کر دیے۔

Back to top button