امریکہ اور اسرائیل کی مدد کرنے والا بھی ہمارا دشمن ہو گا: ایران

ایرانی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سرزمین امریکا یا اسرائیل کے استعمال کے لیے فراہم نہ کریں، کیونکہ ایسی کسی بھی معاونت کو ایران کی جانب سے "دشمنی” تصور کیا جائے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایران پر حملوں کے لیے بہانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے ان حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کے حق کا استعمال کیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ علاقائی ممالک اپنی سرزمین امریکا یا اسرائیل کے استعمال کے لیے فراہم نہ کریں اور ایسی کسی بھی معاونت کو دشمنی تصور کیا جائے گا۔ ایران نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کو حملوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال انتہائی حساس ہے اور تمام پڑوسی ممالک کو کشیدگی میں اضافے کے بجائے امن، استحکام اور سفارتی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔
تہران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کے ممالک اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تنازعات میں مزید شدت کا باعث بن سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر امریکا محفوظ رہنا چاہتا ہے تو اسے خطے سے نکل جانا چاہیے۔عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نے میدانِ جنگ میں ناکامیوں کے باوجود ایران کے عزم کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
