بجٹ میں پٹرولیم کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان

حکومت پاکستان سے پٹرول کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے اندر 60 روپے فی لیٹر اضافہ کروا کر بھی آئی ایم ایف کا پیٹ نہیں بھرا اور اگلے بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایک جانب حکومت جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دے رہی ہے تو دوسری طرف کئی معاشی ماہرین اور تجزیہ کار بھی اسے مشکل اور سخت فیصلہ ہونے کے ساتھ معیشت کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فیصلے کا اثر مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس اور انتہائی غریب طبقات پر بہت زیادہ پڑے گا لیکن اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پوری معیشت متاثر ہوتی جو پہلے ہی شدید ہچکولے کھا رہی ہے۔ اس لیے بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے لیے بھی تیار رہنا ہو گا۔

شہباز حکومت فوج سے زیادہ عدلیہ سے خائف کیوں ہے؟

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں فی الحال تیل کی قیمتیں کم ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، کیونکہ روس اور یوکرین میں جنگ بندی کے کوئی آثار نہیں جب کہ حکومت بھی واضح کرچکی ہے کہ وہ اب بھی عالمی منڈی سے زیادہ قیمت پر تیل خرید کر کم قیمت میں فروخت کررہی ہے۔ اسکے نتیجے میں پاکستان کے جاری کھاتوں کا خسارہ بڑھنے کے ساتھ بجٹ خسارہ بھی 2500 ارب روپے سے پہلے ہی تجاوز کرچکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس لیے آنے والے ہفتوں میں پاکستانیوں کو تیل کی مزید قیمتیں بڑھنے کےلیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

ان کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوجاتی ہیں تو بھی اس سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کے امکانات کم ہیں کیونکہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرتے وقت یہ شرط بھی قبول کی تھی کہ وہ محاصل میں اضافے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بھی عائد کرے گی جس سے رواں سال 610 ارب روپے کی آمدنی کی توقع تھی۔ مگر عمران حکومت کے بعد شہباز حکومت نے بھی اب تک لیوی عائد نہیں کی جب کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح بھی صفر ہے۔ تاہم، یہ اضافہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے ساتھ روپے کی قدر میں حالیہ کمی کی وجہ سے بھی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پٹرول مہنگائی کرنا ایک مجبوری تھی کیونکہ پچھلی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر چکی تھی جس کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پاکستان کو سنگین مسائل کا سامنا پڑتا۔لیکن انکا کہنا ہے ایسا کرتے ہوئے حکومت کو دیگر کئی محاذوں پر بھی معاشی اصلاحات متعارف کرانا ہوں گی۔

معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق ایسی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے جن سے عام پاکستانی یہ نہ سمجھے کہ ملک میں معاشی اصلاحات کی قیمت صرف وہی ادا کر رہا ہے جب کہ صنعتوں کو تحفظ اور سبسڈیز ملتی ہیں۔ اس لیے جاگیرداروں کو بھی اپنے حصے کا ٹیکس دینے پر قائل کرنا ہوگا۔ ان کے خیال میں ملک کے دفاعی بجٹ میں شامل غیر جنگی اخراجات میں کٹوتی اور کارپوریٹ سیکٹر کو دی جانے والی مراعات کو بھی ختم کرنا ضروری ہے۔

ماہرین معاشیات اقوام متحدہ کے ادارے یواین ڈی پی کی گزشتہ سال کی اس رپورٹ کا بھی حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں صرف سال 2017-18 میں انتہائی غریب افراد کے معاشی تحفظ پر مجموعی طور پر 624 ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ اسی سال اشرافیہ کو ملنے والی سبسڈیز کی مجموعی رقم 2 ہزار 660 ارب روپے تھی اوریہ رقم ملک کی مجموعی آمدن کا 7 فیصد تھی۔پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے وزیر مملکت مصدق ملک کا کہنا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ ملک کی اقتصادی حالت کو بربادی اور دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے ضروری تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے سے آئندہ چند ماہ میں معیشت میں استحکام آئے گا اور اس کا بوجھ، بقول ان کے، حکومت اور ملک کے صاحب ثروت طبقات اٹھائیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آخر یہ بوجھ ملک کے صاحب ثروت افراد کیسے اٹھائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غریب خاندانوں کی مدد کے لیے دو ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے،تاکہ وہ اپنی ضروریات کسی حد تک پوری کرسکیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک خسارے میں پیٹرولیم مصنوعات فروخت نہیں کرسکتا۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باوجود بھی عوام سے اس وقت بھی پوری قیمت خرید وصول نہیں کی جارہی۔ حکومتی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ صرف پیٹرولیم ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اجناس اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جب کہ پاکستان میں قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہے۔ اگر مقامی طور پر قرضے لے کر عوام کو سبسڈی دی جاتی تو مہنگائی کا سیلاب آتا اور اگر مصنوعی طور پر قیمتیں کم رکھی جاتیں تو اس کے اثرات معیشت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے۔

Back to top button