پشاور حملہ: کیا دہشت گردوں کے ‘سلیپنگ سیلز’کی کارروائی ہے؟

پشاور کی پولیس لائنز مسجد میں ہونے والے دھماکے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حملے کے بعد جہاں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے مطالبے کیے جا رہے ہیں تو وہیں بعض ماہرین اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے سلیپنگ سیلز متحرک ہو رہے ہیں۔

پشاور میں یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حال ہی میں کالعدم تحریکِ طالبان یعنی ٹی ٹی پی نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ خیبرپختونخوا کی سیاسی شخصیات سمیت ملک میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں کو بھی دھمکیاں دی گئی تھیں۔خیبرپختونخوا کے علاوہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی پولیس سی ٹی ڈی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتِ حال زیادہ خراب ہے۔اُن کے بقول 2021 کے مقابلے میں 2022 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں 42 فی صد اضافہ ہوا ہے۔افسر کا کہنا تھا کہ حالیہ دہشت گردی کے پیچھے ٹی ٹی پی کا ہی ہاتھ رہا ہے جو خیبرپختونخوا میں زیادہ منظم ہو رہی ہے جب کہ بلوچستان میں بھی اس کی کچھ کارروائیاں سامنے آئی ہیں۔

تاہم دوسری طرف پاکستانی حکام کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف وقتاً فوقتاً کارروائیاں جاری رہتی ہیں، لیکن اس کے باوجود دہشت گردوں یا اُن کے سہولت کاروں کو کہیں نہ کہیں سے کوئی کمک مل جاتی ہے جس سے فائدہ اُٹھا کر یہ دہشت گردی کرتے ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کے پی کے اور بلوچستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں کرنے والے شدت پسند کیا پنجاب اور سندھ میں بھی دہشت گردی کر سکتے ہیں؟ اس بارے بات کرتے ہوئے سی ٹی ڈی افسر نے کہا کہ داعش پاکستان میں دراندازی کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ابھی تک پاکستان میں قدم نہیں جما سکی۔ القائدہ غیر فعال ہے اور اس وقت بڑے حملے کرنے کے قابل نہیں ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں اپنی کارروائیوں کو پھیلا سکتی ہے لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زیادہ تر اہداف کو خیبر پختونخوا تک ہی محدود رکھے گی۔

ایک سوال کے جواب میں سی ٹی ڈی افسر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی نسبتاً کم فعال ہے کیوں کہ وہاں کی صوبائی حکومت نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔خیبرپختونخوا حکومت ایسے الزامات کی تردید کرتے ہوئے واضح کر چکی ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

حالیہ دہشتگردانہ کارروائی کے بعد یہ بحث بھی زوروں پر ہے کہ ان کارروائیوں کی وجہ سے انتخابات میں تاخیر ہو سکتی  ہے؟ اس حوالے سے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سمجھتے ہیں کہ صوبہ پنجاب میں امن اومان کی صورتِ حال بہتر ہے جس سے عام انتخابات یا صوبائی سطح پر انتخابات پر کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔اُن کا کہنا تھا کہ پولیس کا کام ہے کہ امن ومان قائم رکھا جائے جب کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کیخلاف مقدمہ درج

Back to top button