نون لیگ کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم میں تاخیر کیوں؟

مسلم لیگ ن کے پارلمانی بورڈ نے 31 دسمبر تک ملک بھر سے تقریباً 23 سو انتخابی امیدواروں کے انٹرویوزمکمل کرلیے ہیں لیکن ابھی تک پارٹی کی جانب سے طرف سے بلوچستان کے علاوہ کسی کو بھی ٹکٹ کنفرم کرنے کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی ہے حتٰی کہ ابھی تک لاہور کے 14 حلقوں کے ٹکٹوں کا فیصلہ بھی نہیں ہو سکا ہے۔ن لیگ کے سینئر رہنماؤں کی اب بیٹھک ماڈل ٹاؤن پارٹی سیکریٹریٹ کے بجائے جاتی امرا میں ہو رہی ہے، 35 رکنی پارلیمانی بورڈ نے بھی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی رپورٹ لیگی قیادت کو پیش نہیں کی ہے۔
لیگی ذرائع کے مطابق اس وقت ٹکٹوں کی تقسیم پارٹی کا اہم مسئلہ بنا ہوا ہے، بلوچستان کے علاوہ پنجاب سمیت پورے پاکستان میں امیدوار ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، 8 فروری الیکشن کا دن ہے لیکن ابھی تک نون لیگ ٹکٹس کی تقسیم بارے فیصلہ نہیں کر سکی۔ ذرائع کے مطابق فیصلہ نہ ہونے کی بڑی وجہ پارٹی قیادت کنفیوژن کا شکار ہے کہ اگر الیکشن نہ ہوئے اور امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دیے گئے تو پارٹی میں پھوٹ پڑسکتی ہے۔
وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق لیگی پارلیمانی بورڈ کی جانب سے ممکنہ امیدواروں کے انٹرویوز کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ اب لیگی قیادت تمام صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے اگر پارٹی کو الیکشن ہوتے دکھائی دیے تو ٹکٹ جاری کرنے کا عمل آئندہ چند روز میں شروع ہو جائے گا کیونکہ نواز شریف نہیں چاہتے کہ اس مشکل صورتحال میں ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض عناصر سے کوئی سیاسی نقصان ہو۔اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے انتخابی ٹکٹ کی تقسیم کا معاملہ اب نواز شریف سمیت شہباز شریف، حمزہ شہباز، مریم نواز، اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب اور رانا ثناء اللہ ہی دیکھ رہے ہیں۔
لیگی ذرائع نے بتایا کہ ٹکٹوں میں تقسیم میں تاخیر کی دوسری بڑی وجہ سیٹ ایڈجسمنٹ بھی ہے ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ پارٹی کسی جماعت کے ساتھ کہاں پر سیٹ ایڈجسمنٹ کرنا چاہتی ہے مثال کے طور پر لاہور کا حلقہ این اے 117 ہے جہاں سے آئی پی کے صدر علیم خان الیکشن لڑ رہے ہیں وہاں سے ن لیگی امیدوار ایاز صادق اور ملک ریاض نے کاعذات جمع کروائے ہیں۔
اس کا فیصلہ نہیں ہو پارہا کہ یہاں پر سیٹ ایڈجسمنٹ کرنی ہے یا پارٹی اپنے امیدوار کو ٹکٹ جاری کرے گی، اسی طرح ضلع گجرات میں عابد رضا کوٹلہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ مسلم لیگ ق کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ قبول نہیں کریں گے، عابد رضا کوٹلہ مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنے والوں میں سے ہیں، وہاں سیٹ ایڈجسمنٹ کی صورت میں ہوسکتا ہے پارٹی انہیں ٹکٹ جاری نہ کرے۔
اسی طرح ساہیوال سے ملک نعمان لنگڑیال سیٹ جبکہ اسحاق خاکوانی وہاڑی سے سیٹ ایڈجسمنٹ چاہتے ہیں، طارق بشیر چیمہ اپنے حلقے سے ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب لیگی رہنما طلال چوہدری اور دانیال عزیر کا معاملہ بھی زیر غور ہے جس پر پارٹی سوچ بچار کر رہی ہے کہ اگر سیٹ ایڈجسمنٹ کرنا بھی ہے تو کون سے ایسے حلقے ہیں جہاں ان کے دیرینہ رہنما یا کارکن ناراض نہ ہوں اور اگر ہوں تو انہیں کہاں ایڈجسٹ کیا جائے۔
اس لیے نواز شریف خود چاہتے ہیں کہ ٹکٹوں کی تقسیم صبر و تحمل سے کی جائے، ن لیگ نے تقریباً تمام حلقوں سے امیدواروں کی عوامی پذیرائی کے سروے بھی کروائے ہیں، ڈویژن سطح پر رپورٹس بھی مرتب کی گئی ہیں، تاہم کچھ حلقوں کی رپوٹس اب موصول ہوئی ہیں،لیگی قیادت انتخابی صورتحال دیکھتے ہوئے ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کرے گی۔
