PTI الیکشن لڑنے کی بجائے مقبولیت کے گرم انڈے ہی بیچتی رھے گی؟

عمران خان کی تحریک انصاف کے پاس مقبولیت تو ہے مگر اس کو کیش کرانے والا نہ امیدوار بچا ہے، نہ پارٹی کے پاس الیکشن کا نشان ہے اور نہ ھی الیکشن لڑنے والی مشینری ہے۔ کپتان کے جس ورکر کو چھیڑ لو وہ کپتانیاں مارنے لگ جاتا ہے۔ عمرانڈو مقبولیت کے گرم انڈے جن کو وہ خود بھی ہاتھ لگاتے ڈرتے ہیں انہیں بیچنے لگ جاتے ہیں۔ بھئی وہ الیکشن ڈے پرفارمنس کے لیے مکینزم کدھر ہے؟ ووٹر پٹواریوں، جیالوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر آئے گا، مان لیا لیکن تحریک انصاف کے پولنگ ایجنٹ کدھر ہیں؟ بس مقبولیت ہی کا آسرا ہے۔ نیوز ویب سائٹ وی نیوز کی ایک تحریر میں کہا گیا ھے کہ بیرسٹر گوہر خان پی ٹی آئی کے چیئرمین لگے یا بنے ہوئے تھے۔ ان کا تازہ بیان ہے کہ ہم 90 فیصد سیٹیں جیتیں گے۔ بندہ پوچھے کہ سرکار آپ کے امیدوار کدھر ہیں؟ آپ کی پارٹی کا نشان کیا ہے؟ الیکشن مہم کس نے چلانی ہے؟ ۔ 13 جنوری کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کرنے ہیں۔ اس کے بعد الیکشن کی سمت واضح ہو جائے گی۔ کس پارٹی سے کسے ٹکٹ ملا۔ کون رہ گیا، الیکشن مہم چل پڑے گی ۔ مگر پی ٹی آئی ابھی الیکشن کے نشان کے لیے ہی مقدمے بازی میں الجھی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن وقت پر نہیں کروائے۔ جب الیکشن کمیشن کے کہنے پر کروائے تو اپنے آئین کے مطابق نہیں کرائے۔ الیکشن کمیشن نے نشان واپس لیا اور پارٹی الیکشن ماننے سے انکار کر دیا۔کیسی تھکی ہاری پارٹیوں کا یہ مسئلہ نہیں بنا جو پی ٹی آئی نے اپنے لئے بننے دیا۔ پارٹی لیڈر کی الیکشن لڑنے میں دلچسپی ہی نہیں تھی نہ ہے۔ وہ بس رولا ڈالے رکھنا چاہتے ہیں۔ہماری بدقسمتی دیکھیں کہ ہمارا اسپورٹس سپر اسٹار لیڈر جب وزیراعظم بنا تو عدم اعتماد سے ہٹائے جانے کا سامنا اسپورٹس مین سپرٹ سے کرنے میں ناکام رہا۔ وہی لوگ جو 3 سال ساتھ تھے دوڑ گئے۔ جو 3 وزیراعلیٰ بنائے تھے وہ پارٹی ہی چھوڑ گئے۔ کپتان نے یہ سب کرنے کے ساتھ ساتھ سائفر والی سازش بھی فٹ کی۔ اس کے بعد اللہ واسطے اپنے کارکن سپوٹر کو اتنا دوڑایا اتنا تھکایا۔ دے مار جلسے، دھرنے، لانگ مارچ، جلوس۔ اپنے ساتھ چاہت، عقیدت اور تعلق کا وہ امتحان لیا کہ بس کرا دی۔ اس کے بعد 9 مئی ہوا۔ سیاسی لیڈر گرفتار ہوں تو ایک وی کا نشان بناتے ہیں ۔ اپنے سپوٹروں کی غیرت جگاتے ہیں کہ تمہارے لیے جیل گیا۔ الیکشن کا خرچہ آدھے سے کم رہ جاتا ہے۔
کپتان نے ورکر کو کٹوانے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے پہلے سے تیاری کی۔ اب نتیجہ سامنے ہے
پاکستان میں اداروں پر تنقید مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ہو سکتی ہے۔ سیاستدان کو تنقید کرنی نہیں آتی اور باتیں کرنے پر پھنس جائے تو پھر اسے کوئی اور کام کر لینا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے کوشش کر کے دوست ملکوں میں اپنے لیے حالات خراب کیے۔۔ عمران خان کے ایران کے دورے پر جب موجودہ آرمی چیف بطور ڈی جی آئی ایس آئی ساتھ گئے تھے۔ جب سعودی طیارے سے اتارا گیا۔ جب یورپی یونین کے خلاف باتیں جلسے میں کی گئیں۔ جب سائفر کو سازش بنایا گیا۔ ایک لمبی لسٹ ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیکھ لیں، آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا، سیاسی ضرورت اور شرارت کے تحت تیل کی قیمت بڑھانی تھی الٹا کم کر دی گئی۔ کیا یہ بات نظر انداز ہو سکتی ہے۔ جب پی ڈی ایم حکومت آئی تو شوکت ترین کا صوبائی وزرائے خزانہ سے کہنا کہ آئی ایم ایف کو صوبائی وزرائے خزانہ سپورٹنگ لیٹر نہ فراہم کریں تاکہ ڈیل نہ ہو۔ آئی ایم ایف ایک طرح سے عالمی مالیاتی اداروں اور سسٹم کی وڈی امی ہے۔ اس کے ساتھ اس قسم کے پنگے کرنے کے بعد وہاں کتنی حمایت بچی ہو گی؟ یہ مشورہ کس کا تھا۔ یہ بات کون بھولے گا۔پاکستانی ریاست ایک تو وہ ہے جس کو ہم سویر شام مذہبی جوش خروش کے ساتھ دھوتے ہیں۔ ہر چوک چوراہے میں اپنا ساڑ نکالتے ہیں۔ ایسا کرتے ایک حقیقت نظر انداز بھی کرتے ہیں کہ ہمارے کچھ پلس پوائنٹ بھی ہیں۔ ہم ایٹمی طاقت ہیں۔ ہم دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہیں۔ ہمارے خطے میں کئی دہائیوں سے جنگ ہی چلی آئی ہے۔ یہ جنگ وہی جیتا ہے جس کے ساتھ ہم ہوئے ہیں۔ جو بھی اس کو جیت کہے گا وہ ہمارا نام نہ بھی لے تو سب لیں گے۔ ہم 25 کروڑ ہیں، دنیا میں ایک اہم کارنر پلاٹ پر رہتے ہیں۔ 3 ویٹو پاور، 2 اکنامک پاور کے ہمسائے ہیں۔ سارے ہی ہم سے کسی نہ کسی بات پر دکھی رہتے ہیں۔ سب ہی کو ہم سے کام بھی ہے۔ ایسا کوئی بھی ملک ہوتا، اس کا کوئی چیف ہوتا، ایسی سیاسی جماعتیں ہوتیں، اس کا کوئی کپتان ہوتا، جس نے یہ سب کیا ہوتا اس کے ساتھ وہی ہوتا جو ہمارے کپتان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ نہیں یقین تو دیکھ لیں امریکی کپتان (ٹرمپ) کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ان حالات میں پی ٹی آئی نے کیا الیکشن لڑنا ہے۔ البتہ وہ لڑے بغیر الیکشن جیتنے کا تاثر ضرور بنانا چاہتی ہے۔
