فون ٹیپنگ کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا

وفاقی حکومت کی جانب سے حساس ادارے کو فون ٹیپ کرنےکی اجازت دینے کا اختیار لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔
لاہور کے ایک شہری نے ایڈووکیٹ ندیم سرور کی وساطت سے درخواست لاہور ہائی کورٹ دائر کردی، دائر درخواست میں وزیر اعظم،وفاقی حکومت اور پی ٹی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ دائردرخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ایک نوٹی فکیشن میں خفیہ ایجنسی کو لوگوں کے فون ٹیپ کرنے کی اجازت دی ہے،پی ٹی اے ایکٹ کے جس سیکشن کے تحت نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے اس کےابھی تک رولز نہیں بنے ہیں،آئین پاکستان شہریوں کو پرائیویسی،آزادی اظہار رائے فراہم کرتا ہے۔
پارلیمانی پارٹی میں عمرایوب کے گھر چھاپے کیخلاف قراردادمنظور
دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے مطابق بھی لوگوں کے فون ٹیپ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، رخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت حکومت کا خفیہ ایجنسی کو فون ٹیپ کرنے کی اجازت دینے کا نوٹی فکیشن غیرقانونی قرار دے اوردرخواست کے حتمی فیصلے تک مذکورہ نوٹی فکیشن کی کارروائی کو معطل کرے۔
