کوئٹہ: سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکا، 5 افراد جاں بحق

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے زرغون روڈ پر واقع سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق کوئٹہ کے زرغون روڈ پر سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں زورداردھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنائی دی۔
دھماکے سے ہوٹل کی پارکنگ میں کھڑی متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی جبکہ دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوئے۔لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کر دیا گیا اور اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے۔جاں بحق افراد میں ہوٹل کا سیکیورٹی گارڈ اور ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے جبکہ دھماکے میں 2 اسسٹنٹ کمشنرز بھی زخمی ہوئے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہیں فائر اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔دھماکے کی نوعیت کا تاحال تعین نہیں کیا جاسکاجبکہ زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرینٹنڈنٹ ارباب کامران کاسی نے اموات اور زخمیوں کی تصدیق کی اور کہا کہ دو زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔بلوچستان پولیس کے انسپکٹرجنرل (آئی جی) طاہر رائے نےسرینا ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکے کی تصدیق کی۔ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل کے اطراف کو گھیرے میں لیا گیا ہے اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کو واقعے کی تفتیش کے بھی بھیج دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی کوئٹہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ دھماکا پارکنگ میں ہوا اور ہمارے سی ٹی ڈی کے عہدیدار اندر موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی اطلاع کے مطابق 5 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوگئے ہیں، جائے وقوع کر گھیرے میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہوٹل میں کوئی غیرملکی سفیر موجود نہیں تھے اور ہوٹل میں کوئی وفد بھی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ دھماکے سے 5 سے 6 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے اور زخمیوں میں سے اکثر کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ہوٹل کی ویب سائٹ کے مطابق ‘سرینا ہوٹل کوئٹہ شہر میں واحد فور اسٹار ہوٹل ہے جہاں اقوام متحدہ کےمعیار کے مطابق سیکیورٹی اورماحول ہے’۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ‘کوئٹہ میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت’کی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اورنگ زیب بادینی نے ٹوئٹر پر کہا کہ دھماکے کے زخمیوں کو ہسپتال منقتل کردیا گیا ہے اور حالات قابو میں ہیں۔انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ افواہیں اور خوف و ہراس پھیلانے سے گریز کریں۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘وفاقی وزارت داخلہ حکومت بلوچستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ابتدائ تحقیقات کی جارہی ہیں جوں ہی دھماکے کی نوعیت اور نقصانات کا تعین ہو گا حکومت بیان جاری کرے گی’.
گزشتہ ہفتے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی تحصیل حب میں فٹبال میچ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد زخمی ہو گئے تھے۔حب میں الہ آباد ٹاؤن کے علاقے میں شہدائے پولیس کے اعزاز میں منعقدہ فٹبال میچ کے دوران زوردار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں ایک درجن افراد زخمی ہوئے تھے۔اسسٹنٹ کمشنر لسبیلہ لیفٹیننٹ (ر) محمد احمد ظہیر ہسپتال نے مریضوں کی عیادت کے بعد ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھماکے میں دو افراد زیادہ زخمی ہوئے لیکن ان کی حالت بھی خطرے سے باہر ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس فروری میں کوئٹہ میں ڈی سی آفس کے قریب انسکومب روڑ پر بم دھماکے سے 2 افراد جاں بحق اور 5 شہری زخمی ہوگئے تھے۔سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ارباب کامران کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں 2 لاشیں لائی گئی تھیں اور 4 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے لایا گیا تھا۔ڈپٹی کمشنر میجر (ر) اورنگ زیب بادینی نے بتایا تھا کہ دھماکے کا مقصد بظاہر یوم یک جہتی کشمیر کی ریلی کو نشانہ بنانا تھا جو قریب سے گزر رہی تھی۔
خیال رہے کہ بلوچستان گزشتہ چند سالوں سے بدامنی کا شکار ہے اور یہاں سیکیورٹی فورسز پر حملے، دھماکے اور مختلف واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، جس کے پیچھے بیرون دشمنوں کا ہاتھ ہونے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ بلوچستان گزشتہ چند سالوں سے بدامنی کا شکار ہے اور یہاں سیکیورٹی فورسز پر حملے، دھماکے اور مختلف واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، جس کے پیچھے بیرون دشمنوں کا ہاتھ ہونے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے۔
جنوری میں بلوچستان کے ضلع مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 10 کان کنوں کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا جس کے نتیجے میں شدید احتجاج کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 2020 کے آخری مہینے میں بھی بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ، دھماکے سمیت لوگوں کی لاشیں بھی ملیں تھیں۔
27 دسمبر کو بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی پوسٹ پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 7 جوان شہید ہوگئے تھے۔
اس سے ایک روز قبل 26 دسمبر کو بلوچستان کے ضلع پنجگور میں دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے تھے۔
پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ دھماکا مقامی گراؤنڈ میں فٹ بال میچ کے دوران ہوا تھا جس سے قریبی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
23 دسمبر کو صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے سلک کور میں کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک اور ایک کو گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا حوالدار شہید ہوگیا تھا۔
22 دسمبر کو آواران میں ہی خفیہ اطلاع پر کیے گئے آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 10 مشتبہ دہشتگرد ہلاک ہوگئے تھے۔
قبل ازیں 21 دسمبر کو ضلع آواران کے قریب سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کا ایک جوان شہید ہوا تھا۔
مزید برآں دسمبر کے اوائل میں لیویز فورسز نے مکران ڈویژن کے ضلع کیچ میں 2 مختلف مقامات سے 5 گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button