وزٹ اور سٹڈی ویزوں کے لبادے میں یورپ جانے کا خفیہ نیٹ ورک بے نقاب

بہتر مستقبل، روزگار اور یورپ میں مستقل رہائش کی خواہش نے ہزاروں پاکستانیوں کو قانونی اور غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک جانے پر آمادہ کیا ہے۔ تاہم حالیہ سرکاری انکشافات کے مطابق وزٹ اور سٹڈی ویزوں کے غلط استعمال کے ذریعے یورپ پہنچنے کے لیے ایک منظم انسانی سمگلنگ نیٹ ورک سرگرم ہے، جو مختلف ممالک کو ٹرانزٹ روٹس کے طور پر استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو خطرناک اور غیر قانونی سفری راستوں پر دھکیل رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان سے یورپ جانے کے لیے غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے کا رجحان ایک مرتبہ پھر حکومتی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے حالیہ اجلاس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے انکشاف کیا کہ اس مقصد کے لیے ایک منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے، جو وزٹ اور سٹڈی ویزوں کے ذریعے شہریوں کو یورپ منتقل کرنے میں ملوث ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک دبئی، کمبوڈیا اور ملائیشیا جیسے ممالک کو عبوری راستوں کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ بعض صورتوں میں افراد کو قانونی ویزے پر ان ممالک تک پہنچایا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں مختلف غیر قانونی طریقوں سے یورپی ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کروائی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق صرف 2025 کے دوران ویزوں کے غلط استعمال کے دس ہزار سے زائد واقعات سامنے آئے ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق قبرص بھی اس سلسلے میں ایک اہم راستے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جہاں بعض پاکستانی طلبہ انگریزی زبان کے کورسز کی آڑ میں داخل ہوتے ہیں اور بعدازاں وہاں سے یورپ کے دیگر ممالک کا رخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض ایشیائی ممالک نے پاکستانی شہریوں کے ویزوں کے غلط استعمال کے باعث اپنی پالیسیوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے والے افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ڈی جی ایف آئی اے نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران لیبیا سے 175 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرکے واپس وطن بھجوایا گیا۔ اسی طرح کمبوڈیا کی حکومت نے بھی پاکستانی حکام کو اپنے ملک میں گرفتار کیے جانے والے پاکستانی شہریوں کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے۔ یہ واقعات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ غیر قانونی امیگریشن کا یہ نیٹ ورک صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پھیلا ہوا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق پاکستان کے اندر گجرات، منڈی بہاؤالدین اور ان کے گردونواح کے علاقے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شمار ہوتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ہر پندرہ روز بعد صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے اور متعلقہ رپورٹس مرتب کی جاتی ہیں۔غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے ایئرپورٹس پر نگرانی کا عمل بھی سخت کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق 2025 کے دوران مجموعی طور پر 39 ہزار 786 مسافروں کو مختلف قانونی وجوہات کی بنیاد پر بیرونِ ملک سفر سے روکا گیا۔ تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ کسی بھی شہری کو بلاجواز آف لوڈ نہیں کیا جاتا اور تمام فیصلے قانونی تقاضوں کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
یورپی یونین نے بھی پاکستان سے ہونے والی غیر قانونی امیگریشن پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکام کے مطابق اٹلی سمیت کئی یورپی ممالک نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھایا ہے، جبکہ بیلاروس سے پولینڈ غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے واقعات بھی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 580 پاکستانی شہری بیلاروس جانے کے بعد اب تک وطن واپس نہیں لوٹے۔قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ تقریباً دس ہزار پاکستانی شہریوں نے برطانیہ کے سٹوڈنٹ ویزوں کا غلط استعمال کیا۔ حکام کے مطابق تعلیمی ویزوں کے اس طرح کے استعمال نے کئی ممالک کو اپنی ویزہ پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں حقیقی طلبہ کے لیے بھی بیرونِ ملک تعلیمی مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے مطابق حکومت کی جانب سے انسانی سمگلنگ کے خلاف کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور یورپی یونین اور امریکی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ عوامی آگاہی، قانونی امیگریشن کے بہتر مواقع اور انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی بھی ناگزیر ہے۔ماہرین کے مطابق غیر قانونی راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش نہ صرف انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو محفوظ اور قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں انسانی سمگلروں کے جال میں پھنسنے سے محفوظ رہ سکیں۔
