سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی قانونی گنجائش موجود نہیں، پاکستان

پاکستانی سفارت کار انصار شاہ نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کی قانونی گنجائش موجود نہیں ہے۔

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی نمائندے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔

سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفارت کار انصار شاہ نے کہا کہ بھارت زمینی حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ اگست 2025 میں ثالثی عدالت بھی قرار دے چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بھارت کا یہ طرزِ عمل علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

دوسری جانب انصار شاہ نے مزید کہا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق بھارت کے الزامات بے بنیاد ہیں اور دراصل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی اور مالی معاونت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ ان کے بقول بھارت کے حمایت یافتہ گروہوں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ شامل ہیں، نے پاکستان میں ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

پاکستانی سفارت کار نے یہ بھی کہا کہ شمالی امریکہ سمیت مختلف ممالک میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں بھارت کے مبینہ ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت دہشت گردی کا شکار نہیں بلکہ دہشت گردی کا سرپرست ہے۔

بھارتی نمائندے کو جواب دیتے ہوئے انصار شاہ نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کا بھی مرتکب ہے، بالخصوص بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں، جہاں کشمیری عوام کو سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے برخلاف حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے منشور، خصوصاً آرٹیکل 25، کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے، جس کے مطابق تمام رکن ممالک سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ ان کے بقول، جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ ہی ہے، اور کسی بھی یکطرفہ یا غیر قانونی اقدام سے اس کی متنازع قانونی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

 

ایران کا جوابی وار، کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے

انصار شاہ نے زور دیا کہ بھارت عالمی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنی تمام قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔

Back to top button