سہیل وڑائچ کا عمران خان کو قوم سے سر عام معافی مانگنے کا مشورہ

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ عمران خان سمیت ماضی میں گیٹ نمبر چار کی سیاست کرنے والے جو بھی سیاستدان آج خود کو فوج کا مخالف اور جمہوریت کا چمپئین ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے جمہوری چولا کسی کمٹمنٹ کے تحت نہیں بلکہ اپنے ذاتی اور وقتی فائدے کے لیے اوڑھا ہے، لہذا ان پر تب تک یقین نہیں کیا جا سکتا جب تک یہ ڈھونگی سرعام توبہ کر کے عوام سے معافی نہیں مانگتے اور دوبارہ ماضی کا رویہ نہ دہرانے کا اعلان نہیں کرتے۔

اپنی تازہ تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ خوشی کی بات ہے کہ ماضی کے بہت سے سیاسی گناہ گار جمہوریت پسندی کا راگ الاپ رہے ہیں، وہ جنہوں نے ماضی میں اپنے ذاتی اور وقتی فائدوں کیلئے جمہوری نظام کو اس حال تک پہنچایا، وہ آج جمہوریت کا چولا پہن کر بھاشن دے رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جمہوریت کا دامن بہت وسیع ہے ماضی کے سیاسی گناہ گاروں کیلئے دروازے کھلے ہیں کہ وہ بھی جمہوری میدان میں آ کر کھڑے ہو جائیں مگر اس کیلئے پہلی شرط ماضی کے غیر جمہوری گناہوں سے سرِعام توبہ کرنا ہے۔ اگر یہ آج واقعی جمہوری ہوگئے ہیں تو یہ کم از کم قیمت ہے جو انہیں ادا کرنی چاہیے، مگر افسوس کہ جمہوریت کے یہ نئے سپاہی نہ تو اپنے ماضی کی غلطیوں کی معافی مانگتے ہیں اور نہ ہی توبہ کرتے ہیں۔ لیکن پھر یہ توقع بھی کرتے ہیں کہ انہیں بلا شک و شبہ جمہوریت کا لیڈر مان لیا جائے۔ تاہم تاریخ میں ایسا کبھی ہوا ہے نہ اب ہوگا۔ آج کل روایت چل نکلی ہے کہ مارشل لاؤں کی چھتری میں وزارتیں لینے والے ہوں یا گیٹ نمبر 4 سے سیاست میں داخل ہونے والے ہوں، خود کو جی ایچ کیو کے نمائندے کہنے والے ہوں یا ایمپائر کی انگلی کھڑی ہونے کا انتظار والے ہوں، یہ سب اپنے تئیں جمہوریت کے سب سے بڑے چیمپئن اور فوج کے مخالف بنے ہوئے ہیں، یہ اپنے ماضی کو وقتی طور پر بھلا کر اور بھیس بدل کر جمہوری رنگ اختیار کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ انکی دِلی کمٹ منٹ نہیں صرف ذاتی اور وقتی فائدے کیلئے وہ ایسا کر رہے ہیں، لہازا کوئی کیسے ان پر یقین کرے؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جمہوریت کے ان نئے حامیوں میں تازہ ترین اضافہ شیخ رشید کا ہے۔ وہ میرے پسندیدہ بھی ہیں اور متنازع ترین بھی۔ مجھے ان کی عوامی سیاست پسند ہے مگر ان کی زبان اور فوج سے لائن لینا ناپسند رہا ہے۔ شیخ رشید ماضی میں فخریہ خود کو جی ایچ کیو کا نمائندہ کہتے رہے ہیں، جنرل ضیا الحق کا مارشل لا ہو یا جنرل مشرف کا مارشل لا وہ ہر دور میں ان کی ترجمانی کرتے رہے، موصوف بڑی ڈھٹائی کے ساتھ مسلسل جمہوری لیڈروں کو فوج کے ایما پر طنز و تشنیع کا نشانہ بناتے رہے بلکہ ان کی توہین کرتے رہے۔ ابھی انہوں نے جیل کا صرف ایک چلہ کاٹا ہے تو ان کی آنکھیں کھل گئی ہیں، ہزاروں جمہوریت پسند صرف اور صرف کمٹمنٹ کے تحت مارشل لا ادوار میں کوڑے کھاتے رہے، اور جیلیں بھگتتے رہے، جبکہ شیخ صاحب ان ادوار میں فوجی آمروں کا بھونپو بن کر انہی کے راگ الاپتے رہے۔ آج اگر انہیں اپنے داغدار ماضی پر شرمندگی ہے تو پہلے توبہ کا اعلان کریں اور پھر جمہوری قبا پہنیں۔

ٹی 20 ورلڈ کپ: افغانستان کو شکست، جنوبی افریقہ فائنل میں

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ یہی کچھ محمد زبیر اور اسد عمر صاحبان کا معاملہ ہے۔ انکے والد جنرل غلام عمر، فوجی آمر جنرل یحییٰ کے مشیر کی حیثیت سے عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ روکنے کی سازش میں شریک تھے، کیا انہیں نہیں چاہیے کہ وہ سرعام اپنے والد کے اس گھناونے کردار پر معافی مانگیں، اسکے بعد ہی انہیں جمہوری سیاست میں خوش آمدید کہا جائیگا۔ سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ کچھ ایسا ہی حال مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کا بھی رہا ہے۔ یہ دونوں بڑے قابل احترام سہی مگر جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا دور میں ایل ایف او پر دستخط کرنا ان کے جمہوری دعووں پر ایک سیاہ داغ ہے۔ قاضی صاحب تو اگلے جہاں چلے گئے لیکن ان کی جماعت کو اس گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہیے اور توبہ کا اعلان بھی کرنا چاہیے، یہی عمل مولانا فضل الرحمن کو بھی دہرانا ہوگا تبھی ان کی فوج کیخلاف آواز پُر اثر ہو سکے گی ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ وہ اپنا ریٹ بڑھانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ آج کے مقبول ترین بیانیے کے لیڈر عمران خان بھی ماضی میں فوج کے ٹٹو کا کردار ادا کرنے اور اس کے سہارے سے اقتدار میں انے کے گناہ میں شریک رہے ہیں۔ فوج کے ساتھ ایک صفحے پر ہونے، اسکے ساتھ مل کر دھرنے دینے اور ان کی تعریفیں کرنے پر خان صاحب کی توبہ سب سے پہلے بنتی ہے، میڈیا اور اپوزیشن پر فوج کیساتھ مل کر حملے کرنے والے عمران خان کے جمہوری دعووں پر کوئی تب تک یقین نہیں کرے گا جب تک وہ اپنے داغدار ماضی پر سرعام اظہار ندامت نہیں کرتے اور قوم سے معافی نہیں مانگتے۔

اسی طرح نواز شریف بھی جنرل ضیا الحق کے دور میں ہی سیاست میں آئے اور ان کے پُرزور حامی رہے، انہیں بھی پہلی فرصت میں جنرل ضیا کی کوڑوں، جیلوں اور پھانسیوں کی سزائیں دینے والی حکومت میں شریک رہنے پر توبہ کرنی چاہیے۔ چودھری پرویز الٰہی جیل کاٹ کر ’’پاک صاف‘‘ ہو گئے ہیں لیکن جنرل مشرف کے دور میں فوج کے اشارے پر ق لیگ بنانے اور جنرل ضیا کے دور میں انکی حمایت انکے غیر جمہوری رویوں کا ثبوت ہے۔ اگر اصلی اور نسلی جمہوری ہونا ہے تو وہ بھی ماضی کے ان گناہوں سے توبہ کریں۔ سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ توبہ کی اس شرط کا اطلاق صرف سیاست دانوں پر نہیں بلکہ ججوں، جرنیلوں، جرنلسٹوں اور حتیٰ کہ ان عام لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو ماضی میں مارشل لاؤں کو اچھا سمجھتے رہے ہیں، انکی حمایت کرتے رہے ہیں یا ان کے ممد و معاون رہے ہیں۔ اگر تو یہ واقعی دل سے جمہوری ہوگئے ہیں تو ان کیلئے کم از کم شرط ماضی کے رویوں پر معافی اور توبہ ہے جو لوگ ماضی کے ان گناہوں کی توجیہ بیان کرتے ہیں وہ دراصل اپنے اس غیر جمہوری گناہ کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ناقابل قبول ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ آج اشوکا کا دور نہیں کہ ماضی کا ظالم ترین حاکم بدلے تو اسے رحم دل ترین بادشاہ کے نام سے یاد رکھا جائے۔ آج کے میڈیا دور میں ماضی کی غلطیاں اور گناہ نہ کسی کو بھولتے ہیں نہ انہیں مٹانا آسان ہے مگر چونکہ جمہوریت کا دامن وسیع ہے اور اس میں ہر کسی کی ہر وقت شمولیت کے مواقع موجود ہیں، اس لئے نئے جمہوریت پسندوں سے گزارش ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اس قافلے میں شامل ہوں، یہ نہ ہو کہ آج کے جن حالات سے گھبرا کر وہ ’’مسلمان‘‘ ہو رہے ہیں، کل حالات بدل جائیں تو انہیں پھر ’’کافر‘‘ ہونا پڑ جائے۔

Back to top button