شہباز شریف کی گرفتاری کا منصوبہ کیسے ناکام ہوا؟

معلوم ہوا ہے کہ 18 فروری کو ایف آئی اے کی جانب سے خصوصی عدالت میں شہباز شریف پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد ان کی گرفتاری کا پکا حکومتی منصوبہ بنایا گیا تھا تاہم عدالت نے اس روز فرد جرم عائد کرنے کی اجازت ہی نہیں دی جس سے حکومتی پلان چوپٹ ہو گیا اور شہباز شریف گرفتاری سے بچ گئے۔

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 18 فروری کے روز صدر عارف علوی کی جانب سے اچانک قومی اسمبلی کا بلایا گیا اجلاس منسوخ کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ شہباز کی گرفتاری کا پلان فائنل تھا لیکن چونکہ اسمبلی کے اجلاس کے دوران کسی رکن کی گرفتاری ممکن نہیں ہوتی اس لیے ہنگامی بنیادوں پر صدر عارف علوی نے اجلاس منسوخ کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ یاد رہے کہ صدر عارف علوی نے جمعہ کے روز بغیر کسی باضابطہ اعلان کے قومی اسمبلی کا طے شدہ اجلاس منسوخ کر کے ایک نئی مثال قائم کی جس نے سیاسی حلقوں میں ایک تنازع اور بحث کو جنم دیا ہے۔

اپوزیشن نے بھی اجلاس کے التوا کو شہباز شریف کی گرفتاری کا راستہ ہموار کرنے کی حکومتی کوشش قرار دے دیا ہے تاہم حکومت کا موقف ہے کہ وہ کچھ آرڈیننس جاری کرنا چاہتی تھی اس لیے اجلاس ملتوی کیا گیا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت سینیٹ کا اجلاس بھی نہیں چل رہا اور جب پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان کا اجلاس نہ ہورہا ہو تو صدر کی جانب سے آرڈیننس جاری کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ شہباز شریف کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے درج منی لانڈرنگ کیس میں ان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 18 فروری کو لاہور کی ایک خصوصی عدالت میں پیش ہونا تھا جہاں ان پر فرد جرم عائد ہونا تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اٹھارہ فروری کے روز ہر صورت شہبازشریف کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے تھے تاہم عدالت نے ان پر فرد جرم عائد کرنے کی اجازت نہ دی اور وجہ یہ بتائی کہ شہباز کے وکلا کو فرد جرم کی صاف کاپیاں فراہم نہیں کی گئیں۔

عوام پر پٹرول بم گرانے کے بعد بجلی کے جھٹکے لگانے کی تیاری

ایوان صدر کے ترجمان نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 18 فروری کو طلب کرنے کا نوٹیفکیشن 14 فروری کو جاری کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اجلاس ملتوی کی اطلاع نہیں دی گئی۔ نہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے اور ملتوی کرنے کی سمری وزارت قانون نے بھجوائی تھی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ تحریک انصاف کے کچھ سینئر رہنماؤں نے 17 فروری کی رات قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی رہائش گاہ پر مشاورت کر کے 18 فروری کے اجلاس کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا خیال تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پر اسی دن لاہور کی ایک عدالت میں فرد جرم عائد اور ممکنہ طور پر گرفتار کیا جانا تھا لہٰذا انہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بہانے التوا طلب کرنے کا موقع نہیں دیا جانا چاہیے۔

اس سے پہلے حکومت یہ تاثر دینے میں مصروف تھی کہ 18 فروری کو مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کیس میں فردِ جرم عائد کر دی جائے گی اور اس کے بعد ان کو تفتیش کے لئے وارنٹ لے کر گرفتار کر لیا جائے گا تاکہ وہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اعلان کردہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے کو آگے نہ بڑھائیں۔ پلان تو بہت اچھا تھا۔

اگر شہباز شریف گرفتار ہو جاتے تو مسلم لیگ ن کے اپنے ارکان میں بھی بے دلی پھیل جاتی اور اپوزیشن کے غبارے سے بھی ہوا نکل جاتی جو دعویٰ کر رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو چکی ہے اور عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آئے گی تو اس میں ہر حال میں اپوزیشن کو فتح ہی نصیب ہوگی۔ تاہم شہباز شریف ناصرف فردِ جرم سے بچ گئے بلکہ انہیں 15 دن کی چھوٹ بھی مل گئی۔

وہ بھی اس بنیاد پر کہ جو کاغذات فراہم کیے گئے تھے، ان کی فوٹو کاپیاں ٹھیک نہیں تھیں اور ان کے وکلا یہ پڑھنے سے قاصر تھے۔ لہذا ثابت ہوا کہ کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے منصوبے میں خفیہ ہاتھ بھی ملوث ہیں اور شہباز شریف کو گرفتار کرنا اب اتنا آسان نہیں رہا۔

Back to top button