عوام پر پٹرول بم گرانے کے بعد بجلی کے جھٹکے لگانے کی تیاری

عوام پر مسلسل پٹرول بم گرانے والی کپتان حکومت نے اب ایک اور عوام دشمن فیصلہ کرنے کی تیاری کر لی یے جس کے نتیجے میں بجلی کی قیمت میں فی یونٹ مزید 6 روپے 10 پیسے اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت کی زیر نگرانی چلنے والے ادارے نیپرا نے حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ 6 روپے 19 پیسہ اضافہ کرنے کی سفارش کر دی ہے۔

یاد رہے کہ ابھی صرف ایک ہفتہ پہلے 12 فروری کو نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے فی یونٹ بجلی کی قیمت 3 روپے 9 پیسے مہنگی کی تھی۔ نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مرتبہ بجلی دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں قیمت میں اضافہ فروری کے بلوں کی مد میں وصول کریں گی۔ اس سے پہلے 10 دسمبر 2021 کو بھی بجلی کی قیمت میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ 4 روپے 74 پیسے اضافہ کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ اضافہ اکتوبر 2021 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے نیپرا نے 15 اکتوبر 2021 کو بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ایک روپے 68 پیسے اضافہ کیا تھا اور کہا تھا اس کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔

لیکن اب ایک ہی مہینے میں دوسری مرتبہ بجلی کی قیمت میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ناگزیر ہے کیونکہ بجلی کی پروڈکشن کاسٹ یا پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

صحافتی ناقدین کو دبانے کیلئے صدارتی آرڈیننس کا نفاذ

اس حوالے سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ درخواست جنوری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے جس پر سماعت 28 فروری کو ہوگی تاکہ بجلی کی قیمتیں بڑھانے کی حتمی منظوری لی جا سکے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی یہ درخواست کراچی الیکٹرک کے سوا بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب بھی نیپرا کی جانب سے نئے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کا اعلان ہوتا ہے تو صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آتا ہے اورحکومت کے ناقدین اس پر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے ہیں لیکن حکومت اس تنقید کو سنی ان سنی کر کے دوبارہ بجلی مہنگی کر دیتی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں پیٹرول کی قیمت 12 روپے 3 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 159 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے 03 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 53 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 10 روپے 8 پیسے، لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 43 پیسے اضافہ کر دیا گیا۔

یوں فی لیٹر پٹرول کی نئی قیمت 159 روپے 86 پیسے، لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 123 روپے 97 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 154 روپے 15 پیسے، مٹی کے تیل کی نئی قیمت 126 روپے 56 پیسے مقرر کر دی گئی ہے۔ تاہم اب ایک ہی مہینے میں دوسری مرتبہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر عمران حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔

Back to top button