بزدار نے بھی PTIناقدین کو کھری کھری سنا دیں

عمران خان کے وسیم اکرم پلس عثمان بزدار کی جانب سے فوج سے محبت میں سیاست سے کنارہ کشی کے بعد جہاں ایک طرف ان کے عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی خبرٰن زیر گردش ہیں وہیں عثمان بزدار نے کھلے الفاظ میں پارٹی قیادت کی طرف سے  اپنے خلاف ناروا سلوک پر آواز اٹھا دی ہے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے خاندانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کا ایک بھی رکن عثمان بزدار کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا اور نہ ہی ان کی سماعتوں پر عدالتوں میں ان کے ساتھ گیا۔ہم نے کبھی شکایت نہیں کی اور سابق وزیراعلیٰ نے اکیلے ہی ان تمام مقدمات کا ذاتی طور پر سامنا کیا۔

بزدار کے خاندانی ذرائع نے سوال کیا کہ کتنے پارٹی کارکنوں یا رہنماؤں نے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا یا آواز اٹھائی کہ انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان حالات میں سردار عثمان بزدار کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو عمران خان کو چھوڑ دیں یا سیاست چھوڑ دیں، انہوں نے بعد کا انتخاب کیا اور بغیر کسی دباؤ کے پریس کانفرنس میں اعلان کر دیا۔

سیاست چھوڑنے کے اعلان کے بعد سابق وزیراعلیٰ پر ہونے والی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے سردار عثمان بزدار کے خاندانی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ وہ مانا جس کا عمران خان نے انہیں کرنے کا کہا۔انہوں نے کسی بھی لمحے خان کو دھوکا نہیں دیا۔ حتیٰ کہ جب خان نے انہیں بتایا کہ انہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو بزدار نے ان کے فیصلے پر عمل کیا اور بغیر سوال پوچھے ان کی حمایت کی۔کیا کسی نے پرویز خٹک یا پی ٹی آئی کے کسی دوسرے لیڈر پر تنقید کی ہے جنہوں نے پارٹی چھوڑی ہے؟ یہ تنقید صرف عثمان بزدار پر ہی کیوں، صرف اس لیے کہ وہ سافٹ ٹارگٹ ہیں؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ بزدار گزشتہ 14 ماہ کے دوران ہم پنجاب کے مختلف شہروں میں سیاسی تشدد کا شکار رہے ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔پارٹی کا ایک بھی رکن عثمان بزدار کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا اور نہ ہی ان کی سماعتوں پر عدالتوں میں ان کے ساتھ گیا۔ ہم نے کبھی شکایت نہیں کی اور سابق وزیراعلیٰ نے اکیلے ہی ان تمام مقدمات کا ذاتی طور پر سامنا کیا۔بزدار کے خاندانی ذرائع نے سوال کیا کہ کتنے پارٹی کارکنوں یا رہنماؤں نے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا یا آواز اٹھائی کہ انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب عمران خان کے وسیم اکرم پلس کہلانے والے عثمان بزدار نے جس سبک رفتاری سے سیاست اور پی ٹی آئی کو چھوڑ کر فوج کی حمایت میں بیان جاری کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار نے جس طرح تحریک انصاف کو چھوڑ کر فوج سے محبت کا دم بھرا ہے وہ اپنے ہی سابق کپتان عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن سکتے ہیں۔جنوبی پنجاب کے علاقے تونسہ سے تعلق رکھنے والے چون سالہ عثمان بزدار کو پچھلے چودہ مہینوں سے کرپشن کے متعدد مقدمات کا سامنا تھا۔ 2 جون کے روز ایک مختصر پریس کانفرنس میں انہوں نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔

عثمان بزدار کی سیاست سے دستبرداری بارے سینئر تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ان کے لیے عثمان بزدار کے سیاست چھوڑنے کا اعلان اس لیے حیران کن نہیں ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ عثمان بزدار بہت کمزور آدمی ہیں اور ان میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ کسی دباؤ کا زیادہ دیر مقابلہ کر سکیں۔نیازی کے بقول، ”عمران خان نے اس شخص کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا لیکن یہ عمران خان کو جتنی جلدی چھوڑ گیا ہے اس سے مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سردار عثمان بزدار عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن سکتے ہیں۔

تاہم ممتاز تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی ملکی تاریخ میں لوگ سیاسی وفاداریاں بدلتے رہے ہیں لیکن پاکستانی سیاست میں یہ پہلی دفعہ دیکھا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ سیاست سے ہی کنارہ کش ہوتے جا رہے ہیں۔سلمان غنی کا مزید کہنا تھا، ” اسی طرح ماضی میں اداروں کی مخصوص پالیسیوں یا ان کے کچھ مخصوص طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن جس طرح ماضی قریب میں اداروں کو براہ راست ٹارگٹ کیا گیا ہے وہ ایک نیا رجحان ہے اور اسی وجہ سے نوبت موجودہ حالات تک پہنچی ہے۔ ‘‘

واضح رہے کہ عثمان بزدار پی ٹی آئی کے دور حکومت میں تین سال سے زائد عرصے تک پنجاب صوبے کے وزیراعلیٰ رہے۔ انہیں پی ٹی آئی کے متعدد اہم اور سینئر لیڈروں کو نظر انداز کرکے عمران خان نے وزیر اعلی بنایا تھا۔کہا جاتا ہے کہ پچھلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بار بار کے مشوروں کے باوجود عمران خان نے انہیں وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔عثمان بزدار کی بطور وزر اعلی کارکردگی سے متعلق پی ٹی آئی میں ان کے خلاف خبریں گردش کرتی رہتی تھیں لیکن چیئرمین پی ٹی آئی عمراان خان نے ہمیشہ ان کی کارکردگی کو سراہا اور وہ انہیں ”وسیم اکرم پلس‘‘ قرار دیتے تھے۔بعد ازاں سیاسی حالات بدل جانے کے بعد عمران خان نے اپنی حکومت کے آخری ایام میں عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹا کر پرویز الٰہی

شہدا کی توہین کرنے والوں کا احترام نہیں کریں گے

کو پنجاب کا وزیراعلیٰ مقرر کیا تھا۔

Back to top button