پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ ہی سب سے زیادہ ٹیکس کیوں دیتا ہے؟

پاکستان کے لاکھوں تنخواہ دار افراد ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں ٹیکس کی وصولی کا بوجھ زیادہ تر انہی طبقات پر پڑتا ہے جو پہلے ہی دستاویزی معیشت میں شامل ہیں۔ تنخواہ پر انکم ٹیکس دینے کے باوجود روزمرہ زندگی کی تقریباً ہر ضرورت پر انہیں دوبارہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ پیٹرول، موبائل بیلنس، بجلی کے بل اور اشیائے خور و نوش پر عائد سیلز ٹیکس ان کی محدود آمدن کو مزید محدود کر دیتے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت اپنی آمدن کا بڑا حصہ ٹیکسوں سے حاصل کرتی ہے، لیکن ایک طویل عرصے سے یہ شکایت سامنے آتی رہی ہے کہ ملک میں ٹیکس وصولی کا دائرہ محدود ہے۔ اگرچہ مختلف حکومتیں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے دعوے کرتی رہی ہیں، لیکن آج بھی ملکی جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس وصولی کی شرح خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں براہِ راست ٹیکسوں کے مقابلے میں بالواسطہ ٹیکسوں کا تناسب زیادہ ہے۔ بالواسطہ ٹیکس وہ ہوتے ہیں جو ہر شہری اپنی خریداری یا خدمات کے استعمال کے دوران ادا کرتا ہے، چاہے اس کی آمدن کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔ نتیجتاً ایک موٹرسائیکل سوار اور ایک لگژری گاڑی استعمال کرنے والا فرد بعض صورتوں میں یکساں شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخرتنخواہ دار طبقہ ہی کیوں زیادہ متاثر ہوتا ہے؟

مبصرین کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے افراد کی آمدن کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان سے انکم ٹیکس کی وصولی نسبتاً آسان ہوتی ہے۔ ان کی تنخواہوں سے ٹیکس براہِ راست کاٹ لیا جاتا ہے اور اس میں گنجائش کم ہوتی ہے کہ وہ اپنی اصل آمدن کو چھپا سکیں۔اقتصادی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں حقیقی آمدن کے باوجود ٹیکس وصولی نہایت محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور متعدد بالواسطہ ٹیکسوں کے باعث متوسط طبقہ خود کو معاشی دباؤ کا سب سے بڑا شکار سمجھتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ اس وقت بھی پاکستان میں ٹیکس نیٹ سے باہر کون ہے؟

ماہرین کے مطابق پاکستان میں زراعت، ریٹیل اور غیر رسمی کاروباری شعبوں کے بارے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔زرعی شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر اس سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن انتہائی کم ہے۔ اسی طرح ہزاروں دکاندار اور چھوٹے بڑے کاروبار ایسے ہیں جو یا تو مکمل طور پر غیر دستاویزی ہیں یا اپنی اصل آمدن ظاہر نہیں کرتے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر ان شعبوں کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے تو حکومت کو اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے اور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے طبقات پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔

اقتصادی ماہرین اور کاروباری نمائندے اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کو ایک آسان، شفاف اور منصفانہ ٹیکس نظام کی ضرورت ہے۔ ٹیکس قوانین کو سادہ بنانا، ڈیجیٹل نگرانی کو فروغ دینا، غیر دستاویزی معیشت کو رسمی معیشت کا حصہ بنانا اور تمام شعبوں کے لیے یکساں اصول متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ اعتماد بھی بحال کرنا ہوگا کہ عوام سے وصول کیے گئے ٹیکس شفاف انداز میں عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی سیلری کلاس ہر ماہ اپنی تنخواہ سے ٹیکس ادا کرتی اور یہ افراد اس کے بعد پھر روزمرہ زندگی میں بھی مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کا سوال سادہ مگر اہم ہے: کیا ٹیکس کا بوجھ ہمیشہ انہی لوگوں پر ڈالا جاتا رہے گا جو پہلے ہی نظام کا حصہ ہیں؟ ماہرین کے بقول آنے والے بجٹ اور مستقبل کی ٹیکس پالیسیوں کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ آیا حکومت ٹیکس نیٹ کو حقیقی معنوں میں وسعت دیتی ہے یا ایک مرتبہ پھر آسان ہدف سمجھے جانے والے تنخواہ دار طبقے پر ہی انحصار کرتی ہے۔ اگر معاشی انصاف اور پائیدار ترقی مطلوب ہے تو ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ، جامع اور مؤثر بنانا ناگزیر ہے۔

Back to top button