کیا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی ناکام ہو چکا؟


اپنے لانگ مارچ میں لوگوں کی محدود تعداد میں شرکت اور فوج اور حکومت کی جانب سے مطالبات مسترد کیے جانے کے بعد اب عمران خان نے مارچ کو ناکامی سے بچانے کے لیے لٹکانے کا فیصلہ کیا ہے اوراسی لیے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ان کا قافلہ 8 یا 9 روز میں اسلام آباد پہنچے گا۔ یہ تاریخ کا پہلا لانگ مارچ ہے جو رات کو ختم ہو جاتا ہے اور اگلی صبح اسی مقام سے شروع ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مارچ کا پلان تبدیل کرنے کا فیصلہ عمران کا اپنا ہے اور انہوں نے اس بارے کسی پارٹی لیڈر سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔ اس دوران ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ عمران آخری لمحات میں اپنے مارچ کا رخ اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی میں جی ایچ کیو کی طرف بھی موڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی تقریروں میں توپوں کا رخ شہباز حکومت کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف کیے ہوئے اینٹی فوج مومینٹم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 31 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے یہ اعلان کیا ہے کہ ان کا لانگ مارچ اب 8 یا 9 روز میں اسلام آباد پہنچے گا۔ لیکن لانگ مارچ شروع کرنے سے پہلے پارٹی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے جو شیڈول دیا تھا اس کے مطابق عمران کے قافلے نے 4 نومبر کو وفاقی دارالحکومت پہنچنا تھا۔ تاہم اسوقت خان صاحب کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ ان کی تحریک کا ٹیمپو نہیں بن پا رہا اور حکومت اور اسٹیبلشمنٹ بھی ان کے مطالبات پر مزید بات چیت کے لئے تیار نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے بڑوں کی پریس کانفرنس کے بعد عمران نے پیچھے ہٹنے کی بجائے فرنٹ پر اگر کھیلنا شروع کر دیا ہے اور اب تو باقاعدہ فوجی جرنیلوں کے نام لے کر ان پر الزامات کی بارش کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی تقریروں میں وہ مسلسل یہ بھی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے ہی بات کریں گے۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ عمران کا لانگ مارچ کیا رخ اختیار کرے گا، اور اسکے کیا نتائج نکلیں گے؟ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا اندازہ تب ہی ہو گا جب مارچ اسلام آباد کے نزدیک پہنچے گا۔ تب یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ عمران خان اصل فیصلہ سازوں پر آخری حملہ کرنے کے لئے جی ایچ کیو کا رخ کرتے ہیں یا نہیں۔ تاہم یہ اپنی نوعیت کا منفرد لانگ مارچ ہے کیونکہ دنیا بھر میں مروجہ لانگ مارچ مستقل رواں دواں رہتے ہیں اور اپنی منزل کی جانب سفر کرتے رہتے ہیں، اب تک عمران خان کے لانگ مارچ سے یہ اندازہ ہوا ہے کہ وہ دراصل ہر شہر میں رک کر چھوٹے موٹے جلسے کر رہے ہیں جن کا مقصد اسلام آباد پہنچنے سے پہلے اپنی تحریک کا مومینٹم بنانا ہے۔ نام نہاد لانگ مارچ کے دوران لوگ روزانہ جلسہ نما جلسوں میں شرکت کے بعد اپنے گھروں کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح خان صاحب بھی روزانہ رات کو زمان پارک لاہور میں واقع اپنے گھر آکر نیند لیتے ہیں اور پھر اگلے دن ایک نئے شہر پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ موصوف اسلام آباد پر حتمی یلغار کے لئے لوگوں کی بڑی تعداد کو کیسے اکٹھا کریں گے، خصوصا ًجب ان کا لانگ مارچ پہلے ہی خونریزی کرانے کا منصوبہ قرار دیا جا چکا ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پنجاب بھر میں معاملات معمول کے مطابق چل رہے ہیں، بازار، دکانیں، کاروبار پر اس مارچ کا قطعاً کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ صرف جس شہر میں مارچ ہوتا ہے اور عمران خطاب کرتے ہیں وہاں چند گھنٹے کیلئے معمولات زندگی میں فرق آتا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی کے لانگ مارچز کے برعکس جی ٹی روڈ پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے نام نہاد لانگ مارچ کے شرکا کی تعداد کم ہو رہی ہے ویسے ویسے اس کے پر تشدد اور خونی ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں کیونکہ کم تعداد کے باعث مارچ کی ناکامی واضح ہے۔

موجودہ لانگ مارچ کی ضرورت اور عمران کی حکمت عملی شاید ان کے قریب ترین ساتھیوں کو بھی سمجھ نہیں آرہی۔ لیکن کوئی بھی بظاہر اس بڑھتے طوفان کا نہ تو رخ موڑنے پر تیار ہے اور نہ ہی یہ ہمت جتا پارہا ہے کہ عمران خان کو بیک وقت معتدد محاذ کھولنے سے باز رہنے کا مشورہ دے سکے۔ یوں لگتا ہے کہ سب نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا ہے لیکن یہ کسی کو خبر نہیں کہ یہ حالات ملک و قوم کے علاوہ خود تحریک انصاف اور اس سے وابستہ اہم ترین لیڈروں کو کہاں لے جائیں گے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عمران لانگ مارچ کو عوام کا طوفان ثابت کرتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جب ان کا قافلہ اسلام آباد پہنچے گا تو اس میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد شامل ہوگی کہ حکومت یا سیکورٹی فورسز میں ان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہوگی اور انہیں بہر صورت مطالبات مان کر فوری انتخاب کروانا ہوں گے اور ان کی مرضی جان کر نیا آرمی چیف لگانے کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ تاثر بے بنیاد اور واقعاتی لحاظ سے غلط ہے۔ اوّل تو عمران نے جمعہ سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں جس ’عوامی قوت‘ کا مظاہرہ کیا ہے ، وہ ہرگز متاثر کن نہیں بلکہ موصوف کے اپنے لیے بھی مایوس کن ہے۔ اگر یہ تعداد اتنی زیادہ ہوتی کہ قافلہ جب گوجرانوالہ داخل ہو رہا ہوتا تو اس کا دوسرا حصہ شاہدرہ تک ہی موجود ہوتا، تب بھی اسے خان کی طاقت کا ثبوت مان لیا جاتا۔ لیکن اس وقت صورت یہ ہے کہ عمران ہر شام کو خطاب کے بعد ’لانگ مارچ کے شرکا‘ کو پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے کر خود آرام کرنے اور بیچ کا راستہ تلاش کرنے لاہور پہنچ جاتے ہیں۔ لہذا تجزیہ کاروں کے خیال میں ایسے جلوس کو عوام کا سیلاب کہنا اس محاورے کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔

ایسے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عمران کا لانگ مارچ فی الحال ناکام ہوچکا ہے اور اس کی حتمی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ اسلام آباد یا راولپنڈی پہنچ کر ہوگا۔ عمران نے گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران جس بے چینی اور انتہائی بدحواسی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں اندیشہ ہے کہ اسلام آباد پہنچنے تک حسب توقع مظاہرین کی تعداد جمع نہیں ہوسکے گی۔ ایسے میں قوی امکان موجود ہے کہ وہ ایک بار پھر 25 مئی کی طرح اپنا لانگ مارچ کسی نہ کسی عذر پر منسوخ یا معطل کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

Back to top button