آزاد کشمیر میں کشیدہ صورتحال برقرار،راولاکوٹ میں کرفیو نافذ

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے دوسرے روز پونچھ ڈویژن کے مرکزی شہر راولاکوٹ میں صورتحال بدستور کشیدہ رہی۔دارالحکومت مظفرآباد سمیت مختلف علاقوں میں سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ رہے، جبکہ صبح سے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں دیکھی گئیں۔ اسی دوران خطے میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروسز کی معطلی بھی برقرار رہی۔

مقامی ذرائع کے مطابق راولاکوٹ میں بعض مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی اور کرفیو سے متعلق اعلانات بھی کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر پونچھ ممتاز کاظمی نے شہر میں کرفیو نافذ ہونے کی تصدیق کی۔

رہائشیوں کے مطابق شہر کی اہم شاہراہوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور مختلف مقامات پر شہریوں کی نقل و حرکت محدود کی جا رہی ہے۔ لانگ مارچ کے شرکا کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے داخلی راستوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بعض عناصر کے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل نے حالات کو مزید پیچیدہ بنایا ہے اور ریاست مخالف سرگرمیاں قابل قبول نہیں۔

خیال رہے کہ کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ کا آغاز 9 جون کو میرپور، کوٹلی اور پونچھ ڈویژن سے مظفرآباد کی جانب کیا گیا تھا۔ اس دوران کوٹلی میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ایک خاتون اور ایک ڈاکٹر سمیت کم از کم تین افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ اس سے قبل راولاکوٹ میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں بھی متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں سے آنے والے قافلے بنجوسہ کے مقام پر جمع ہو رہے ہیں، جبکہ وادی نیلم سے بھی مظاہرین کے ایک گروپ کی مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ 31 مئی کو حکومتی نمائندوں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی۔ بعد ازاں محکمہ داخلہ نے جوائنٹ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت کالعدم قرار دے دیا۔

تاہم کمیٹی نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اسی تناظر میں بعض رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے انعامات کا اعلان بھی کیا گیا ہے جبکہ چند رہنماؤں کے خلاف ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

Back to top button