سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو ٹکٹ دینے سے انکاری کیوں؟

ملکی سیاست میں پیسے کے عمل دخل کی وجہ سے کسی عام نوجوان کے لیے الیکشن لڑنا اور منتخب ہونا ناممکنات میں تصور کیا جاتا ہے۔ایسے میں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ ماضی بعید میں پاکستان میں انتخابات جیتنا ایک عام نوجوان کی رسائی میں تھا تو وہ کیا وجوہات بنیں جن کے باعث اب یہ امر پہنچ سے دور ہے اور آج ایک عام نوجوان کو الیکشن لڑنے کے لیے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟
مبصرین کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں عام انتخابات سے قبل سیاست دانوں کی جانب سے نوجوانوں کے بہتر مواقعوں اور مستقبل کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا جانا تو معمول رہا ہے لیکن پارلیمان میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ کل ووٹرز میں سے 18 سے 35 سال کی عمر کے درمیان موجود ووٹرز کی تعداد ہے۔ الیکشن کمیشن کے ستمبر 2023 تک کے اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 35 برس کی عمر کے درمیان ووٹرز کی تعداد پانچ کروڑ 59 لاکھ سے زیادہ ہے جو کل تعداد کا 43.8 فیصد بنتا ہے۔
اس سال تمام سیاسی جماعتوں کے منشور میں نوجوانوں کی بہتری کے لیے منصوبوں اور اقدامات کے بارے میں تفصیل سے لکھا گیا ہے تاہم ایک بار پھر پاکستان مسلم لیگ ن اورپیپلز پارٹی کی جانب سے نوجوان اور نظریاتی کارکنوں کو ٹکٹ دینے میں ہچکچاہٹ نظر آتی ہے۔
سنہ 2013 کے انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے ملک بھر میں مختلف نشستوں پر نئے چہروں کو موقع دیا گیا تھا اور جہاں اکثر کو اس دوران شکست کا سامنا کرنا پڑا وہیں کچھ حلقوں میں ایسے امیدوار فتحیاب بھی ہوئے۔
تاہم جہاں پی ٹی آئی نے سنہ 2013 میں بڑے پیمانے پر نئے چہروں اور نوجوانوں پر انحصار کیا وہیں سنہ 2018 میں اسے اقتدار میں آنے کے لیے الیکٹیبلز یعنی ایسے سیاست دان جو کئی مرتبہ انتخابات جیت چکے تھے ان ہی کا سہارا لینا پڑا۔تو کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں پڑھے لکھے نوجوانوں کو انتخابات میں بطور امیدوار کھڑا کرنے سے کتراتی ہیں؟
پاکستان کے سیاسی نظام میں عام نوجوانوں کی عدم موجودگی اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہے۔صحافی اور تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق سنہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد سے مڈل کلاس سیاسی کارکنوں کے لیے سیاست میں جگہ کم ہو گئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ’سنہ 1985 کے الیکشنز کے بعد سے نظریات کی بجائے روپیہ پیسہ شامل ہو گیا۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے بعد سٹوڈنٹ یونینز پر پابندی لگ اور اب ٹریڈ یونینز بھی اس طرح سے فعال نہیں۔‘ماجد نظامی کے مطابق ’یوں نہ تو سٹوڈنٹ یونینز سے نوجوان سامنے آئے اور نہ ہی نظریات رکھنے والوں کی پاکستانی سیاست میں جگہ رہی اور سنہ 2002 کے بعد سے یہ مکمل طور پر ختم ہو گئی۔‘
دوسری جانب سیاسی جماعتوں کے اپنے تنظیمی ڈھانچے بھی اتنے مضبوط نہیں کہ نوجوان کارکن ایک درجے سے دوسرے درجے پر انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے آ سکیں اور یوں الیکشن دن بدن مہنگے ہوتے گئے۔
مبصرینکت مطابق ’الیکشن مہم کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ کو اصل میں گراؤنڈ پر انفراسٹرکچر کتنا بڑا ملتا ہے۔’انفراسٹرکچر سے یہاں مراد جان پہچان، نظریاتی کارکن، دفاتر اور بیورکریسی میں تعلقات ہیں۔‘ اس کے بعد ایک بہت بڑا چیلنج رقم جمع کرنا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’الیکشن کمیشن نے جو قانون بنایا ہوا ہے اس میں کوئی بھی نہیں کھیلتا، یہ کروڑوں کی گیم ہو چکی ہے۔‘ ’اس سب کو عبور کرنے کے بعد آخری مرحلہ ہوتا ہے ریاست۔ اگر وہ چاہے تو وہ بڑی جماعتوں کے امیدواروں کو کبھی بھی بے معنی کر سکتی ہے، تو وہ بھی خوف ہوتا ہے کہ تھانے اور ایجنسیوں کو کیسے ہینڈل کریں۔’یہ تین چار چیزیں مل کر ایک انتہائی مشکل صورتحال بن جاتی ہے اور پھر لوگ کہتے ہیں کہ یہ کسی شریف بندے یا پڑھے لکھے بندے کا کام ہی نہیں۔‘
دوسری طرف فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی چیئرپرسن مسرت قدیم کہتی ہیں کہ ہر سیاسی جماعت جیتنے والے امیدواروں کو چنتی ہے۔’اس لیے کسی بھی نوجوان امیدوار کو ٹکٹ ملنا دشوار ہوتا ہے اگر وہ اشرافیہ میں کسی بھی رہنما کی اولادوں میں سے نہ ہو۔ ورنہ اس کو اپنی جماعت میں جگہ بنانی پڑے گی اور پھر اپنے حلقے میں بھی جگہ بنانی پڑتی ہے۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں نوجوانوں کی گرومنگ کی جگہ ہونا چاہیے اور یہاں ایک نسل دوسری نسل کو سکھائے، لیکن عموماً ایسا نہیں ہوتا۔‘
