شہنشاہ غزل مہدی حسن کی قبرکوڑے کا ڈھیر بن گئی

10 برس پہلے سندھ حکومت نے شہنشاہ غزل کا خطاب پانے والے معروف گائیک مہدی حسن کی کراچی میں موجود قبر پر ایک مقبرہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ انکی آخری آرام گاہ کوڑے کا ڈھیر بن چکی ہے۔ مقبرے کی تعمیر میں دس برس کی تاخیر کے بعد اب نامور سماجی رہنما سلمان صوفی کی تنظیم نے مہدی حسن کے مقبرے کی تعمیر کا اعلان کردیا ہے۔

یاد رہے کہ مہدی حسن 13 جون 2012 کو طویل عرصہ فالج کا شکار رہنے کے بعد فانی دنیا سے رخصت ہوئے تھے، انہیں نارتھ کراچی کے سیکٹر سیون بی کی شاہراہ نورجہاں پر واقع تاریخی قبرستان محمد شاہ میں دفنایا گیا تھا جو کہ انڈہ موڑ کے قریب ہے۔ مہدی حسن کی وفات کے بعد سندھ حکومت نے انکی آخری آرام گاہ پر مقبرہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ مگر بد قسمتی سے 12 سال گزر جانے کے باوجود شہنشاہ غزل کی آخری آرام گاہ پر تعمیرات نہ ہو سکیں، صورتحال یہ ہے کہ ان کی قبر کے چاروں طرف کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور آخری آرام گاہ تک پہنچنا بھی مشکل ہے۔

مہدی حسن کی قبر کی خستہ حالت اور وہاں کچرہ جمع ہوجانے کی خبریں کئی سال سے میڈیا میں رپورٹ ہو رہی ہیں لیکن سندھ حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ تاہم اب ایک سماجی تنظیم سلمان صوفی فاؤنڈیشن نے شہنشاہ غزل کی قبر پر مقبرہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مہدی حسن کے اہل خانہ کی رضامندی کے ساتھ کام کریں گے۔ اسی حوالے سے سلمان صوفی فاؤنڈیشن نے انسٹاگرام پوسٹ میں مہدی حسن کی آرام گاہ پر صفائی، تزئین و آرائش اور تعمیرات کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کے سربراہ سلمان صوفی نے بتایا کہ لیجنڈری گلوکاروموسیقار کی آخری آرام گاہ کو سجانے کا کام ان کی تنطیم سر انجام دے گی اور وہ اس ضمن میں تمام لازمی اقدامات کو بھی پورا کریں گے۔ ان کے مطابق ان کے خیال میں مہدی حسن کی قبر پر تعمیراتی کام کے لیے انہیں وفاقی حکومت سمیت دیگر سرکاری محکموں سے اجازت درکار نہیں ہوگی، تاہم اگر ایسا ہوا تو بھی وہ حکومت سے اجازت طلب کریں گے۔ سلمان صوفی نے بتایا کہ البتہ وہ مہدی حسن کے اہل خانہ سے اجازت طلب کرنے کے پابند ہیں اور وہ گلوکار کے خاندان کی رضامندی اور مشوروں کے مطابق ہی کام کریں گے۔

فرحان اختر ہندو لڑکی سے نکاح کرینگے یا 7 پھیرے لیں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ شہنشاہ غزل کی قبر پر کیلی گرافی کے کام کے علاوہ ان کے مقبرے کی تعمیر کرائی جائے گی جب کہ قبر کے ارد گرد کے حصے کو بھی صاف کیا جائے گا۔ سلمان صوفی نے کہا کہ وہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے ان کی تنظیم کے ملازمین ہفتہ وار مہدی حسن کی آخری آرام گاہ پر جا کر وہاں صفائی کیا کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فنکاروں اور عظیم شخصیات کی آخری آرام گاہوں کی تزئین و آرائش کا کام صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے، آرٹس کے نام پر فنڈز وصول کرنے والی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو بھی آگے آنا ہوگا۔

سماجی رہنما کا کہنا تھا کہ مہدی حسن دنیا بھر میں مقبول تھے اور وہ پاکستان کی شناخت تھے، اس لیے ہر پاکستانی پر ان کی آخری آرام گاہ کی تعمیرات کرانا فرض ہے۔ اگرچہ انہوں نے شہنشاہ غزل کی آخری آرام گاہ پر کام کروانے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ وہ کب تک وہاں کام شروع کردیں گے۔

طویل علالت کے بعد مہدی حسن 13 جون 2012 کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں 84 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تاہم ان کے مقبول ترین گیت اور غزلیں برسوں عظیم فنکار کی یاد لاتے رہیں گے۔ 1999 میں سانس کی تکلیف کے باعث شہنشاہِ غزل نے گانا ترک کر دیا تھا جس کے بعد وہ 12 برس تک علالت کا شکار رہے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں 25 ہزار سے زائد فلمی و غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں.

ان کے حوالے سے یہ بات بھی نہایت مشہور تھی کہ جس نو فنکار پر ان کی آواز ڈب ہوتی ہے وہ راتوں رات کامیاب فنکاروں کی فہرست میں آکھڑا ہوتا تھا۔ انہیں حکومت کی جانب سے تمغۂ امتیاز، ستارۂ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا تھا۔

Back to top button