کیا صدر علوی نئے آرمی چیف کا نوٹیفکیشن روک لیں گے؟

عمران خان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر گند ڈالے جانے کے بعد اب تحریک انصاف کے اندرونی حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگر عمران خان کی مرضی کا آرمی چیف نہ لگایا گیا تو صدر عارف علوی اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نامزد کردہ فوجی سربراہ کی تقرری کا نوٹیفکیشن روک بھی سکتے ہیں۔ اس وقت عمران خان کے لانگ مارچ کے پس پردہ بہت سی کہانیاں چل رہی ہیں، اور کہا جا رہا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد حکومت کو نئے چیف کی تقرری سے پہلے انکے ساتھ مشاورت پر مجبور کرنا ہے۔ اس سے پہلے عمران نے جنرل قمر باجوہ کے عہدے میں نئے الیکشن کے بعد نئی حکومت کے قیام تک توسیع دینے کی تجویز دی تھی جسے پہلے حکومت نے اور پھر خود آرمی چیف نے بھی مسترد کر دیا۔

اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عمران خان بظاہر تو لانگ مارچ فوری الیکشن کے انعقاد کے لیے کر رہے ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ اب ایسا ہونا ممکن نہیں، ایسے میں ان کے سڑکوں پر نکلنے کا بنیادی مقصد حکومت پر آرمی چیف کی تقرری میں مشاورت کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ عمران کے نزدیک اس وقت آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ بہت ذہادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، خصوصا ایک ایسے سیاستدان کے لیے جس کا سارا کیرئیر ہی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا مرہون منت رہا ہو۔

یاد رہے کہ صدر عارف علوی خود بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت کو نئے آرمی چیف کی تقرری کے لیے عمران کے ساتھ مشورہ کرنا چاہئے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف صاف جواب دے چکے ہیں۔ ان کا یہ موقف ہے کہ آرمی چیف کی تقرری انکا صوابدیدی اختیار ہے اور ویسے بھی جب عمران وزیراعظم تھے تو انہوں نے اس حوالے سے ان کے ساتھ کبھی مشورہ نہیں کیا تھا۔ اسی دوران ن لیگ کے قائد نواز شریف واضح الفاظ میں شہباز شریف کو حکم دے چکے ہیں کہ وہ آرمی چیف کی تقرری پر عمران کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کریں گے۔

عمران خان کا لانگ مارچ انہیں الٹا کیوں پڑنے جا رہا ہے؟

ایسے میں تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگر حکومت نے عمران کے ساتھ نئے فوجی سربراہ کی تقرری پر مشورہ نہ کیا تو صدر عارف علوی اس معاملے میں مسائل کھڑے کر سکتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اپنی مرضی کا آرمی چیف تعینات کرنے کی صورت میں صدر عارف علوی اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسکی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے انکار سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر عمران اور صدر علوی کی ایک اہم ملاقات بھی ہو چکی ہے جس میں عمران نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ اگر لانگ مارچ کے باوجود حکومت الیکشن کی تاریخ دینے اور چیف کی تعیناتی پر مشاورت کیلئے راضی نہ تو انہیں کیا کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ آرمی چیف کی تقرری کا حتمی نوٹیفیکیشن صدر پاکستان کے دستخط سے جاری ہوتا ہے۔

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے یاد دلایا کہ کپتان نے ایسا ہی حکم نامہ 9 اپریل 2022 کی رات سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو بھی دیا تھا۔ عمران خود اعلان کر چکے ہیں کہ انہوں نے ہی اسد قیصر کو کہا تھا کہ تم اپنے پائوں پر کھڑے ہو جائو اور میرے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرواؤ، عمران کے مطابق انہوں نے اسد قیصر سے کہا تھا کہ تم چار سے پانچ گھنٹے نکال لو اس کے بعد تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی اور سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو میں خود سنبھال لوں گا، لیکن سپیکر اسد قیصر نے یہ کام کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور خان صاحب سے معذرت کرتے ہوئے استعفی دے دیا تھا۔

لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر عمران خان صدر عارف علوی کو نئے آرمی چیف کی تقرری کا نوٹیفکیشن روکنے کی ہدایت کرتے ہیں تو وہ اس پر عمل درآمد کریں گے یا استعفی دیں گے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی نئے آرمی چیف کی تقرری کا نوٹیفکیشن روکنے کی حمایت کسی صورت نہیں کریں گے چونکہ وہ وہ عہدے کے لحاظ سے افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں اور اپنے حلف کی پاسداری کرنا ان کا فرض ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کی نہ تو عمران مخالفت کر پائیں گے اور نہ ہی علوی نوٹیفکیشن روک پائیں گے کیونکہ اس عہدے پر ایک غیر متنازعہ شخص کو تعینات کیا جائے گا جس کا تقرر سنیارٹی کی بنیاد پر ہوگا۔

Back to top button