گردہ مافیا کے کارندے اربوں کے اثاثوں کے مالک کیسے بنے؟

جب غربت انسان کو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم کر دیتی ہے تو بعض اوقات وہ اپنے جسم کے اعضا تک فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں معاشی بدحالی اور بے روزگاری نے ہزاروں خاندانوں کو ایسے ہی کربناک فیصلوں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ دوسری جانب اسی مجبوری کو سرمایہ بنانے والے منظم جرائم پیشہ گروہوں نے انسانی اعضا کی خرید و فروخت کو اربوں روپے کی صنعت میں تبدیل کر دیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی حالیہ کارروائیوں نے ایک بار پھر اس ہولناک حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ پاکستان میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کا ایک وسیع اور بین الاقوامی نیٹ ورک کئی برسوں سے سرگرم ہے۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف ملک کے مختلف حصوں میں پھیلا ہوا ہے بلکہ اس کے روابط سعودی عرب، عراق، چین، افغانستان، ترکی، ایران اور دیگر ممالک تک جا پہنچتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق گردہ مافیا مالی مشکلات کے شکار مزدوروں، دیہاڑی داروں، بھٹہ مزدوروں اور دیہی علاقوں کے غریب افراد کو معمولی رقم کا لالچ دے کر ان کے گردے حاصل کرتا ہے۔ متاثرہ افراد کو پانچ سے دس لاکھ روپے تک دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے، جبکہ یہی گردہ غیر ملکی یا صاحبِ حیثیت مریضوں کو 80 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک میں فروخت کیا جاتا ہے۔اس پورے عمل میں کروڑوں روپے مختلف ایجنٹوں، ڈاکٹروں، لیب ٹیکنیشنز اور سہولت کاروں میں تقسیم ہوتے ہیں، جبکہ گردہ عطیہ کرنے والا فرد اپنی بقیہ زندگی صحت کے سنگین مسائل کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق یہ نیٹ ورک صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ اس کے رابطے افغانستان، سعودی عرب، چین، عراق، اردن، ترکی اور دیگر ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی مریضوں کو پاکستان لا کر نجی گھروں، بنگلوں اور غیر رجسٹرڈ طبی مراکز میں خفیہ طور پر آپریشن کیے جاتے رہے۔قانونی تقاضوں سے بچنے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کی جاتیں، مریض اور ڈونر کے درمیان فرضی خاندانی تعلقات ظاہر کیے جاتے اور سرکاری منظوری کے مراحل دھوکے سے مکمل کیے جاتے تھے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس کاروبار سے وابستہ بعض مرکزی کردار بیرون ملک اربوں روپے کے اثاثے بنا چکے ہیں۔ متعدد گرفتاریاں، چھاپے اور مقدمات درج ہونے کے باوجود اس نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض افسران بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ مضبوط شواہد کے باوجود کئی مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے، جس کے باعث بعض ملزمان ضمانت پر رہا ہونے کے بعد دوبارہ اسی دھندے میں ملوث ہو گئے۔اس سیاہ کاروبار کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ گردہ فروخت کرنے والے افراد چند لاکھ روپے کے عوض اپنی زندگی بھر کی صحت کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ آپریشن کے بعد متعدد افراد مستقل بیماریوں، جسمانی کمزوری اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ اپنی روزی کمانے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتے ہیں۔دوسری طرف اس غیر قانونی تجارت سے وابستہ عناصر پرتعیش زندگی گزارتے ہوئے قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
ایف آئی اے کی حالیہ گرفتاریاں یقیناً ایک اہم پیش رفت ہیں، لیکن ماضی کے تجربات ایک بڑا سوال چھوڑ جاتے ہیں: کیا اس بار گردہ مافیا کے تمام کردار واقعی قانون کے کٹہرے میں لائے جا سکیں گے، یا یہ معاملہ بھی چند گرفتاریوں اور سرخیوں تک محدود ہو کر رہ جائے گا؟ ناقدین کے مطابق جب تک اس کاروبار میں ملوث تمام سہولت کاروں، جعلی دستاویزات تیار کرنے والوں، مالی معاونین اور بین الاقوامی رابطوں کو بے نقاب کر کے سخت سزائیں نہیں دی جاتیں، تب تک غریب پاکستانیوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے والا یہ مکروہ کاروبار ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔یہ صرف ایک جرائم پیشہ نیٹ ورک کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے صحت، قانون، احتساب اور سماجی انصاف کے نظام کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔
