شہزادہ ہیری کا ولیم کے ہاتھوں خود پر تشدد کا انکشاف

لیڈی ڈیانا اور شہزادہ چارلس کے چھوٹے بیٹے شہزادہ ہیری نے اپنی سوانح عمری میں منشیات استعمال کرنے کا اعتراف کرنے کے علاوہ یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ان کے بڑے بھائی ولیم نے ان پر بہیمانہ تشدد کر کے انہیں زخمی کر دیا تھا۔ شہزادہ ہیری کی سوانح عمری ’سپیئر‘ کے قبل از وقت سپین میں ریلیز ہو جانے کے بعد کتاب میں شاہی خاندان بارے سننسی خیز دعوے میڈیا میں چھائے ہوئے ہیں۔ کتاب میں شہزادہ ہیری نے شاہی خاندان کے اندر شکایات اور تلخیوں کے ذکر کے علاوہ اپنی ماضی کی زندگی سے منسلک جو دعوے کیے ہیں ان میں 25 طالبان جنگجووٴ کو مارنا بھی شامل ہے۔

شہزادہ ہیری کی طرف سے سب سے زیادہ حیرت انگیز دعوئوں میں سے ایک، سب سے پہلے گارڈین اخبار کی طرف سے رپورٹ کیا گیا تھا کہ ’ان کے بھائی نے ان پر جسمانی طور پر حملہ کیا تھا۔‘ کنسنگٹن پیلس اور بکنگھم پیلس دونوں نے کہا ہے کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ کتاب میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ شہزادہ ہیری اور شہزادہ ولیم نے اپنے والد پر زور دیا تھا کہ وہ کمیلا سے شادی نہ کریں۔ اس کتاب میں ہیری نے بھائی کے ساتھ جھگڑوں میں ہاتھا پائی تک ہونے کی تفصیلات اور منشیات لینے کے  تجربات کے بارے میں بھی بتایا ہے۔کتاب میں ہیری کے تمام دعوئوں میں غم، شکایت اور الزام تراشی کا لہجہ موجود ہے۔

شہزادہ ہیری کے بقول 2012 اور 2013 کے دوران افغانستان میں ایک ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی حیثیت سے انھوں نے چھ مشنز میں حصہ لیا۔ انھوں نے لکھا ’یہ میرے لیے قابلِ فخر اعداد و شمار نہیں لیکن میں ان پر شرمندہ بھی نہیں۔جب میں نے خود کو لڑائی کی شدت اور الجھن میں گھرا پایا تو میں نے ان 25 افراد کے بارے میں نہیں سوچا، وہ بس شطرنج کے مہرے تھے جو بساط سے ہٹا دیے گئے، برے لوگوں کو اچھے لوگوں کو مارنے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔ہیری کے ان دعوئوں کے بارے میں برطانوی فوج کے سابق کمانڈر ریچرڈ کیمپ نے  کہا کہ ان کا یہ انکشافات کرنا ایک غلط فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا ایسا کر کے ہیری نے اپنی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ ایسے دعوئوں کے بعد رد عمل میں ان سے بدلہ لینے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ ہیری نے کتاب میں لکھا ہے کہ انھوں نے اور ولیم نے اپنے والد کی منت کی کہ وہ کمیلا سے شادی نہ کریں کیونکہ انھیں خوف تھا کہ وہ ایک بری سوتیلی ماں بنیں گی۔ کمیلا اب کوین کونسورٹ ہیں۔ ہیری کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کا خیال تھا کہ وہ ایک ’بری سوتیلی ماں‘ ہوں گی لیکن وہ اور ان کے بھائی انھیں اس صورت میں دل سے معاف کردیں گے اگر وہ بادشاہ چارلس کو خوش رکھتی ہیں تو۔

چارلس اور کمیلا کی شادی سے قبل انکی اور انکے بھائی ولیم کی کمیلا کے ساتھ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں۔ تاہم اس بارے میں تفصیل نہیں دی گئی ہے کہ یہ ملاقاتیں کب ہوئیں اور اس وقت ہیری کی عمر کیا تھی۔ ہیری نے  بتایا کہ کس طرح اپنی ماں شہزادی ڈیانا کی وفات کے بعد وہ اداس رہنے لگے اور انھوں نے ایک خاتون سے رابطہ کیا جس کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاس خاص طاقتیں ہیں۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا گیا کہ اس خاتون سے کب اور کہاں ملاقات ہوئی۔ ہیری کا کہنا تھا کہ اس خاتون نے مجھے بتایا ’تمہاری ماں کہہ رہی ہے کہ تم وہ زندگی جی رہے ہو جو وہ نہیں جی سکی۔ تم وہ زندگی جی رہے ہو جو وہ تمہارے لیے چاہتی تھی۔‘ جب 1997 میں ایک کار حادثے میں ڈیانا کی موت ہوئی ہوئیں تو ہیری کی عمر 12 برس تھی۔

ہیری نے اپنی والدہ کے ساتھ ایک گفتگو کی تفصیل بھی لکھی ہے۔ ہیری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بھائی نے لندن کے ایک گھر میں انھیں گریبان سے پکڑا، اور فرش پر پٹخ دیا۔ اس دوران ان کے گلے میں جو ہار تھا وہ بھی ٹوٹ گیا۔ کتاب میں دونوں بھائیوں کی ایک تکرار کا بھی ذکر ہے جو ہیری کے مطابق میگھن کے بارے میں ولیم کے کسی تبصرے پر شروع ہوئی تھی۔ ہیری نے لکھا ہے کہ ان کے بھائی میگھن پر تنقید کرتے تھے اور میگھن کو ’مشکل، بدتمیز اور تلخ‘ قرار دیتے تھے۔ ہیری کے مطابق اس کے بعد ان دونوں میں ہاتھا پائی ہوئی۔ ہیری نے لکھا ’انھوں نے پانی کا گلاس زمین پر پھینکا، مجھے کسی دوسرے نام سے پکارا، پھر میری طرف آئے، یہ سب بہت جلدی ہوا، بہت تیزی سے۔انھوں نے مجھے کالر سے پکڑ لیا، میرا گلے کا ہار ٹوٹ گیا اور مجھے زمین پر پٹخ دیا۔

انہوں نے آگے لکھا میں کتے کے کھانے کے برتن پر گرا جو میرے کمر کے نیچے ٹوٹا، اس کے ٹکڑے میرے جسم میں چبھ گئے، میں ایک لمحے کو وہیں پڑا رہا، صدمے میں، پھر میں کھڑا ہوا اور انھیں وہاں سے چلے جانے کو کہہ دیا۔ہیری کا کہنا ہے کہ جب وہ 17 سال کے تھے تو کسی کے گھر پر انھیں کوکین کی پیش کش کی گئی جس کے بعد کئی دوسرے مواقع پر بھی انھوں نے کوکین کا نشہ کیا۔ اگرچہ انھیں اس کا لطف نہیں آیا۔ انھوں نے لکھا یہ زیادہ مزیدار نہیں تھا۔ اس نے مجھے اس طرح خوش نہیں کیا جیسے عموماً دوسرے لوگ ہوتے ہیں لیکن اس سے مجھے مختلف محسوس ہوا اور یہی میرا مقصد تھا۔‘ ہیری کتاب میں ایٹن کالج کے باتھ روم میں بھنگ پینے کا بھی ذکر کرتے ہیں اور ٹیمز ویلی پولیس کے افسران ان کے  محافظوں کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے عمارت کے بیرونی حصے میں گشت کیا  کرتے تھے۔

ہیری کے مطابق انہوں نے پیرس میں کار سے وہ سفر دہرایا جس میں ان کی والدہ ڈیانا کی موت ہوئی تھی، تاکہ انھیں سوالات کے جواب مل سکیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کے ذہن میں ڈیانا کی ہلاکت کی وجوہات کے بارے میں متعدد نئے سوال کھڑے ہو گئے۔ ہیری کا دعویٰ ہے کہ شاہی خاندان نے میگھن کے ساتھ ان کی شادی کی تاریخ اور مقام پر اپنی مرضی چلانے کی کوشش کی۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے ویسٹ منسٹر ایبی یا سینٹ پال کیتھیڈرل میں شادی کے امکان کے بارے میں اپنے بھائی سے مشورہ کیا تو ولیم نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ بالترتیب چارلس اور ڈیانا اور ولیم اور کیتھرین کی شادیوں کے مقامات تھے۔ ہیری کا کہنا ہے کہ اس کے بجائے ولیم نے ایک ایسے چرچ کا مشورہ دیا جو ان کے والد کے گاؤں میں گھر کے قریب تھا۔ لیکن ہیری اور میگھن مئی 2018 میں ونڈزر محل کے سینٹ جارج چیپل میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

چین نے 3سال بعد کورونا کے سبب بند سرحدیں کھول دیں

Back to top button