پی ٹی آئی نے گلگت الیکشن میں پیپلزپارٹی کو فتح کیسے دلائی؟

گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات نے نہ صرف خطے کی سیاسی سمت پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ قومی سیاست میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی خطے کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، جبکہ وفاق میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) توقعات کے برعکس مطلوبہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی عدم موجودگی کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کی بھرپور انتخابی مہم کی وجہ سے نون لیگی حکومت سے ناراض پی ٹی آئی ووٹرز نے بھی اپنا وزن پی پی پی کے پلڑے میں ڈالا جس کی وجہ سے وفاق میں حکومت ہونے کے باوجود نون لیگ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر پیپلز پارٹی کو یہ برتری کیسے حاصل ہوئی؟ کیا اس کی وجہ مضبوط انتخابی مہم تھی، بااثر امیدواروں کی شمولیت، تحریک انصاف کی محدود سیاسی موجودگی یا پھر مسلم لیگ (ن) کی اندرونی کمزوریاں؟ ان انتخابات کے نتائج نے نہ صرف گلگت بلتستان کی سیاست بلکہ قومی سیاسی منظرنامے کے حوالے سے بھی کئی نئے امکانات اور خدشات کو جنم دیا ہے۔

خیال رہے کہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر رہی۔ تاہم پانچ حلقوں کے متعدد پولنگ سٹیشنز پر ری پولنگ کے باعث حتمی نتائج کا انتظار ابھی باقی ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی کی 33 نشستوں میں سے حکومت بنانے کے لیے 17 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ایسے میں آزاد امیدواروں کی حیثیت انتہائی اہم ہو چکی ہے اور یہی ارکان آئندہ حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کی برتری کے پیچھے کئی عوامل کارفرما رہے۔ ایک اہم وجہ پارٹی کی جانب سے مقامی سطح پر مضبوط امیدواروں، یعنی الیکٹیبلز، کو ٹکٹ دینا قرار دی جا رہی ہے۔ متعدد حلقوں میں ایسے امیدوار میدان میں اتارے گئے جو اپنی ذاتی سیاسی حیثیت اور عوامی روابط کی بنیاد پر مضبوط تصور کیے جاتے تھے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت نے انتخابی مہم کو منظم انداز میں چلایا۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے انتخابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا، جس سے کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے۔ ایسے میں یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ کیا تحریک انصاف کی انتخابی میدان میں عدم موجودگی نے الیکشن نتائج پرفرق ڈالا؟

کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کو مکمل سیاسی سرگرمیوں کے مواقع نہ ملنے کے باعث اس کے ووٹرز منتشر ہوئے، جس کا فائدہ براہِ راست پیپلز پارٹی کو پہنچا۔ تاہم بعض حلقوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے محدود وسائل کے باوجود قابلِ ذکر کارکردگی دکھائی۔اگر تحریک انصاف بطور جماعت مکمل انتخابی عمل میں شریک ہوتی تو ممکن ہے کہ نتائج مختلف ہوتے اور سیاسی مقابلہ مزید سخت ہو جاتا۔ دوسری جانب مبصرین کے مطابق وفاق میں حکومت ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان میں اپنی سیاسی طاقت کو مؤثر انتخابی نتائج میں تبدیل نہ کر سکی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی کے اندرونی اختلافات، ٹکٹوں کی تقسیم پر تنازعات اور مقامی سطح پر مضبوط امیدواروں کی کمی اس کی بڑی وجوہات میں شامل تھیں۔کئی حلقوں میں ایک ہی جماعت سے وابستہ مختلف دھڑوں کی موجودگی نے ووٹ تقسیم کیے، جس کا فائدہ مخالف جماعتوں کو پہنچا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات کو محض ایک علاقائی انتخاب سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ نتائج آئندہ بجٹ، قومی سیاسی اتحادوں، مجوزہ آئینی اصلاحات اور مستقبل کی انتخابی حکمت عملیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔اگر پیپلز پارٹی خطے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وفاقی سطح پر اس کی سیاسی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کو اپنی تنظیمی کمزوریوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑے گا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مقامی سیاسی حرکیات، مضبوط امیدوار، انتخابی ماحول اور ووٹرز کے بدلتے رجحانات کسی بھی انتخابی نتیجے کو غیر متوقع بنا سکتے ہیں۔اب تمام نظریں ری پولنگ کے بعد سامنے آنے والے حتمی نتائج پر مرکوز ہیں۔ یہ نتائج نہ صرف گلگت بلتستان کی آئندہ حکومت کا فیصلہ کریں گے بلکہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Back to top button