عمران خان کا لانگ مارچ انہیں الٹا کیوں پڑنے جا رہا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے فوری الیکشن کی آڑ میں اپنی مرضی کے آرمی چیف کی تعیناتی کی خاطر شروع کیا جانے والا لانگ مارچ اُلٹا پڑنے جا رہا ہے چونکہ اب حکومت ہر صورت میں سنیارٹی کی بنیاد پر نیا فوجی سربراہ لگائے گی تاکہ کوئی تنازعہ کھڑا نہ ہو سکے، ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی صورت آرمی چیف کی تعیناتی پر عمران کی بات نہیں سنیں گے اور اپنا آئینی اختیار استعمال کریں گے جیسے کہ عمران نے کیا تھا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ سے در پردہ مذاکرات کی ناکامی پر عمران لاہور سے اسلام آباد بذریعہ جی ٹی روڈ اپنے لانگ مارچ پر روانہ ہو چکے ہیں جس کے بعد وہ اور ان کے محسن آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ اس ”آزادی مارچ“ کا آغاز ارشد شریف کے قتل اور ڈائریکٹر جنرلز آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کی عمران مخالف منہ توڑ پریس کانفرنس کے بعد ہوا ہے۔بالآخر 2018 میں قائم کیے گئے ہائبرڈ کٹھ پتلی نیم سیاسی نظام کے تانے بانے بکھر کر سامنے آگئے ہیں اور پی ڈی ایم کے دھاندلی کے موقف کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اس وقت ہائبرڈ نظام کا واحد بینیفشری آپے سے باہر ہو چکا ہے اور اپنے سرپرستوں کو کاٹنے پر آ گیا ہے، جن ہاتھوں نے اسے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سونپا تھا وہ اب انہیں ہی کاٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ گزشتہ پانچ ماہ سے جاری میر جعفر، میر صادق، مسٹر ایکس، مسٹر وائے اور غدار غدار کی رٹ نے فوجی قیادت کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا گوکہ عمران فوجی قیادت پر دباؤ تو اس لیے بڑھا رہے تھے کہ انہیں پھر سے اسکی وہی ناجائز حمایت مل جائے جس کے سیاسی قیادت کو ذلیل و رسوا کر کے دیوار سے لگایا گیا تھا اور عمران کی دیانت و امانت کی خیالی ریاست مدینہ کا خواب بُنا گیا تھا، لیکن خان صاحب بھول گئے تھے کہ حماقت دہرانا بدتر حماقت ہے۔ جنرل باجوہ کی زیر قیادت اسٹیبلشمنٹ کا ان سے معاشقہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے اور وہ زخمی ہو کر مجبورا پیچھے ہٹ گئی، اس کے باوجود خان صاحب فوج کو سیاست میں گھسیٹنے اور اپنے ساتھ کھڑا کرنے کی کوششں میں مصروف رہے۔
امتیاز کے بقول فوج اب تک لاڈلے کے اشتعال انگیز طعنوں کو نظر انداز کیے ہوئے تھی، لیکن آخر کار اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، عمران کی خوفناک اشتعال انگیزیوں کو مسلسل درگزر کیا گیا لیکن جب ارشد شریف کی خوفناک موت بھی فوج کے سر تھوپ دی گئی تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔
یوں پہلی بار آئی ایس آئی چیف ندیم انجم اور آئی ایس پی آر چیف بابر افتخار میڈیا کے سامنے فوج کا نقطۂ نظر بیان کرنے آگئے، انہوں نے سائفر کی سازشی کہانی کو سو فیصد جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے عمران کے فوج مخالف دوغلے قول و فعل کو کھول کر سامنے رکھ دیا۔
اس پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس آئی نے عمران خان کے جھوٹ بے نقاب کر کے رکھ دئیے۔ انہوں نے راتوں کو بند کمروں میں لاڈلے کی غیر آئینی سیاسی کمک کی التجائیں اور دن میں الزامات کی بوچھاڑ کے تضاد کو بے نقاب کیا۔ یہ بھی بتایا کہ ایک جانب آرمی چیف کو تا حیات ایکسٹینشن دینے کی دلکش آفرز کی گئیں اور دوسری جانب سپہ سالار پر غداری کے الزامات لگائے گئے۔ دونوں تھری اسٹار جنرلز نے فوج کی سیاست سے مکمل دست برداری اور آئین و قانون کے دائرے میں رہنے کے ادارہ جاتی اجتماعی فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے اپنے غیر سیاسی کردار کا دفاع کیا۔
ارشد شریف کے معاملے پر دونوں جنرلز نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی جان کو کوئی خطرہ نہ تھا، وہ ایک عرصہ سے آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر گرانقدر خدمات انجام دیتے رہے اور ان کا پاکستان سے باہر جانے کے بعد بھی دونوں اداروں کے افسروں سے رابطہ رہا۔ جنرل بابر نے ارشد شریف کے قتل کے معمہ کو حل کرنے کیلئےعالمی اداروں اور ماہرین سے مدد لینے اور تحقیقات میں ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ دو اعلیٰ فوجی عہدیداروں کی مشترکہ پریس کانفرنس سے فوج کے عمران خان کیساتھ قریبی تعلقات کا ڈراپ سین ہو گیا۔ عمران نے لانگ مارچ کے آغاز پر اعظم سواتی پر کئے جانے والے مبینہ تشدد کے ذمہ دار افسروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے آئی ایس آئی چیف کو تحکمانہ انداز میں مخاطب تو کیا لیکن ملکی مفاد میں انہوں نے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔
اپنے ”آزادی مارچ“ کی ٹون سیٹ کرتے ہوئے انہوں نے ”میں قوم کو آزادی دلاؤں گا، یا مرجانا قبول کروں گا“ کا دعویٰ تو کیا، لیکن فوج کے ادارہ جاتی بیان کے بعد کپتان بیک فٹ پر آنے پر مجبور ہوگئے۔ ابھی انہیں چار روز جی ٹی روڈ پہ مختلف اجتماعات سے خطاب کرنے میں گزارنے ہیں اور عوام کے ریلے کو 4 نومبر کو پرامن احتجاج کے لیے اسلام آباد لے جانا ہے، اس دوران کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ جس طرح دہشت گردوں نے ارشد شریف کو دھمکی دی تھی جس کا تھریٹ الرٹ خیبرپختونخوا کی حکومت نے جاری کیا تھا، وہ پاکستان میں انارکی پھیلانے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
ایک طرف سیلاب سے تباہ حال کروڑوں بے گھر اور بے آسرا لوگوں کی بحالی کے لیے تقریباً 16 ارب ڈالرز درکار ہوں گے اور پاکستان عالمی ماحولیاتی انصاف کا طلبگار ہے اور دوسری جانب اسلام آباد میں ایک خوفناک سیاسی طوفان بپا ہوگا تو دنیا ہمیں کیوں سنجیدگی سے لے گی؟
لیکن امتیاز عالم کہتے ہیں کہ عمران خان کو اس کی کیا پروا؟ انہیں فکر ہے تو نئے آرمی چیف کی تعیناتی اور آئندہ انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کی۔ نئے آرمی چیف کی تعیناتی تو اب فوج کے سیاست سے کنارہ کش رہنے کے عزم کی ہی مظہر ہوگی اور سنیارٹی کے اصول سے روگردانی مشکل نظر آتی ہے جو عمران خان چاہتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ عمران کو اتنی مقبولیت حاصل ہونے کے بعد بھی فوج کی بیساکھیوں کی کیا ضرورت ہے، یا پھر انتخابات اگلے برس اگر مارچ کی بجائے مقررہ وقت پر اکتوبر میں ہوں تو بھی انہیں کوئی بڑا فرق پڑنے والا نہیں اور اتحادی حکومت کے پاس ایٹمی دھماکوں جیسا کوئی معجزہ بھی نہیں جو وہ اس قلیل عرصہ میں دکھا پائے گی۔
کیا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی ناکام ہو چکا؟
لگتا ہے فوج نے سیاست سے ہاتھ کھڑے کرنے اور عمران کے بیانیے سے ہوا نکالنے میں دیر کردی ہے۔ عمران کے بیانیے کا جو جادو چلنا تھا وہ چل چکا اور اس کا نشہ جلد ہرن ہونے والا نہیں۔ اگر کوئی بڑا حادثہ نہ ہوگیا جس کی کہ بہت سی وارننگز مل رہی ہیں، تو ان کے اس لانگ مارچ سے ان کے حامیوں کو سیاسی تھکاوٹ اور مایوسی کے سوا کچھ ٹھوس ملنے والا نہیں۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ 25 مئی کو اگر وہ دھرنے کا اعلان نہ کرتے تو اتحادی حکومت مستعفی ہوکر انتخابات کا اعلان کرنے ہی والی تھی۔ اب بھی کسی درمیانی تاریخ پر شاید کوئی اتفاق رائے کرنے کی راہ نکل سکتی ہے لیکن اس لانگ مارچ نے اس کے امکان کو بھی معدوم کردیا ہے۔ عمران خان اب اپنی سیاست کرنے میں آزاد ہوچکے ہیں۔ اب اگر ایک قدم غلط اُٹھائیں گے تو انہیں وہ بری طرح سے الٹا پڑے گا اور اگر ایک قدم سیاسی مصالحت کے لیے اُٹھائیں گے تو وہ اپنی مستقبل کی سیاست کو بچا سکتے ہیں۔
فوج کی غیرجانبداری انہیں سُوٹ کرتی ہے اور اتحادی حکومت کے لیے کمزوری کا باعث ہے۔ انہیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ایک جمہوری و آئینی راستہ اختیار کر کے اپنے جمہوری پن کو ثابت کرنے اور اس پہ کھڑا رہنے کا عزم کرنا چاہئے۔
